1600 پاونڈز ماہانہ لیں اور کچھ نہ کریں، اے آئی کے مستقبل میں خوش آمدید

ہر ہفتے، 282 برطانوی پاونڈز ایلینر او ڈونووَن کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتے ہیں۔

ستائیس سالہ یہ فنکار ایک کثیرالجہتی آرٹسٹ ہے جو مجسمہ ساز ہیں اور فلمیں و تنصیبات تیار کرتی ہے، مگر یہ رقم اس کے کام کا معاوضہ نہیں۔ نہ یہ کوئی سرکاری وظیفہ ہے اور نہ کسی سخی سرپرست کا تحفہ۔ اس رقم کے لیے آمدنی کی جانچ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے بدلے کچھ تخلیق کرنے کی کوئی شرط ہے، وہ اسے جس طرح چاہے خرچ کر سکتی ہے۔

یہ بات سننے میں شاید حقیقت سے زیادہ اچھی لگے، مگر او ڈونووَن ان دو ہزار فنکاروں اور ثقافتی کارکنوں میں شامل ہیں جو اس وقت آئرلینڈ میں بنیادی آمدنی کے ایک آزمائشی منصوبے میں شریک ہیں۔

2024 میں آئرش حکومت نے آٹھ ہزار سے زیادہ اہل درخواست گزاروں میں سے قرعہ اندازی کے ذریعے مصوروں، موسیقاروں، فلم سازوں، لکھنے والوں، اداکاروں، رقاصوں اور تیرہ سرکس فنکاروں کو منتخب کیا، جنہیں تین سال تک ہر ہفتے یہ رقم بغیر کسی شرط کے دی جا رہی ہے۔

او ڈونووَن کے لیے، جو پہلے پارٹ ٹائم ریسیپشن پر کام کرتی تھیں، یہ تجربہ زندگی بدل دینے والا ثابت ہوا ہے۔

وہ کہتی ہے: ’یہ حیرت انگیز ہے۔ اب میں اپنی فنکاری پر زیادہ وقت صرف کر سکتی ہوں۔ یہ جان کر کہ تین سال تک رقم ملتی رہے گی بہت بڑا سکون ہے۔ اس استحکام کی وجہ سے میری ذہنی حالت بہتر ہوئی ہے۔ میں سکون سے سانس لے سکتی ہوں اور واقعی اس پر توجہ دے سکتی ہوں کہ میں کیا حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘

آئرلینڈ کا یہ منصوبہ دنیا بھر میں جاری سینکڑوں تجربات میں سے صرف ایک ہے۔ یہ سب ایک بڑھتی ہوئی تحریک کا حصہ ہیں جو عالمی بنیادی آمدنی (Universal Basic Income – UBI) کی وکالت کرتی ہے: یعنی معاشرے کے ہر فرد کو باقاعدہ وقفوں سے بغیر شرط ایک معیاری رقم دی جائے۔

سکاٹ لینڈ اور ویلز میں بھی اس کے محدود پیمانے پر تجربات ہو چکے ہیں۔ اسی دوران اگر منظوری مل گئی تو انگلینڈ کا پہلا آزمائشی منصوبہ شمال مشرقی علاقے جارو اور شمالی لندن کے ایسٹ فنچلی میں تیس افراد کو ہر ماہ 1600 پاونڈز دے گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ اس کا ان کی ذہنی و جسمانی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے اور آیا وہ کام کرنا جاری رکھتے ہیں یا نہیں۔

سب کے لیے عالمگیر آمدن کا تصور نیا نہیں۔ اس کا ذکر 1516 میں تھامس مور نے اپنی کتاب ’یوٹوپیا‘ میں کیا تھا۔ آج بھی بہت سے لوگ اسے ایک نہایت انقلابی، بلکہ ناقابل برداشت حد تک مہنگا خیال سمجھتے ہیں۔ تاہم اس کے حامی، جن میں مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم بھی شامل ہیں، کہتے ہیں کہ یہ جدید دنیا کے چیلنجوں کا عملی حل ہو سکتا ہے اور معاشرتی مسائل کم کر کے بالآخر حکومتوں کے اخراجات بھی کم کر سکتا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول ماڈل کے مطابق رہائش، بچوں کی نگہداشت اور معذوری جیسے شعبوں میں موجود فوائد کا نظام جاری رہے گا اور اس کے ساتھ بنیادی آمدن بھی دی جائے گی تاکہ کوئی شخص نقصان میں نہ جائے۔ یو بی آئی ٹیکس کے نظام کے کچھ حصوں کی جگہ لے سکتی ہے۔

مثال کے طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ ذاتی آمدن کی حد ختم ہو سکتی ہے اور لوگ اپنی پوری آمدن پر ٹیکس ادا کریں گے۔ تصور یہ ہے کہ کم اور متوسط آمدن والے افراد کو بنیادی آمدن کے ذریعے اس سے کہیں زیادہ واپس مل جائے گا۔

اس بارے میں بحث اب بھی جاری ہے کہ عملی طور پر یہ نظام کیسے چلے گا۔ کچھ ناقدین، جن میں یونیورسٹی آف باتھ کے ڈاکٹر لیوک مارٹینیلی بھی شامل ہیں، کہتے ہیں کہ اس سے کم آمدن والے افراد کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ جو رقم اب ان پر خرچ ہوتی ہے اس کا کچھ حصہ زیادہ آمدن والوں کو بھی دیا جائے گا جنہیں اس کی ضرورت نہیں۔ بعض دوسرے ناقدین کے مطابق اس سے عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ امیر افراد پہلے سے زیادہ دولت حاصل کر لیں گے۔

البتہ ایک بات واضح ہے: کام کرنے کا طریقہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ یو بی آئی کے مطالبات میں شدت کی ایک بڑی وجہ مصنوعی ذہانت کا روزگار پر اثر ہے جسے اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے آغاز کے بعد پہلے ہی سال میں امریکہ میں 14 فیصد کارکن اپنی نوکریاں ’روبوٹس‘ کے ہاتھوں کھو بیٹھے۔

ٹیکنالوجی کے رہنماؤں، جن میں ایلون مسک بھی شامل ہیں، بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا اصل خطرہ دنیا پر روبوٹس کی فوج کے قبضے سے کم اور ملازمتوں کے خاتمے سے زیادہ ہے۔ سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساکس کی ایک پیش گوئی کے مطابق تین سو ملین تک نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں خودکاری زیادہ تر جسمانی یا گندے کاموں کی جگہ لیتی تھی، مگر اب یہ متوسط طبقے کے پیشوں تک پہنچ رہی ہے۔ قانون، مالیات اور طب جیسے اعلیٰ مہارت اور زیادہ اجرت والے شعبے بھی خطرے میں ہیں۔

فروری میں پیرس میں منعقدہ اے آئی سمٹ میں سام آلٹمین سمیت ٹیکنالوجی کے رہنماؤں نے عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کے ساتھ اس کے اثرات پر گفتگو کی۔ اس دوران یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ دو سے تین برس میں اے آئی ماڈلز تقریباً ہر میدان میں انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہوا تو معاشرے پر اس کے اثرات شدید ہو سکتے ہیں اور ہمیں اس بنیادی سماجی معاہدے پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا جس کے تحت ہم کام کرتے اور آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ اگر لاکھوں افراد بے روزگار ہو جائیں تو ٹیکس کے ذریعے بنیادی خدمات کی مالی معاونت ممکن نہ رہے گی اور بنیادی ڈھانچہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تھنک ٹینک آٹونومی کے ڈائریکٹر  ول سٹرونگ کہتے ہیں کہ ہم ’بحران کے دور‘ میں جی رہے ہیں اور بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق:  ’آنے والے برسوں میں ہماری سوسائٹی کو کسی نہ کسی شکل میں بنیادی آمدن کی ضرورت پڑے گی، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی کی ہلچل اور صنعتی تبدیلی ہمارے سامنے ہیں۔ موجودہ فلاحی نظام مقصد کے لیے موزوں نہیں؛ یہ پابندیوں اور سزاؤں پر مبنی ہے جو الٹا نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ بنیادی آمدن غربت کم کر سکتی ہے اور لاکھوں افراد کی فلاح بہتر بنا سکتی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب کوئی سنتا ہے کہ بغیر شرط رقم ملے گی تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کیا لوگ کام چھوڑ کر آرام کرنے لگیں گے؟ ناقدین کا سب سے بڑا اعتراض یہی ہے کہ اس سے کام کرنے کی ترغیب کم ہو جائے گی اور اگر بڑی تعداد میں لوگ نوکریاں چھوڑ دیں تو ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم بعض نتائج کہیں زیادہ دلچسپ امکانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

حال ہی میں ایلون مسک نے کہا کہ مستقبل میں نوکری صرف ’ذاتی اطمینان‘ کے لیے ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں بنیادی آمدنی کے تجربات کے نتائج کسی حد تک اس خیال کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

تھنک ٹینک آٹونومی میں بنیادی آمدن پروگرام کی سربراہ کلیو گڈمین کہتی ہیں: ’جب لوگوں کو بنیادی آمدن دی جاتی ہے تو تنخواہ دار کام میں کوئی نمایاں کمی نہیں آتی۔‘

مثال کے طور پر فن لینڈ میں 2017 اور 2018 کے دوران بے روزگار افراد کو تقریباً  500 پاونڈز ماہانہ دیے گئے، اور اگر انہیں نوکری مل جاتی تو بھی یہ رقم جاری رہتی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ادائیگی حاصل کرنے والوں نے اوسطاً 78 دن کام کیا، جو بے روزگاری الاؤنس لینے والوں سے چھ دن زیادہ تھا۔

اس تجربے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ان افراد کی ذہنی صحت، عمومی فلاح اور مستقبل کے بارے میں اعتماد میں نمایاں بہتری آئی۔ ہیلسنکی یونیورسٹی کی پروفیسر ہیلینا بلومبرگ کرول کے مطابق اس کی بڑی وجہ غیر یقینی صورت حال کا خاتمہ اور کم اجرت و غیر محفوظ نوکریوں کو رد کرنے کی طاقت تھی۔

اس منصوبے نے بعض لوگوں کو اپنے خواب آزمانے کا موقع بھی دیا، یعنی وہ ایسے کاموں کا انتخاب کر سکے جن کے لیے وہ حقیقی جذبہ رکھتے تھے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگر پیسہ واحد محرک نہ ہو تو لوگ اپنی دلچسپی کے مطابق پیشے اختیار کر سکتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص جو بہترین ریاضی کا استاد بن سکتا ہے وہ شاید بینکنگ کے بجائے تدریس کا انتخاب کرے۔

امریکہ میں بھی نتائج کچھ اسی نوعیت کے رہے ہیں۔ ریاست الاسکا میں 1982 سے بنیادی آمدن جیسا نظام چل رہا ہے۔ یہاں ہر رہائشی، حتیٰ کہ بچے بھی، الاسکا پرمننٹ فنڈ سے سالانہ ادائیگی حاصل کرتے ہیں جس کی آمدنی تیل اور معدنی لیز سے آتی ہے۔ 2021 میں یہ رقم 1,114 ڈالر تھی جبکہ گذشتہ سال بڑھ کر 3,284 ڈالرز ہو گئی۔

پین سکول آف سوشل پالیسی اینڈ پریکٹس کی پروفیسر ایوانا میرینسکو کہتی ہیں: ’ہم نے دیکھا کہ اوسطاً الاسکا کے لوگ دیگر ریاستوں کی طرح ہی کام کرتے رہے۔‘

گڈمین کے مطابق: ’پائلٹ منصوبوں میں لوگ بتاتے ہیں کہ مستقل آمدن نے انہیں ایسی ملازمت تلاش کرنے کا موقع دیا جو طویل مدت میں ان کے لیے زیادہ موزوں ہو۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکے اور نوجوان تعلیم میں زیادہ عرصہ رہ سکے۔‘

الاسکا میں اس منصوبے نے مقامی معیشت پر مثبت اثر ڈالا۔ کیفے اور دکانیں پھلنے پھولنے لگیں اور مزید ملازمین رکھنے لگیں۔

او ڈونووَن نے بھی اس اثر کو چھوٹے پیمانے پر محسوس کیا ہے۔ اس کے مطابق بنیادی آمدن نے اسے ’گردشی معیشت‘ میں حصہ ڈالنے کے قابل بنایا۔

’میں نے اس سال اپنی پہلی فلم بنائی اور دوسرے فنکاروں کو بھی اس میں کام دیا، یوں یہ رقم دوبارہ فن کے نظام میں واپس جا رہی ہے۔‘

کمزور معاشی علاقوں میں بھی اسی طرح کے نتائج سامنے آئے۔ کیلیفورنیا کے شہر سٹاکٹن میں 125 افراد کو ماہانہ 500 ڈالر دیے گئے جس سے وہ خوراک، کپڑے اور بجلی کے بل جیسی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔ 2019 سے 2020 تک ہونے والے مطالعے میں دیکھا گیا کہ تجرباتی گروپ میں کل وقتی ملازمتوں میں اضافہ ہوا اور مالی، جسمانی و جذباتی صحت بہتر ہوئی۔

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں چار ہزار کم آمدن والے افراد کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ صرف ایک سال بعد ختم کر دیا گیا، مگر اس مختصر مدت میں 74 فیصد افراد نے زیادہ جسمانی سرگرمی، 83 فیصد نے بہتر ذہنی صحت اور 79 فیصد نے مجموعی فلاح میں بہتری کی اطلاع دی۔

تاہم بنیادی آمدنی کا تصور یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں پہلے ہی مالی آسودگی حاصل ہے اس سے کیسے متاثر ہوں گے۔ اگر ہماری بنیادی ضروریات پوری ہوں تو ہم اپنی زندگی کیسے گزاریں گے؟

گڈمین کے مطابق:’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنا وقت مختلف انداز سے گزاریں گے۔ کئی افراد کام کے اوقات کم کرنا چاہیں گے تاکہ وہ کاروبار شروع کر سکیں، خاندان کو وقت دے سکیں، نئی مہارتیں سیکھ سکیں یا کمیونٹی میں رضاکارانہ خدمات انجام دے سکیں۔‘

2020 میں جاپانی ارب پتی یوساکو مایزاوا نے اعلان کیا کہ وہ ایک ارب ین، یعنی تقریباً سات ملین پاؤنڈ، اپنے ایک ہزار ٹوئٹر فالوورز میں تقسیم کریں گے۔ انہوں نے اسے ایک ’سنجیدہ سماجی تجربہ‘ قرار دیا۔ بعد میں ہونے والے سروے سے معلوم ہوا کہ وصول کنندگان میں نیا کاروبار شروع کرنے کی دلچسپی تقریباً چار گنا بڑھ گئی اور طلاق کی شرح بھی کم ہو گئی۔

اگر کاروباری سرگرمی میں اضافہ متوقع ہے تو یہ قیاس بھی معقول ہے کہ باہمی ہمدردی اور سماجی خدمت کا جذبہ بھی بڑھے گا۔ 2010–2011 کے ایک سروے میں رضاکارانہ کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ’کام کی مصروفیات‘ بتائی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی آمدن رضاکارانہ خدمات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

البتہ کسی بھی حقیقی نظام کے لیے ضروری ہوگا کہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اتنی آمدن حاصل کرتا رہے کہ ٹیکس کے ذریعے اس نظام کی مالی معاونت ہو سکے۔

او ڈونووَن کو امید ہے کہ آئرلینڈ کا ’آرٹس کے لیے بنیادی آمدن‘ پروگرام بالآخر ایک عالمی نظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ فنون کے میدان میں اسے اس کے بے شمار فوائد نظر آتے ہیں۔

وہ کہتی ہے: ’لوگ اکثر فن کی قدر پر سوال اٹھاتے ہیں کیونکہ اسے اعداد میں نہیں ناپا جا سکتا۔ مگر اس کی اہمیت بہت بڑی ہے اور بنیادی آمدنی اسے پھلنے پھولنے کا موقع دے سکتی ہے۔‘

وہ اس وظیفے کو ایک ذمہ داری بھی سمجھتی ہے، جس کے تحت حال ہی میں وہ آئرش فنکاروں کی یونین پراکسیس کی سیکرٹری بنی ہے۔

’یری سوچ یہ تھی کہ جب مجھے یہ وقت ملا ہے تو میں دوسروں فنکاروں کی مدد کے لیے کیا کر سکتی ہوں۔ یہ تجربات دکھا رہے ہیں کہ ہم واقعی ایک زیادہ اجتماعی انداز میں بھی زندگی گزار سکتے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *