یوکرین جنگ کے چار برس بعد پوتن کہاں کھڑے ہیں؟

روس یوکرین جنگ کو چار برس ہو چکے ہیں۔ یوکرین کی آزادی کو ختم کرنے کے لیے روسی حملے کے چار برس، جس کے بارے میں ولادی میر پوتن کا خیال تھا کہ یہ چند دنوں میں ختم ہو جائے گی۔

اس میں سے ایک برس سے کچھ زیادہ عرصے تک میں نے سیکریٹری خارجہ کے خصوصی مشیر کے طور پر کام کیا، جس میں یوکرین میرا بنیادی شعبہ ذمہ داری تھا اور میرا نہیں خیال کہ یہ بات پوری طرح سمجھی گئی ہے کہ اس جنگ نے نہ صرف یوکرین بلکہ روس کی تاریخ کا رخ کس حد تک موڑ کر رکھ دیا ہے۔

حکومت میں رہتے ہوئے میں نے جو آخری کام کیے، ان میں سے ایک وائٹ ہاؤس کا دورہ تھا، جہاں اعلیٰ برطانوی حکام نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ یوکرینی فوج گذشتہ 18 مہینوں میں کس قدر بہتر ہو چکی ہے۔ یہی وہ بات ہے جو مجھے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو سمجھانے کا موقع ملا، جن کے یوکرین کے بارے میں خیالات، جو کہ مفروضوں سے کہیں زیادہ باریک بین ہیں، امریکی پالیسی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

ڈیڑھ برس قبل، یوکرین کی مسلح افواج عوامی چندے اور رضاکاروں پر مشتمل ایک بےہنگم ہجوم تھیں، جو ساز و سامان کی کمی کو اپنے حوصلے سے پورا کر رہی تھیں۔

آج ایسا نہیں ہے۔ یوکرینی فوج اب روئے زمین پر مہلک ترین، ہائی ٹیک لڑاکا افواج میں سے ایک ہے۔ ایک تربیت یافتہ یوکرینی اب پوری پلاٹون کا صفایا کر سکتا ہے۔ اس کے فرنٹ لائن ڈرونز جدید ترین ہیں۔ اس وقت صرف برطانیہ ہی یوکرین کو تربیت نہیں دے رہا، بلکہ یوکرین ہمیں سکھا رہا ہے کہ ڈرون جنگ کیسے لڑی جاتی ہے۔

یہ سب خود بخود نہیں ہوا۔ جب تمام باتوں کا نچوڑ نکالا جائے، تو بہت کچھ ولادی میر زیلنسکی کی طرف واپس جاتا ہے۔ اس ملازمت کے دوران میں جن سیاست دانوں سے ملا ان میں سے زیادہ تر میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ وہ اکثر بظاہر سوشل میڈیا کی وجہ سے الجھن کا شکار نظر آتے تھے۔ وہ گزرتے ہوئے سائے تھے جنہیں نہ صرف تاریخ، بلکہ اس دہائی کے اختتام تک فراموش کر دیا جائے گا۔ زیلنسکی مختلف تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب میں ان کے ساتھ ملاقاتیں کرتا تھا تو میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو محاذ، سفارت کاری اور اس جنگی معیشت کے ہر پہلو میں مکمل طور پر غرق تھا جس پر ان کے عوام کا انحصار تھا۔ اپنی ضروریات کے حوالے سے انتھک، مزید کا مطالبہ کرنے اور اس کے لیے زور دینے والے، انہوں نے اپنے مقصد کے لیے ارتکاز اور عزم کی وہ سطح دکھائی جو میں نے شاذ و نادر ہی دیکھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میرا ماننا ہے کہ وہ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں، جن سے میں ملا ہوں اور جنہیں میں حقیقی ہیرو سمجھتا ہوں، شاید یورپ کا آخری ہیرو۔

زیلنسکی کا تاریخی کردار، جو جنگ کے آغاز میں یوکرین کو بچانے کے لیے اس وقت انتہائی اہم تھا، جب امریکی انہیں ملک چھوڑنے پر زور دے رہے تھے اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد گھومتی ان کی سفارت کاری، نے یوکرین کو خود کو مضبوط کرنے کا یہ موقع فراہم کیا ہے۔

جو جنگ نقل و حرکت سے شروع ہوئی تھی، وہ اب غیر حقیقی اور جال سے ڈھکی فرنٹ لائنز پر ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ (وار آف اٹریشن) بن چکی ہے، جہاں ڈرونز نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ یہ خندقوں والی پہلی عالمی جنگ بھی ہے، اور کچھ سائبر پنک جیسی بھی۔ اسے برقرار رکھتے ہوئے، یوکرین کو افرادی قوت کے مسئلے کا سامنا ہے۔ لیکن اب، کافی حیران کن حد تک، روس کو بھی اسی مسئلے کا سامنا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یوکرین کا مقابلہ سوویت یونین سے نہیں ہے، جس کی 1980 کی دہائی میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی آبادی تھی۔ اس کا مقابلہ ایک معمر ہوتے ہوئے روس سے ہے، جس کی آبادی برطانیہ کی آبادی سے محض دو گنا زیادہ ہے۔ یہ کسی بھی طرح لامحدود نہیں ہے۔ اس جنگ میں 12 لاکھ روسی مارے گئے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ برطانیہ کے چھ لاکھ افراد مارے جائیں؟ یہ وہ چیز ہے جسے آپ اسے میدانِ جنگ میں دیکھ سکتے ہیں۔

اگلے محاذ کے اہم حصوں میں، اب لگ بھگ ایک تہائی ’روسی‘ جنگی قیدیوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ افریقہ اور بنگلہ دیش سے بھرتی کیے گئے ہیں۔ یوکرین نے حال ہی میں پلڑا اپنے حق میں کر لیا ہے، جہاں ماسکو ہر ماہ بھرتی کیے جانے والے افراد سے زیادہ کھو رہا ہے اور یہ صورت حال کریملن کو دنیا کے غریب ترین اور انتہائی مجبور افراد میں سے موت کے منہ میں جانے کے مواقع تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ وہ فوج ہے، زوکوف کی ریڈ آرمی نہیں، جو اس قدر پھنسی ہوئی ہے۔

رہنماؤں سے لے کر ہمارے فوجی تربیت کاروں تک، بہت سے مغربی حکام کی طرح میں بھی حکومت میں رہتے ہوئے مسلسل یوکرینیوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ یوکرین نیٹو میں شامل نہیں ہے، لیکن اگر وہ کبھی باضابطہ طور پر اس میں شامل نہ بھی ہو سکے، تب بھی ہماری حمایت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ناقابلِ یقین حد تک اور گہرائی سے یورپی خاندان کے ساتھ جڑ چکا ہے۔

جب یہ جنگ ختم ہو گی اور کسی نہ کسی موڑ پر یہ ختم ہو گی، تو مجھے یقین ہے کہ یورپی یونین میں یوکرین کے انضمام کا عمل تیزی سے آگے بڑھے گا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مجھے شک ہے کہ اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو کیا کبھی ایسا تیز رفتار اور شدید انضمام ہو پاتا۔ پوتن وہ شخص تھے جس نے یوکرین کو فیصلہ کن طور پر مغرب کی طرف دھکیل دیا۔

اسی جنگ نے روس کو فیصلہ کن طور پر مشرق کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ محض مغربی مالیات اور روسی روبل کے درمیان اعلیٰ سطح کے گٹھ جوڑ کی بات نہیں ہے جو مے فیئر سے سینٹ ٹروپیز تک ختم ہو چکا ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ چین کریملن کا مرکزی سرپرست بن چکا ہے اور اس کی قیمت محض معاشی لحاظ سے ہی بھاری نہیں رہی، جس میں تکلیف دہ چینی شرائط پر تیل اور گیس کے وسیع معاہدے شامل ہیں۔

روس نے اس کی سیاسی قیمت بھی چکائی ہے، جو اس کی ملکی سیاست میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے، جہاں چینی صدر شی جن پنگ کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ مخصوص وزرا کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ وقت کتنا دور ہے جب چینی انہیں براہِ راست منتخب کر رہے ہوں گے؟

روس کے لیے یہ ایک تکلیف دہ ستم ظریفی ہے کہ ایک سلطنت کو بحال کرنے کے لیے شروع کی گئی جنگ نے دراصل اسے ایک سامراجی ماتحت بننے کی طرف تیزی سے دھکیل دیا ہے اور اس کی جغرافیائی سیاست وہ چیز ہے جس کے ساتھ ہم اپنی بقیہ تمام زندگی گزارنے والے ہیں۔

(بین جوڈا 2024 سے 2026 تک ڈیوڈ لیمی کے سیکرٹری خارجہ اور نائب وزیراعظم دونوں عہدوں کے دوران ان کے خصوصی مشیر رہے۔)


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *