’ہیمنٹ‘ کے آخری منظر میں، شیکسپیئر کی بیوی ایگنس، جس کا کردار جیسی بکلی نے ایک بےقرار سی زندہ دلی کے ساتھ ادا کیا ہے، اپنے شوہر کا نیا ڈراما ’ہیملیٹ‘ دیکھنے جاتی ہے۔
وہ اپنے بھائی کی طرف مڑتی ہے اور تیوری چڑھاتے ہوئے کہتی ہے: ’یہ کس بارے میں بات کر رہے ہیں؟‘
میرا بھی یہی حال تھا، ایگنس۔ مجھے سکول میں شیکسپیئر پڑھنا کبھی پسند نہیں آیا (اور اس وقت ہمارے پاس اسے ترجمہ کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی بھی نہیں تھا)، اس لیے میں کسی ایسی فلم دیکھنے کے لیے زیادہ بے تاب نہیں تھی جو شیکسپیئر کے ایک بچے کی موت کے بارے میں ہو، خاص طور پر اس لیے کہ پچھلے سال میرا اپنا ایک بچہ پیدا ہوا تھا۔ آئیمبک پینٹامیٹر اور وہ بدترین چیز جس کا میں تصور کر سکتی ہوں؟ نہیں شکریہ!
اس لیے مجھے خود بھی یہ توقع نہیں تھی کہ میں یہاں بیٹھ کر آپ کو یہ بتا رہی ہوں گی کہ اس فلم کو آسکرز میں بہترین فلم کا انعام جیتنا چاہیے۔ مگر میں یہی کہہ رہی ہوں اور اسے جیتنا چاہیے۔ ہاں، ’ہیمنٹ‘، جو میگی او فیرل کے ویمنز پرائز یافتہ ناول پر مبنی ہے، ان جذباتی طور پر صدمہ پہنچانے والی فلموں کی فہرست میں آتی ہے جنہیں میں دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا چاہوں گی (مثلاً: ’مارلی اینڈ می‘)۔
لیکن اس نے مجھے اس طرح متاثر کیا کہ مجھے تخلیقی صلاحیتوں کے لامحدود اور وسیع امکانات کا شدید احساس ہوا، ایک ایسی چیز جو اس وقت بہت ضروری محسوس ہوتی ہے جب ہماری توجہ الگورتھمز کے ذریعے قابو میں رکھی جا رہی ہو اور دنیا جلتی ہوئی محسوس ہوتی ہو۔
یہ ماں بننے کے تجربے پر ایک باوقار اور گہرے احساسات سے بھرپور مطالعہ بھی ہے، جو ایک رزمیہ وسعت رکھتا ہے اور ان کہانیوں کو گھریلو کے چھوٹے اور صاف ستھرے خانے میں قید ہونے سے انکار کرتا ہے، جہاں عموماً انہیں رکھا جاتا ہے۔
ہدایت کار کلوئی ژاؤ، جو 2020 میں ’نو میڈ لینڈ‘ کے لیے پہلے ہی ایک آسکر جیت چکی ہیں اور او فیرل نے مل کر اس کی کہانی لکھی ہے اور اگر آپ اس پر غور کریں تو انہوں نے واقعی غیر معمولی کام کیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے انگریزی ثقافت بلکہ شاید پوری تاریخ کی کی سب سے بڑی علامت کو لیا اور اس کے ذریعے ان صدیوں پرانی کہانیوں کو الٹ دیا کہ کون سے موضوعات ’عظیم فن کے لائق سمجھے جاتے ہیں، اسے بنانے کا حق کس کو ملتا ہے اور اس کی قیمت کیا ہوتی ہے۔
ہم برطانویوں کے لیے ’ہیمنٹ‘ عالمی سطح پر ہماری بڑی امید کی نمائندگی کرتی ہے اور جیسی بکلی بہترین اداکارہ کے انعام کے لیے بجا طور پر سب سے آگے سمجھی جا رہی ہیں (اگرچہ وہ اور ان کے ساتھی اداکار پال میسکل دونوں آئرش ہیں)۔
وہ پہلے ہی انعامی سیزن میں کئی اعزازات سمیٹ چکی ہیں اور اگر وہ نہ جیتیں تو یہ بڑی ناانصافی ہوگی، چاہے وہ بلیوں کے ساتھ کچھ سختی ہی کیوں نہ کرتی ہوں۔
برسوں سے وہ ہمارے ابھرتے ہوئے باصلاحیت فنکاروں میں سب سے پختہ اور پر اعتماد رہی ہیں اور مسلسل دلچسپ انتخاب کرتی آئی ہیں: عجیب و غریب خوفناک فلم ’مین‘ سے لے کر جذباتی شدت سے بھرپور ایلینا فیرانتے کی کہانی ’دی لاسٹ ڈاٹر‘ تک، ’ویسٹ اینڈ‘ میں ایک باغیانہ انداز کی سیلی بولز سے لے کر شاندار تمثیلی فلم ’ویمن ٹاکنگ‘ میں ایک چھوٹا مگر نہایت درست کردار۔
ٹی وی کے ایک ٹیلنٹ شو میں جوانی کے امتحان سے گزرنے کے باوجود انہوں نے اپنی صلاحیت پر ایک جرات مندانہ یقین برقرار رکھا اور ’ویسٹ اینڈ‘ میں ایک معاون کردار قبول کرنے کے بجائے راڈا (رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹ) میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جو داؤ لگایا تھا، وہ درست ثابت ہوا۔
بکلی کا کارنامہ یہ ہے کہ وہ ہر لمحے اپنے شوہر، خود شیکسپیئر سے کہیں زیادہ ذہین نظر آتی ہیں۔ مٹی سے اٹے چہرے اور تلاش کرتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ایگنس دنیا کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ محسوس ہوتی ہے اور وہ فولاد جیسی مضبوط بھی ہے۔
وہ جنگل میں بچے کو جنم دیتی ہے (کسی درد کم کرنے والی دوا کے بغیر)! جب اس کی ساس سیلاب کے دوران اسے اسی جنگل میں جڑواں بچوں کو جنم دینے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ واقعی جھنجھلا اٹھتی ہے۔
ایگنس کبھی مرعوب نہیں ہوتی، ہمیشہ جانتی ہے کہ کیا کرنا ہے، یہاں تک کہ جب دنیا کی بدترین چیز پیش آتی ہے۔ وہ منظر دیکھنا میرے لیے تکلیف دہ تھا جب اسے احساس ہوتا ہے کہ امید ختم ہو چکی ہے، ہیمنٹ چلا گیا ہے، وہ ایسی جگہ جا چکا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں، اور وہ خود بھی۔
شیکسپیئر کے زمانے میں ’ہیمنٹ‘ اور ’ہیملیٹ‘ دونوں نام ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور انہوں نے اپنے بیٹے کی موت کے پانچ سال بعد ’ہیملیٹ‘ لکھا تھا۔ او فیرل کا یہ اصرار کہ شیکسپیئر کو غالباً اپنے ہی خاندان سے تحریک ملی تھی نہایت اہم ہے: یہ اس گھسے پٹے تصور کو الٹ دیتا ہے کہ صرف عورتیں ہی اپنی زندگیوں کو اپنے کام کا مواد بناتی ہیں۔
یہ اس خیال کو بھی چیلنج کرتا ہے کہ اہم ادبی مرد کسی عظیم ادبی مقصد کے لیے وقف ہوتے ہیں اور اس خیال کو کچھ مضحکہ خیز سا بنا دیتا ہے۔ جب ہیمنٹ کی موت کے فوراً بعد شیکسپیئر لندن واپس جانے کی بات بڑبڑاتا ہے تو ایگنس اسے ایک زوردار تھپڑ جڑ دیتی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے۔ وہ آخر کر کیا رہا ہے؟ اس کے بچے کی موت کے بعد لندن میں گھومتا پھرے اور ڈرامے لکھتا رہے؟ اسے لگتا تھا کہ دنیا کہیں باہر ہے۔ کیا اسے احساس نہیں کہ اصل میں وہ یہیں ہے؟
کیونکہ ’ہیمنٹ‘ میں کہانی سنانے والا بارڈ نہیں بلکہ تاریخ کی ایک بھولی بسری عورت ہے، جس کے چہرے پر مٹی لگی ہے، جو زمین میں جھک کر اپنے بچوں کو دکھاتی ہے کہ چیزیں کیسے اگائی جاتی ہیں، جو ان کے مرے ہوئے پرندے کے لیے ایک رسم بنا دیتی ہے تاکہ انہیں تسلی مل سکے۔ وہ اس کے ہر لفظ پر یقین کرتے ہیں۔
ژاؤ نے ’ہیمنٹ‘ کے بارے میں ایک انٹرویو میں کہا کہ اداکاروں اور عملے نے ’اس فلم کو اپنے جسموں میں محسوس کیا‘ اور اسے بنانے سے ہماری زندگیاں بدل گئیں، اور یہ کہ اس فلم میں کچھ ایسا تھا جو ’مقدر اور ناگزیر محسوس‘ ہوتا تھا۔
واقعی اس میں کچھ پراسرار سا ہے: درختوں اور جڑوں کے پھیلتے ہوئے خوبصورت مناظر اور ایسا احساس کہ جیسے اسٹراٹفورڈ اپان ایون کی کسی صبح کی ٹھنڈی تازہ ہوا کو آپ تقریباً محسوس کر سکتے ہیں۔ کیا یہ غم کو بھڑکانے والی فلم ہے، جیسا کہ بعض ناقدین کہتے ہیں؟ میرا خیال ہے نہیں۔
کیا یہ تاریخی طور پر بالکل درست ہے؟ شاید نہیں۔ مگر یہ ایک نہایت انسانی فلم ہے، جو شیکسپیئر کو انسانی شکل دیتی ہے اور ساتھ ہی اسے ایک قومی دیومالائی داستان سنانے والے کے طور پر بھی سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے۔
ڈرامے اس نے لکھے، مگر بچوں کی پرورش اس کی بیوی نے کی۔ زیادہ اہم کام کون سا تھا؟ فلم جیسی بکلی کے چہرے کے ایک بڑے قریبی منظر پر ختم ہوتی ہے۔ ایسا چہرہ جس کے نقوش اس سب کی قیمت چکاتے ہوئے بدل چکے ہیں اور یہی منظر آپ کو اس کا جواب بتا دیتا ہے۔
