پالانٹیر (Palantir) سیلیکون ویلی کی پراسرار اور طاقتور کمپنیوں میں سے ایک ہے، جو ڈیٹا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والی ایک عالمی طاقت بن چکی ہے۔
گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پالانٹیر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’پالانٹیر ٹیکنالوجیز نے جنگ لڑنے کی بہترین صلاحیتوں اور آلات کا لوہا منوایا ہے۔ ہمارے دشمنوں سے پوچھ لیں۔‘
مغربی میڈیا کے مطابق امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں اہداف کی نشاندہی کے لیے پالانٹیر کا مصنوعی ذہانت سے لیس ’میون سمارٹ سسٹم‘ پلیٹ فارم استعمال کر رہی ہے، جس کا تعلق فروری کے آخر میں ایران پر شروع ہونے والے حملوں سے ہے۔
2003 میں نائن الیون کے حملوں کے بعد قائم ہونے والی اس کمپنی کا مقصد انٹیلی جنس ڈیٹا کی مدد سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا تھا۔ اس کی بنیاد امریکی سرمایہ کار پیٹر ٹیل نے رکھی تھی اور کمپنی کا نام ’لارڈ آف دا رنگز‘ ناول سے لیا گیا تھا۔
آج یہ کمپنی دفاع، سکیورٹی، مالیات اور صحت سمیت 40 سے زائد صنعتوں میں فعال ہے اور اس کی مارکیٹ ویلیو اربوں ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔ اگست 2025 میں پالانٹیر نے امریکی فوج کے ساتھ 10 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔
پالانٹیر کا پلیٹ فارم ’گوتھم‘ دفاعی، انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم رئیل ٹائم انٹیلی جنس فراہم کرتا ہے اور مختلف ڈیٹا سورسز کو جوڑ کر دشمن کی نقل و حرکت کی پیش گوئی کرتا ہے۔ یہ بڑے لینگویج ماڈلز کو حساس فوجی ماحول میں استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی کام کیسے کرتی ہے؟
ڈیٹا فیوژن یعنی ’ویکیوم‘ گوتھم کی وہ بنیادی طاقت ہے جو اسے مختلف نوعیت کے وسیع ڈیٹا کو جذب کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ ایران جیسے پیچیدہ ماحول میں ہدف تلاش کرنے کے لیے یہ سسٹم مندرجہ ذیل ذرائع استعمال کرتا ہے:
- سیٹلائٹ تصاویر (ہائی ریزولوشن تصاویر اور انفراریڈ ڈیٹا)
- سگنلز انٹیلی جنس (ریکارڈ کردہ گفتگو یا ریڈار کی لہریں)
- انسانی انٹیلی جنس (زمین سے ملنے والی رپورٹس یا جاسوسی سے حاصل کردہ ڈیٹا)
- اوپن سورس انٹیلی جنس (سوشل میڈیا سرگرمی یا عوامی ریکارڈ)
گوتھم ان سب کو یکجا کرتا ہے۔ ان تمام معلومات کو آپس میں ضم کر کے یہ سافٹ ویئر ایسے پیٹرنز کی نشاندہی کر سکتا ہے، جو انسانی تجزیہ کار کی نظر سے اوجھل رہ سکتے ہیں، جیسے کہ کسی مخصوص گاڑی کا ڈیزائن۔
اسی طرح یہ خودکار لیبلنگ کے ذریعے ہزاروں گھنٹوں کی ڈرون فوٹیج دیکھنے کے بجائے کمپیوٹر ویژن کے الگورتھم خود بخود ٹینکوں، موبائل میزائل لانچرز یا طیارہ شکن بیٹریوں وغیرہ پر لیبل لگا دیتے ہیں۔
پریڈیکٹو ماڈلنگ کے تحت پالانٹیر کے الگورتھم صرف یہ نہیں دکھاتے کہ ہدف کہاں ہے، بلکہ یہ پیش گوئی بھی کرتے ہیں کہ مستقبل میں وہ کہاں ہو گا۔
تنقید کا نشانہ
پالانٹیر کا سب سے سنگین اور متنازع پہلو اس کا جنگی کردار ہے، خاص طور پر اسرائیلی فوج کے ساتھ اس کی سٹریٹجک شراکت داری۔
کمپنی کے سی ای او ایلکس کارپ نے کھل کر اسرائیل کی حمایت کی ہے اور سات اکتوبر کے حملوں کے بعد اسے ایک ناگزیر پارٹنرشپ قرار دیا ہے۔ غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں پالانٹیر کے اے آئی ٹولز کو مبینہ طور پر اہداف کی نشاندہی کرنے اور اہداف کی فہرستیں (کِل لسٹس) تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مارچ 2026 کی اطلاعات کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع نے پالانٹیر کے ’میون سمارٹ سسٹم‘ (Project Maven) کو اپنے مستقل دفاعی پروگرام کا حصہ بنا لیا ہے، جو سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے حملوں میں معاونت کرتا ہے۔
حال ہی میں ایران پر ہونے والے حملوں اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے پیچھے بھی اسی سسٹم کے کلیدی کردار کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ ایلکس کارپ کا ماننا ہے کہ مغربی تہذیب کے تحفظ کے لیے ’مہلک صلاحیتوں‘ کا استعمال ضروری ہے، چاہے اس میں شہریوں کا جانی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
پالانٹیر کی جڑیں امریکی سیاست میں بھی گہری ہیں۔ کمپنی کے بانی پیٹر ٹیل، جو ایک ارب پتی سرمایہ کار اور جمہوریت کے ناقد سمجھے جاتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے حامی ہیں۔
ٹرمپ کی حالیہ انتظامیہ میں پالانٹیر کے کم از کم 17 سابق یا موجودہ ملازمین اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہیں، جو پیٹر ٹیل کے سابق ملازم رہ چکے ہیں۔
دوسری طرف اسے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات، غزہ میں ہونے والی نسل کشی اور سویلین اہداف پر بمباری کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس کمپنی پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی تارکینِ وطن کی ملک بدری اور پولیس کی جانب سے مخصوص نسل کے لوگوں کی غیر منصفانہ نگرانی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
ہالی وڈ فلم کی طرح کے اشتہار
پالانٹیر کے اشتہارات کو کسی ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم کے ٹریلر کی طرح ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں ایک سنسنی خیز اور تاریک ماحول پیدا کر کے انسانی خوف کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے۔
کمپنی کے سابق اشتہاری پروڈیوسر، ہوان سباسٹین پنٹو، کے مطابق یہ فلمی سٹائل دراصل خودکار جنگ کی اس ہولناک حقیقت کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں بے گناہ خاندان، صحافی اور ہسپتالوں کا عملہ مارا جاتا ہے۔ یہ اشتہارات ایک ایسی مصنوعی اور صاف ستھری جنگ کا تاثر دیتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
پالانٹیر نے جنگ کی پر تشدد حقیقت کو ایک جدید ’ون کلک سلوشن‘ کے طور پر پیش کرنے کا فن سیکھ لیا ہے، جو سیلیکون ویلی میں ٹیکنالوجی کے جنگی استعمال کی واشگاف مثال ہے۔
