گلف سٹریم پر ویانا سفر کی بےبنیاد خبروں پر قانونی کارروائی ہوگی: پنجاب حکومت

صوبہ پنجاب کی حکومت نے حال ہی میں خریدے گئے گلف سٹریم جیٹ میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کے ویانا کا سفر کرنے کی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے انہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

حکومت پنجاب نے 19 نشستوں والا گلف سٹریم طیارہ حال ہی میں خریدا جس کی قیمت دس ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔

صوبائی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس طیارے کی خریداری پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ طیارہ پنجاب حکومت کی نئی آنے والی ایئر لائن ’ایئر پنجاب‘ کے لیے خریدا گیا ہے۔

اس پر میڈیا نے سوالات اٹھائے کہ 19 نشستوں پر مشتمل خصوصی طیارہ ایئرلائن کے لیے کیسے ہو سکتا ہے؟ پھر سوالات اٹھائے گئے کہ اس جہاز کا عملہ غیر ملکی ہے جن کی تنخواہیں ڈالرز میں ادا کی جائیں گی۔

یہ سب ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اب کچھ روز پہلے اس جہاز کو لائیو لوکیشنز کے ذریعے ویانا جاتے ہوئے دکھایا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے وضاحت دی ہے کہ معاہدے کے مطابق جہاز کمپنی کو معمول کی چیکنگ کے لیے گیا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر اس جہاز میں مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

پنجاب حکومت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اس مہم میں ملوث افراد اور پلیٹ فارمز کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ ’سرکاری طیارے کے استعمال سے متعلق من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں اور حکومت ان کے خلاف ڈیفیمیشن لا 2024 کے مطابق ایسے افراد اور پلیٹ فارمز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی جو اس پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جعلی خبریں صحافت نہیں بلکہ کھلی بہتان تراشی ہیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

تاہم اس بیان میں ان کے بیٹے کا نام یا تردید براہ راست شامل نہیں تھی۔

البتہ شریف خاندان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جنید صفدر کے ویانا جانے کی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں اور وہ اپنی رہائش گاہ رائیونڈ میں موجود ہیں۔

خود جنید صفدر نے بھی سوشل میڈیا پر اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور میں ہیں اور ویانا جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

جنید نے انسٹاگرام پر الزامات کی تردید کی اور کہہ کہ وہ اس وقت لاہور میں ہیں۔ تاہم افواہوں کا سلسلہ نہیں تھم رہا۔

شریف خاندان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

تاہم تاحال واضح طور پر پنجاب حکومت کے کسی بھی عہدیدار نے باقائدہ اس معاملہ پر تفصیلی وضاحت نہیں دی کہ یہ طیارہ وزیر اعلیٰ کے استعمال میں ہے یا ایئر پنجاب کے لیے ہی استعمال ہوگا۔

دوسری جانب حکومتی سطح پر ایئر پنجاب نامی ایئر لائن شروع کرنے سے متعلق بھی کوئی حتمی ڈیڈ لائن یا رجسٹریشن سے متعلق میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پی آئی اے کی نج کاری کے بعد ثابت ہوچکا ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت اپنے طور پر ایئرلائن چلانے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔ ابھی تک ایسے معاشی یا انتظامی حالات دکھائی نہیں دیتے کہ یہ ایئر لائن شروع ہوسکے گی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *