گریز وادی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شمالی حصے میں واقع ایک سرحدی علاقہ ہے جو بلند و بالا پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے درمیان آباد ہے۔
موسم سرما میں برف باری کے باعث یہ علاقہ اکثر باقی دنیا سے کٹ جاتا ہے۔
شدید سردی، دشوار گزار راستے اور محدود وسائل کے باوجود یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں ایک خاص جوش اور ولولہ پایا جاتا ہے۔
اس جوش و جذبے کی ایک جھلک کھیلوں کے میدان میں نظر آتی ہے، خصوصاً کرکٹ میں۔
گریز کی کرکٹ روایت کا سب سے منفرد پہلو برف پر کرکٹ یا ’سنو کرکٹ‘ ہے۔
سخت سردیوں کے دوران جب پورا علاقہ برف سے ڈھک جاتا ہے اور عام میدانوں میں کھیلنا ممکن نہیں رہتا تو مقامی لوگ سنو کرکٹ سے دل بہلاتے ہیں۔
سنو کرکٹ کے لیے سب سے پہلے میدان کی برف کو ہموار کیا جاتا ہے۔ جہاں برف نرم ہو وہاں مزید برف ڈال کر اسے پانی سے جما دیا جاتا ہے تاکہ سطح مضبوط ہو جائے۔
اس کے بعد پچ پر ایک میٹ بچھا دی جاتی ہے تاکہ گیند کا اچھال بہتر ہو سکے۔ اس طرح ایک برفانی میدان کرکٹ کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
یہ منظر واقعی حیرت انگیز ہوتا ہے۔ سفید برف کے درمیان رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس نوجوان کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
برف پر بولرز کا دوڑنا، بیٹرز کا شاٹ کھیلنا اور فیلڈرز کا گیند پکڑنا ایک الگ ہی تجربہ ہوتا ہے۔
گریز کی اس منفرد روایت نے دنیا کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔
آسٹریلیا کے مشہور بلے باز مارنس لابشین نے بھی سوشل میڈیا پر گریز میں کھیلی جانے والی سنو کرکٹ کی تعریف کی۔ ان کی اس تعریف نے مقامی لوگوں کے حوصلے کو مزید بڑھایا۔
مقامی نوجوان کھلاڑی سہیل شاہین کہتے ہیں ’یہاں لوگوں کے دلوں میں کرکٹ کے لیے جو محبت اور جذبہ موجود ہے، وہ اس کھیل کو یہاں کی ثقافت کا ایک لازمی حصہ بنا چکا ہے۔
’یہاں کرکٹ کی مقبولیت بڑے سٹیڈیمز، چمکتے دمکتے ٹورنامنٹس یا عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ عوام کے خالص جذبے اور محبت کی بدولت ہے۔
’یہی وجہ ہے کہ یہ کھیل یہاں صرف ایک تفریح نہیں بلکہ اتحاد، امید اور نوجوانوں کی امنگوں کی علامت بن چکا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ کھیل یہاں کے لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گیا ہے۔ شام کے وقت مقامی دکانوں کے سامنے لوگ جمع ہو کر کرکٹ کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔
کوئی کسی ٹیم کی حمایت کرتا ہے تو کوئی کسی کھلاڑی کی تعریف میں مصروف ہوتا ہے۔
ان محفلوں میں کرکٹ کے سکور، آنے والے میچوں اور پسندیدہ کھلاڑیوں کے بارے میں گرما گرم بحثیں ہوتی ہیں۔
سہیل کے مطابق یہ مباحثے صرف کھیل تک محدود نہیں رہتے بلکہ نوجوانوں کے خوابوں اور مستقبل کی امیدوں کو بھی جنم دیتے ہیں۔
’کئی نوجوان اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی طرح بننے کا خواب دیکھتے ہیں اور اسی جذبے کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں۔‘
ایک اور نوجوان کھلاڑی شہنواز حسین سامون نے بتایا کہ گریز کی زندگی میں سردیوں کا موسم سب سے بڑا امتحان ہوتا ہے۔
ان کے بقول ’کئی مہینوں تک برف باری کے باعث راستے بند ہو جاتے ہیں اور سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔
’پہلے زمانے میں اسی وجہ سے کھیلوں کی سرگرمیاں بھی کم ہو جاتی تھیں۔ مگر کرکٹ کے شوقین افراد نے اس مسئلے کا حل سنو کرکٹ کی صورت میں نکال لیا۔‘
اب برف باری کھیلوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ ایک نئی تخلیقی سرگرمی کا سبب بن چکی ہے۔
سنو کرکٹ کا شوق صرف نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ بزرگ بھی اس کھیل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
شہنواز کہتے ہیں کہ جب نوجوان، بچے اور بزرگ ایک ہی میدان میں جمع ہوتے ہیں تو ان کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔
’مختلف گاؤں اور علاقوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے ہیں جس سے بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔
’بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دور سے جھلکتی ہے، ہاتھوں میں بیٹ اور آنکھوں میں خواب۔
کئی بچے اپنے پسندیدہ کرکٹرز کے نام اپنی ٹی شرٹس پر لکھ لیتے ہیں اور انہی کی طرح کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب سورج ڈھلنے لگتا ہے تو یہ نوجوان کھلاڑی اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بے صبری سے میدان میں کھڑے رہتے ہیں۔
ان کے کھیل میں اگرچہ پیشہ ورانہ مہارت کم ہوتی ہے لیکن جذبہ اور جوش بے مثال ہوتا ہے۔
کرکٹ کے شوقین ذاکر حسین لون بتاتے ہیں کہ وادی گریز کے لوگ ’درد شین‘ کہلاتے ہیں۔ ان کی زبان ’شینا‘ ہے۔ تقسیم ہند کے بعد یہ علاقہ گلگت، استور سے الگ ہوا۔
یہاں کے لوگ اپنی ثقافت اور روایات کے ساتھ ساتھ کھیلوں سے بھی گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قدیم زمانے سے یہاں مختلف روایتی کھیل کھیلے جاتے رہے ہیں جن میں سب سے نمایاں چوگان بازی یا گھوڑوں پر کھیلا جانے والا پولو ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ تقسیم ہند سے قبل گریز وادی میں باقاعدہ پولو ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جاتا تھا۔ کبھی یہ مقامی لوگوں کا پسندیدہ کھیل ہوا کرتا تھا۔
مقامی تہواروں اور تقریبات کا اہم حصہ ہوا کرتا تھا۔ گلگت بلتستان سے لوگ یہاں پولو کھیلنے آیا کرتے تھے۔
یہ کھیل نہ صرف تفریح فراہم کرتا تھا بلکہ بہادری اور مہارت کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔
قیام پاکستان کے بعد لائن آف کنٹرول سے قریب ہونے کی وجہ سے اس علاقے سے پولو کا کھیل ختم ہو گیا۔
ذاکر کے مطابق گریز کی قدرتی خوبصورتی پہلے ہی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
’اگر سنو کرکٹ جیسے منفرد کھیلوں کو مناسب طریقے سے فروغ دیا جائے تو یہ کھیل سیاحت کے لیے بھی ایک نیا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔‘
سہیل کہتے ہیں گریز وادی نے ریاست اور ملک کو کئی باصلاحیت بیوروکریٹس اور سیاسی شخصیات دیں مگر ابھی تک یہاں سے کوئی بڑا کرکٹر سامنے نہیں آ سکا۔
اس کے باوجود نوجوانوں کے دلوں میں یہ خواب زندہ ہے کہ ایک دن گریز کا کوئی کھلاڑی قومی یا بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنائے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ خواب صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری وادی کا ہے۔ ’جب بھی کوئی نوجوان اچھا کھیلتا ہے تو پورا علاقہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔‘
یہی اجتماعی جذبہ اس کھیل کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ ان کے مطابق اگر مناسب سہولیات، کوچنگ اور میدان فراہم کیے جائیں تو گریز کے نوجوان مستقبل میں قومی سطح کے بہترین کھلاڑی بن سکتے ہیں۔
