کینیڈا: سکول، شہریوں پر فائرنگ میں 9 افراد جان سے گئے، پولیس

مغربی کینیڈا کے ایک دور دراز حصے میں منگل کو فائرنگ کے نتیجے میں 9 افراد جان سے گئے، جن میں سات کو ایک سیکنڈری سکول میں گولی ماری گئی، جبکہ انہیں مارنے والے نے خود کی جان بھی لے لی۔ 

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے مطابق واقعہ ٹمبلر رج، برٹش کولمبیا میں ہوئیں، جو راکیز کے دامن میں واقع پہاڑی وادی کا ایک خوبصورت شہر ہے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ مجموعی طور پر 27 افراد زخمی ہوئے جن میں دو شدید اور 25 دیگر کو غیر جان لیوا زخم آئے۔ 

کینیڈا کے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ شوٹر خاتون تھیں، لیکن آر سی ایم پی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں مشتبہ شخص کی شناخت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔

پولیس نے بتایا کہ منگل کی سہ پہر ٹمبلر رج سیکنڈری سکول میں ایک شوٹر کے بارے میں الرٹ جاری کیا گیا تھا۔

سکول کی تلاشی لینے پر پولیس کو چھ لاشیں ملیں جنہیں گولیاں لگی ہوئی تھیں جبکہ ایک زخمی ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

اس کے علاوہ پولیس کو ٹمبلر رج میں ایک گھر سے مزید دو لاشیں ملی ہیں۔

پولیس نے کہا کہ یہ گھر ’واقعے سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔‘

ایک بیان میں ٹمبلر رج کی میونسپلٹی نے کہا: ’ہماری کمیونٹی نے آج رات جو دل توڑ دینے والا تجربہ کیا ہے اسے بیان کرنے کو الفاظ کافی نہیں ہیں۔‘

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے فائرنگ کے واقعے کے بعد میونخ سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کا پہلے سے طے شدہ دورہ معطل کر دیا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ٹمبلر رج، برٹش کولمبیا سے آنے والی المناک خبر کے بعد، وزیر اعظم… ملک سے باہر اپنے طے شدہ سفر کو فی الحال معطل کر دیں گے۔‘

متحرک صورت حال 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آر سی ایم پی کے شمالی ضلع کے کمانڈر کین فلائیڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ’تیزی سے ابھرتی ہوئی اور متحرک صورتحال تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’یہ ہماری کمیونٹی کے لیے ایک ناقابل یقین حد تک مشکل اور جذباتی دن رہا ہے، اور ہم اس تعاون کے لیے شکر گزار ہیں کیونکہ افسران تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

ٹمبلر رج، تقریباً 2,400 رہائشیوں پر مشتمل ایک پرسکون شہر، برٹش کولمبیا کے سب سے بڑے شہر وینکوور کے شمال میں 1,100 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر ہے۔

میونسپلٹی نے کہا، ’ہم جانی نقصان اور اس سانحے سے خاندانوں، طلبہ، عملے اور ہمارے پورے شہر پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔‘

وفاقی حزب اختلاف کے رہنما پیئر پوئیلیور نے اسے ’تشدد کا ایک بے ہودہ عمل‘ قرار دیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *