کیا ہمیں اداس کر دینے والی فلمیں نہیں دیکھنی چاہییں؟

دنیا پہلے ہی غموں سے بھری پڑی ہے۔ ہر طرف دکھ درد اور مصیبتیں ہیں۔ ایسے میں کون بےوقوف اداس فلمیں دیکھ کر دل کو مزید بوجھل کرے؟ مگر لوگ پھر بھی انہی فلموں میں سکون ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ہے نا عجیب بات؟

مگر اتنی بھی عجیب نہیں جتنی نظر آتی ہے۔

کلاسیکی المیوں سے لے کر جدید سینیما تک، لوگ ایسی کہانیاں دیکھتے ہیں جو انہیں رلاتی ہیں اور دل کو گہرے صدمے سے بھی دوچار کرتی ہیں۔ ایسے دور میں جب تفریح کا مقصد عموماً فرار، ہنسی اور خوشگوار انجام دکھانا ہوتا ہے، المیہ فلمیں اب بھی ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ ہم ایسا شعر بار بار دہراتے ہیں  جو دل میں سویا درد جگائے۔

اچھا اگر آپ کے پاس آپشن ہو کہ حقیقی زندگی میں صدمہ سہہ لیں یا فلم میں دیکھ کر اس کیفیت کو محسوس کر لیں، تو آپ کون سا آپشن لیں گے؟ اپنے بچے کو کوئی نہیں مرنے دے گا، محبوب شخص سے محرومی کی تکلیف سہنے کی ہمت کس میں ہے؟ اس لیے یقیناً ہم حقیقی زندگی کے بجائے فلم کے ذریعے یہ تجربہ کرنا پسند کریں گے۔

فلموں، اور یہاں المیہ کہانیوں والی فلموں کی بات ہو رہی ہے، ان میں جو کچھ ہم دیکھتے ہیں زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر اس کیفیت سے گزرتے بھی ہیں۔ وہی نظریہ ارتقا، کہ فلم دیکھتے ہوئے دراصل ہم کسی ممکنہ المیے کے لیے خود کو تیار کر رہے ہوتے ہیں۔

سکرین پر دکھائی دینے والا دکھ صرف دکھ نہیں ہوتا، یہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے، دوسروں سے جڑنے اور ان جذبات کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے جن کا سامنا ہم روزمرہ زندگی میں اکثر نہیں کر پاتے۔

المیہ فلموں کی کشش کو ماہرین نفسیات کبھی کبھی ’خوشگوار اداسی‘ کے تضاد سے واضح کرتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں دکھ ایک ایسی چیز ہے جس سے لوگ بچنا چاہتے ہیں۔ مگر جب یہی دکھ ادب، تھیٹر یا سینیما کے ذریعے سامنے آتا ہے تو وہ خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔

کوئی المیہ فلم دیکھتے ہوئے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم محفوظ ہیں۔ سکرین پر دکھائی جانے  والی کہانی ہماری ذاتی زندگی کو براہ راست متاثر نہیں کرتی۔ یہی فاصلے کا احساس ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم مشکل جذبات کو بغیر کسی حقیقی خطرے کے محسوس کریں۔ اس طرح دکھ جذباتی تجربہ تو بنتا ہے مگر حقیقی خطرے کا احساس دلائے بغیر۔ اس لیے یہ خوشگوار دکھ ہوتا ہے۔ آنسو بہتے ہیں، دکھ طاری بھی ہوتا ہے لیکن بہت جلد زندگی کی نارمل روٹین شروع ہو جاتی ہے۔

یہ آنسو بھی عجیب چیز ہیں۔ دکھ کا اظہار بھی انہی سے ہوتا ہے لیکن دل کو ہلکا کرنے میں بھی بڑی مدد کرتے ہیں۔ وہی جسے ارسطو نے ’کیتھارسس‘ کہا تھا کہ جب لوگ المیہ ڈرامہ دیکھتے ہیں تو ان کے اندر جمع خوف اور ہمدردی جیسے جذبات ایک طرح سے صاف ہو جاتے ہیں۔

جدید نفسیات بھی کسی حد تک اس خیال کی تائید کرتی ہے۔ المیہ فلمیں بعض اوقات لوگوں کو اپنے اندر چھپے ہوئے احساسات، غم، تنہائی یا مایوسی کا سامنا کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ ایک دل توڑ دینے والا منظر وہ آنسو باہر لا سکتا ہے جو شاید کسی اور موقع پر نہیں نکل پاتے۔ گھٹن دور ہوتی ہے۔ ایک دم ہم ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔

المیہ فلمیں فلمیں نہیں پوری تھراپی ہیں بھئی۔

آج کی دنیا میں، ہمیشہ کی طرح یا ہمیشہ سے بھی کچھ زیادہ، انسان کو دوسرے انسان سے جڑنے اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔ جو لوگ جذباتی طور پر پیچیدہ کہانیوں کا زیادہ تجربہ کرتے ہیں ان میں ہمدردی اور شفقت کے جذبات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ زندگی کو کسی اور لیول پر دیکھتے ہیں، ان کے محسوسات کی دنیا زیادہ وسیع اور ایک زندگی میں کئی زندگیاں جینے کا ہنر پختہ ہوتا ہے۔

سینیما ہمیں ایسی زندگیاں محسوس کرنے کا موقع دیتا ہے جو ہماری اپنی زندگی سے بہت مختلف ہو سکتی ہیں۔ ایک شخص اپنے کمرے میں بیٹھا کسی مہاجر کا درد، کسی بیمار انسان کی بے بسی یا کسی ٹوٹے ہوئے دل کی تنہائی انتہائی حقیقی تجربے جیسی محسوس کر سکتا ہے، لیکن وہی بات کہ براہ راست اس کی زد میں آئے بغیر۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کسی بیماری پر مبنی فلم ہمیں اپنی صحت کی قدر کا احساس دلا سکتی ہے۔ کسی ناکام محبت کی کہانی ہمیں اپنے رشتوں کو زیادہ سنبھالنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں، اس کا اثر کہیں نہ کہیں موجود رہتا ہے۔

ماہرین نفسیات اسے  contrast effect  کہتے ہیں۔ جب ہم کسی اور کے شدید دکھ کو دیکھتے ہیں تو ہماری اپنی مشکلات وقتی طور پر کم محسوس ہونے لگتی ہیں۔

المیہ فلموں میں اکثر ایسی جذباتی گہرائی ہوتی ہے جو ہلکی پھلکی تفریح میں کم نظر آتی ہے۔ کامیڈی ہنساتی ہے، ایکشن فلمیں سنسنی پیدا کرتی ہیں، لیکن المیہ کہانیاں انسانی تجربے کی گہرائی کو چھوتی ہیں۔

بعض اوقات المیہ فلمیں ہمیں زیادہ حقیقی محسوس ہوتی ہیں کیونکہ زندگی اکثر تلخ اور بے رحم ہوتی ہے۔ خواب ٹوٹتے ہیں، رشتے ختم ہوتے ہیں، خسارہ ہی خسارہ ہے۔ المیہ سینیما اسی حقیقت کی جھلک دکھاتا ہے۔

اب اس سب کا مطلب یہ بھی نہیں المیہ فلمیں بس رلانے کے لیے ہوتیں ہیں، دیکھ لیا، رو لیا اور بات ختم۔

بھئی ہماری ذاتی زندگی سماجی زندگی سے اور ذاتی المیہ سماجی المیے سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ فلمیں اخلاقی اور سماجی سوالات بھی اٹھاتی ہیں۔ دو نوجوان جوڑے ہوں، بوڑھے والدین ہوں، پاگل خانے میں بند ہم آپ جیسے افراد ہوں، فلم کے ذریعے سماجی ساخت اور معاشرتی رویے سب کہانی میں شامل ہوتے ہیں۔ ہم ذاتی زندگی کے عکس میں پورے معاشرے کا چہرہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

المیہ فلموں کی کشش کا راز یہ ہے کہ وہ ہمارے اندر موجود انسانی حساسیت کو جگاتی ہیں۔ ہم اپنے سب سے گہرے، سب سے پیچیدہ اور سب سے تکلیف دہ زخم ذرا فاصلے سے دیکھتے اور ان کے ساتھ جینے کا حوصلہ پاتے ہیں۔

اگر آپ زیادہ سیانے بنتے ہوئے المیہ فلمیں نہیں دیکھتے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے میر یا شو کمار بٹالوی کے بجائے ساری زندگی رمضان ٹرانسمشن دیکھتے ہوئے گزار دیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *