کیا لبرل ورلڈ آرڈر معدوم ہوچکا؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد جو عالمی نظام تشکیل دیا گیا تھا، اس کی بنیاد ایک ایسے تصور پر رکھی گئی تھی جس میں یہ یقین شامل تھا کہ ریاستیں تعاون، ادارہ جاتی نظم اور اقتصادی باہمی انحصار کے ذریعے نہ صرف اپنے اختلافات کو کم کریں گی بلکہ جنگ کے امکانات کو بھی محدود کر دیں گی۔

یہ وہ عہد تھا جس میں عالمی سیاست کو اصولوں، قوانین اور مشترکہ مفادات کے تحت چلانے کا خواب دیکھا گیا۔ اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی ادارے، اور تجارتی نظام اسی سوچ کی پیداوار تھے۔ مگر آج جب ہم اسی نظام کو اس کی موجودہ حالت میں دیکھتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ خواب اپنی معنویت کھو چکا ہے اور اس کی جگہ ایک ایسی دنیا نے لے لی ہے جہاں طاقت، مفاد اور نسبتی برتری اصل محرک بن چکے ہیں۔

لبرل عالمی نظام کی سب سے بڑی بنیاد یہ تھی کہ اقتصادی انضمام جنگ کو غیر ضروری بنا دے گا۔ یہ سمجھا گیا کہ جب ریاستیں ایک دوسرے کی معیشتوں سے جڑی ہوں گی، تو وہ کسی ایسے تصادم کا خطرہ مول نہیں لیں گی جو ان کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچائے۔

مگر وقت نے اس مفروضے کو کمزور کر دیا ہے۔ آج کی دنیا میں اقتصادی روابط امن کی ضمانت کے بجائے دباؤ اور کنٹرول کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ تجارت، جو کبھی تعاون کی علامت تھی، اب مسابقت، پابندیوں اور جیو اکنامک حکمت عملی کا حصہ بن گئی ہے۔

سپلائی چینز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، توانائی کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو طاقت کے توازن کے تناظر میں محدود کیا جا رہا ہے۔

یہ تبدیلی محض اقتصادی نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی بھی ہے۔ لبرل ازم کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ ریاستیں مطلق فائدے کو ترجیح دیں گی، یعنی وہ مجموعی طور پر زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی چاہے دوسروں کو بھی اس سے فائدہ ہو۔ مگر حقیقت میں عالمی سیاست دوبارہ اس مقام پر آ چکی ہے جہاں نسبتی فائدہ زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ سب کو کتنا فائدہ ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون دوسرے کے مقابلے میں زیادہ فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت پسندی ایک بار پھر عالمی سیاست کا غالب نظریہ بن کر سامنے آئی ہے۔

حقیقت پسندی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ریاستیں ایک غیر یقینی عالمی نظام میں اپنی بقا کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔ وہ کسی اعلیٰ اخلاقی اصول یا عالمی ادارے پر مکمل انحصار نہیں کرتیں بلکہ اپنی طاقت، اپنی صلاحیت اور اپنے مفادات کو مرکز بناتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ریاستیں نہ صرف اپنی عسکری صلاحیت کو بڑھا رہی ہیں بلکہ اتحاد بھی اسی بنیاد پر قائم کر رہی ہیں کہ ان کے مفادات کہاں زیادہ محفوظ ہو سکتے ہیں۔ یہ اتحاد بھی مستقل نہیں ہوتے بلکہ مفادات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ ان کی نوعیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔

عالمی اداروں کا کردار بھی اس تبدیلی کے ساتھ کمزور ہوتا گیا ہے۔

جو ادارے کبھی تنازعات کے حل اور عالمی نظم کے ضامن سمجھے جاتے تھے، وہ اب بڑی طاقتوں کے سیاسی اثر سے آزاد نہیں رہے۔ ان کی عملداری اکثر اس وقت محدود ہو جاتی ہے جب طاقتور ریاستوں کے مفادات اس کے خلاف ہوں۔ نتیجتاً ان اداروں پر اعتماد کمزور ہوا ہے اور ریاستیں زیادہ تر یکطرفہ یا محدود اتحادوں کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ صورتحال لبرل عالمی نظام کے بنیادی تصور کے برعکس ہے، جہاں اداروں کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

اسی کے ساتھ ساتھ جنگ کا تصور بھی بدل چکا ہے۔

اب جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سائبر حملے، معلوماتی جنگ اور پراکسی تنازعات اس نئی جنگی حقیقت کا حصہ ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ اب ایک استثنائی واقعہ نہیں رہی بلکہ ایک مسلسل امکان بن چکی ہے جو مختلف سطحوں پر جاری رہتی ہے۔ امن اب ایک مستقل حالت کے بجائے ایک عارضی وقفہ محسوس ہوتا ہے جس کے بعد دوبارہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی قابل غور ہے کہ لبرل عالمی نظام کا زوال صرف بیرونی چیلنجز کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے اندرونی تضادات بھی اس کے خاتمے کا سبب بنے ہیں۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات، ترقی یافتہ ممالک کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی، اور شناختی سیاست کے ابھار نے اس نظام کے خلاف ردعمل کو جنم دیا ہے۔ وہی معاشرے جو کبھی لبرل ازم کے سب سے بڑے داعی تھے، اب اس کے اصولوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

یوں لبرل عالمی نظام اپنی اندرونی بنیادوں سے بھی کمزور ہوتا گیا۔

آج کی دنیا دراصل ایک عبوری دور میں ہے۔ ایک طرف پرانا نظام اپنی گرفت کھو رہا ہے اور دوسری طرف نیا نظام ابھی مکمل طور پر تشکیل نہیں پا سکا۔ اس خلا میں غیر یقینی، علاقائی تقسیم اور طاقت کی کشمکش نے جگہ لے لی ہے۔ مختلف ریاستیں اپنے اپنے دائرہ اثر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور عالمی سیاست دوبارہ طاقت کے گرد گھومنے لگی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس صورتحال میں چھوٹی اور درمیانی طاقتوں کے لیے اپنی پوزیشن کو متوازن رکھنا مزید مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ انہیں بڑے طاقت کے مراکز کے درمیان اپنے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔

اگر اس پورے منظرنامے کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اصولوں کے بجائے طاقت، اور تعاون کے بجائے مسابقت کو ترجیح حاصل ہے۔

اقتصادی باہمی انحصار اب امن کی ضمانت نہیں رہا، بلکہ یہ خود ایک نئی قسم کی کشمکش کا ذریعہ بن چکا ہے۔ عالمی سیاست ایک بار پھر اس مقام پر آ گئی ہے جہاں ہر ریاست اپنی بقا اور برتری کے لیے کوشاں ہے، اور یہی کشمکش اس نظام کو متعین کر رہی ہے۔

اس نئے عہد کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غیر یقینی مستقل ہے۔ کوئی بھی اتحاد مستقل نہیں، کوئی بھی اصول قطعی نہیں، اور کوئی بھی توازن دیرپا نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ریاستیں مسلسل اپنی حکمت عملیوں کو بدلتی رہتی ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئے راستے تلاش کرتی ہیں۔ اس عمل میں جنگ اور امن کے درمیان حد بھی دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔

لبرل عالمی نظام کا زوال کسی ایک واقعے یا فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عمل کا حصہ ہے۔ اس عمل نے دنیا کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں حقیقت پسندی ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

اس دنیا میں ریاستیں اصولوں کے بجائے طاقت، اور مشترکہ فائدے کے بجائے نسبتی برتری کو ترجیح دیتی ہیں۔ جنگ ایک مستقل امکان ہے اور امن ایک عارضی کیفیت۔

یہی ہمارے عہد کی اصل حقیقت ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں وعدے کمزور ہو چکے ہیں، ادارے اپنی اثر پذیری کھو رہے ہیں، اور طاقت ایک بار پھر تاریخ کی سمت متعین کر رہی ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ڈاکٹر راجہ قیصر احمد ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *