کیا اسرائیلی فوج ’ٹوٹ پھوٹ‘ کا شکار ہے؟

اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان کی فوج ٹوٹ پھوٹ کا جلد شکار ہو جائے گی کیونکہ اسے افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے مبینہ طور پر اس ہفتے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے دوران خبردار کیا کہ ’آئی ڈی ایف خود ہی اندر ہی اندر گر جائے گی‘ کیونکہ فوج بڑھتی ہوئی آپریشنل ضروریات اور بڑھتی ہوئی افرادی قوت کی کمی سے نمٹ رہی ہے۔‘

جنرل ایال ضمیر نے چینل 13 کی نیوز رپورٹ کے مطابق وزرا کو بتایا: ’میں آپ کے سامنے 10 خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’اس وقت، آئی ڈی ایف کو لازمی بھرتی کا قانون، ریزرو ڈیوٹی قانون، اور لازمی خدمت کو بڑھانے کے لیے قانون کی ضرورت ہے۔ جلد ہی، آئی ڈی ایف اپنے معمول کے مشنوں کے لیے تیار نہیں ہوگی اور ریزرو نظام قائم نہیں رہے گا۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل کے لبان اور ایران پر حالیہ حملوں کے جواب میں ہونے والی کارروائیوں میں اب تک چار اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں جبکہ غزہ پر دو سالہ جارحیت کے دوران مارے جانے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 900 سے زائد ہے۔

فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے جمعرات کو کہا کہ فوج کو اپنے جاری مشنز کے لیے مکمل آپریشنل صلاحیت تک پہنچنے کے لیے تقریباً 15,000 اضافی فوجیوں کی ضرورت ہے، جن میں سے تقریباً نصف کامبیٹ فوجی ہیں۔

اسرائیلی فوج کا بھی کہنا ہے کہ اسے لبنانی محاذ پر مزید فوجی تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔

فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے ٹیلی ویژن بریفنگ میں کہا: ’لبنانی محاذ پر، جو فارورڈ دفاعی زون ہم بنا رہے ہیں اسے مزید آئی ڈی ایف فورسز کی ضرورت ہے۔‘

اس بیان پر اپوزیشن کے رہنماؤں کی جانب سے تنقید ہو رہی ہے جنہوں نے کہا کہ حکومت ملکی سلامتی کا خیال نہیں رکھ رہی۔

اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپید نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ’بغیر حکمت عملی‘ اور ’بہت کم فوجیوں کے ساتھ‘ کثیر محاذی جنگ لڑ رہی ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر کے ایک بیان میں اس کے برعکس، قانون سازی میں رکاوٹوں کو الزام دیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل فوج میں سپاہیوں کی کمی کی بڑی وجہ اس کی لبنان اور مقبوضہ مغربی کنارے پر جاری کارروائیاں اور نئی آبادیوں کا قیام بتایا جاتا ہے۔ اس ہفتے، اسرائیلی افواج نے ایک انفنٹری بٹالین کو، جسے لبنان میں تعینات کیا جانا تھا، مغربی کنارے کی طرف موڑ دیا، جبکہ آبادکاروں نے فلسطینیوں پر حملوں کی لہر جاری رکھی۔

فوج کہتی ہے کہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے، جنہیں اس سال کے انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم حریفوں میں شمار کیا جاتا ہے، بھی چینل 12 پر ایک انٹرویو میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو بھرتی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔

اس سال جنوری میں، ضمیر نے نیتن یاہو اور دیگر سینیئر حکام کو ایک خط بھیجا، جس میں خبردار کیا کہ فوجیوں کی کمی بہت جلد فوجی کارروائیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مردوں کے لیے لازمی فوجی خدمت کو جسے اگست 2024 میں 30 ماہ سے بڑھا کر 36 کر دیا گیا تھا مزید بڑھایا جائے۔

ایک بیان میں، نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن سیاست دانوں نے ضمیر کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ ضمیر نے لازمی فوجی سروس کو منظم کرنے والے قوانین کی منظوری کا مطالبہ کیا تھا۔ نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا کہ قانونی مشیروں کی وجہ سے رکاوٹ کا سامنا ہے۔

اسرائیل آپریشنل وجوہات کی بنا پر جنگی محاذ پر فوجیوں کی تعداد یا نقصانات کی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کرتا۔ غزہ کی جارحیت میں اسے لبنان اور مغربی کنارے سے کافی زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *