حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت پیر کو ملک بھر میں 86 واں یوم پاکستان سادگی سے منایا جا رہا ہے۔
اس موقعے پر پرچم کشائی کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے دن کا آغاز کیا گیا۔
مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ہوئی اور پاکستان فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے مارچ پاسٹ کیا۔
مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے مارچ کے اوائل میں کفایت شعاری پالیسی اپنانے کا اعلان کیا تھا۔
اسی پالیسی کے تحت آج کی پریڈ منسوخ کر دی گئی۔
صدر آصف علی زرداری نے آج کے دن کی نسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم پاکستان یاد دلاتا ہے کہ قومی عزم کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اتحاد سب سے اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنی دفاعی صلاحیت کو ناقابل تسخیر بنایا، جوہری صلاحیت حاصل کی۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور کامیاب غیر روایتی جنگ لڑی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’معرکہ حق کے دوران پاکستان نے دشمن کی جارحیت کا بے خوفی سے مقابلہ کیا۔ اسے ایسا سبق سکھایا جسے وہ طویل عرصے تک یاد رکھے گا۔‘
صدر کا کہنا تھا کہ امن اور پرامن بقائے باہمی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کی مکمل بیخ کنی کی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ’آزادی کی نعمت ہمارے اسلاف کے تدبر، عزم، استقامت اور قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کا دفاع کر رہے ہیں۔‘
’گذشتہ سال معرکہ حق، آپریشن بنیان المرصوص میں پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے ازلی دشمن کو موثر اور دندان شکن جواب دے کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا۔‘
پاکستان میں پہلی مرتبہ یوم پاکستان 23 مارچ، 1959 کو منایا گیا تھا کیونکہ 1940 کو اسی دن قرارداد لاہور منظور کی گئی تھی۔
