کراچی پولیس نے رواں ہفتے ایک جیولری کی دکان میں ’ہالی وڈ اور بالی وڈ فلموں کے سٹائل‘ میں ہونے والی 30 کروڑ روپے سے زائد کی چوری میں ملوث چھ رکنی گینگ کو گرفتار کر کے زیورات برآمد کر لیے، جسے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ویسٹ عرفان بلوچ نے ’اپنے کیریئر کی سب سے بڑی واردات‘ قرار دیا ہے۔
عرفان بلوچ کے مطابق 13 فروری کو کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ایک جیولری کی دکان میں چوری کی اطلاع ملنے کے بعد ضلع غربی کی پولیس حرکت میں آئی اور تحقیقات شروع کیں۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے بتایا کہ ’ملزمان نے سی سی ٹی وی کیمروں پر ٹوپیاں ڈال دیں تاکہ شناخت ممکن نہ رہے۔ پوری کارروائی ہالی وڈ اور بالی وڈ فلمی منظر کی طرح محسوس ہوتی تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ پولیس کو جب دکان کے باہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج ملی جس میں ملزمان کے دکان میں داخل ہونے کے طریقے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ انہیں مقام اور وہاں موجود سامان کی مکمل معلومات تھیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول ڈی آئی جی: ’انہوں نے شٹر کا تالا توڑنے کے بجائے چابی سے کھولا، جس سے شبہ ہوا کہ یا تو ان کے پاس اصل چابیاں تھیں یا پھر ڈپلیکیٹ تیارکی گئی تھیں۔ یہی نکتہ تفتیش کا پہلا اہم سراغ ثابت ہوا۔
’جب پولیس نے باقاعدہ انویسٹی گیشن شروع کی تو ہم نے دکان کے تمام ملازمین کا ڈیٹا اکٹھا کیا، ان کی نقل وحرکت کا جائزہ لیا اور ٹیکنیکل شواہد حاصل کیے۔ دورانِ تفتیش ایک ملازم علی عامر، جو تقریباً 12 سے 14 برس سے وہاں کام کر رہا تھا، مشکوک پایا گیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’باریک بینی سے تحقیقات اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ اصل منصوبہ ساز وہی تھا۔ اس کی نقل و حرکت غیر معمولی تھی اور اس کے روابط بھی مشتبہ افراد سے تھے۔ مزید تفتیش اور انٹیلی جنس ورک کے بعد اس نے اعتراف کیا کہ اسی نے اس واردات کی منصوبہ بندی کی تھی۔‘
عرفان بلوچ کے بقول: ’ملزم علی عامر نے اپنے اعتراف میں یہ بات قبول بھی کی کہ انہوں نے ہالی ووڈ فلم سے متاثر ہو کر چوری کی واردات کا انداز طریقہ اپنایا۔‘
ڈی آئی جی کے مطابق: ’ملزم علی عامر کوئی پیشہ ور چور نہیں تھا بلکہ اس نے چھ افراد کا منظم گینگ تشکیل دیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ اس گروہ نے چھ ماہ تک منصوبہ بندی کی اور ماسٹر مائنڈ علی عامر نے دیوار کے مخصوص حصے پر علامتی نشانات لگائے، جہاں سے کٹر کے ذریعے سوراخ کرکے دکان میں اندر داخل ہونا تھا۔
بقول عرفان بلوچ: ’اس مقصد کے لیے ملزمان نے شیر شاہ مارکیٹ سے مہنگے کٹرز خریدے، جن کی قیمت ایک سے دو لاکھ روپے تک تھی اور وہ مسلسل دکان کی ریکی کرتے رہے۔‘
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق ملزم نقب زنی کے ذریعے دکان میں داخل ہوئے۔ انہوں نےکٹرز کی مدد سے تجوریاں کاٹیں اور تقریباً 30 سے 31 کروڑ روپے مالیت کا سونا، ہیرے، چاندی اور دیگر قیمتی زیورات چرا لیے۔
عرفان بلوچ نے مزید بتایا کہ ملزمان نے زیورات کی شناخت ہوجانے سے بچنے کے لیے سونے کے کاریگروں کو بھی شامل کیا تاکہ چوری شدہ زیورات کو پگھلا کر خام سونے کی شکل دی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ویلڈر اور کٹنگ کے ماہر افراد کو بھی گینگ میں شامل کیا گیا۔
’یوں ایک مکمل نیٹ ورک بنایا گیا جس نے پری اور پوسٹ پلاننگ کے تحت واردات کو عملی جامہ پہنایا۔‘
پولیس کے مطابق ملزمان نے واردات کے لیے ایک کرائے کا گھر بھی حاصل کیا تھا جہاں چوری شدہ مال صندوقوں میں چھپا کر رکھا گیا تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس مقام پر چھاپہ مارا اور بڑی مقدار میں مسروقہ سامان برآمد کرلیا۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق: ’میرے کیریئر میں یہ سب سے بڑی اور منظم وارداتوں میں سے ایک تھی، لیکن مربوط انٹیلی جنس، تکنیکی شواہد اور مسلسل محنت کے ذریعے ہم نے مرکزی ملزمان کو گرفتار کرکے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔‘
