کراچی میں جاری بس ریپیڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لیے درآمد کی گئی بجلی سے چلنے والی 30 سے زیادہ بسیں گذشتہ دو مہینے سےکراچی پورٹ پر کسٹم کلیئرنس کی منتظر ہیں۔
سندھ حکومت اور وفاقی حکام کے درمیان بسوں پر لگنے والی ڈیوٹی کی شرح پراختلاف کے باعث ان گاڑیوں کو کلیئر نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے منصوبے کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے 22 فروری کو منصوبے کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی آر ٹی سٹیشنز کی نئی ڈیزائننگ کی گئی ہے اور نئی بسیں بھی منگوائی گئیں ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ کسٹم کلیئرنس کا عمل گذشتہ دو مہینے سے رکا ہوا ہے۔
اسی حوالے سےمحکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’درآمد کی گئی بسوں پر 18 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جبکہ پنجاب میں اسی نوعیت کی بسوں پر صرف ایک فیصد ڈیوٹی لگائی گئی۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر ایک صوبے کو رعایت دی جا سکتی ہے تو سندھ کو بھی یکساں سہولت ملنا چاہیے۔
حکام کے مطابق ’اس معاملے پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رجوع کیا گیا ہے اور یہ مؤقف اختیارکیا گیا ہے کہ بسوں کی گنجائش اور سپیسیفیکیشن پنجاب کے منصوبے جیسی ہی ہیں، اس لیے ڈیوٹی میں رعایت دی جانا چاہیے۔
تاہم مذاکرات جاری ہیں اور حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا ہے۔
لیکن نہ تو پنجاب حکومت اور نئی ایف بی آر کی طرف سے سندھ حکومت کے اس موقف پر کچھ کہا گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب مون پراپرٹی انٹرنیشنل، کسٹم اینڈ کلیئرنس ایجنسی کے نمائندے راشد خورشید نے بتایا کہ ’ڈیزل یا پیٹرول پر چلنے والی بسوں پر عموماً 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہوتی ہے جبکہ الیکٹرک بسوں پر ایک فیصد ڈیوٹی لاگو کی جاتی ہے۔
تاہم حتمی شرح کا تعین درآمدی کیٹیگری اور دستاویزی عمل پر منحصر ہوتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بسوں کی تاخیر سے کلیئرنس کے باعث منصوبے کی آپریشنل ٹائم لائن متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ شہریوں کو متوقع جدید سفری سہولت کی فراہمی میں بھی تاخیر کا خدشہ ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق شہر کے لیے اس بڑے ٹرانسپورٹ منصوبے کو اس ترجیح دی جا رہی ہے کہ اسے آئندہ 40 سے50 برسوں کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے تاکہ روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے پیش نظر ملک اقتصادی مرکز میں روز مرہ کی نقل و حرکت کو بہتر بنایا جا سکے۔
اگرچہ منصوبے کی تکمیل تاخیر کا شکار ہے تاہم سینیر صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اردگرد کی سڑکوں کے مسائل عید سے پہلے حل کر لیے جائیں جبکہ کے-فور آگمینٹیشن پائپ لائن سے متاثرہ 2.7 کلومیٹر طویل حصہ اپریل تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ اور جناح ایونیو کے حصے دو سے تین ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
لیکن بی آر ٹی سے متعلق کچھ کام مزید ڈیڑھ سال تک جاری رہ سکتے ہیں۔
