کراچی: انڈس ہسپتال کے ’سرجری ویک‘ میں 60 پیچیدہ آپریشنز

کراچی میں قائم انڈس ہسپتال نے انٹرنیشل لیڈرشب اینڈ ٹریننگ پروگرام کے دوسرے بین الاقوامی ای این ٹی سرجری ویک 2026 میں ایک ہفتے کے دوران 60 پیچیدہ آپریشن کیے۔

اس عمل میں امریکی ماہر سرجنز بھی شریک تھے۔

ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 7 سے 13 فروری کے دوران کان، ناک، گلا اور بالخصوص ہیڈ اینڈ نیک کینسر سے متعلق پیچیدہ سرجریز کی گئیں۔

عمر کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے سے ہے، جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔ بچپن ہی سے عمر کو سننے میں دشواری کا سامنا رہا،لیکن وقت کے ساتھ یہ مسئلہ بڑھتا گیا اور اس کی روزمرہ زندگی کو متاثر  ہونے لگی۔ لوگوں کی بات سمجھنے میں مشکل اور سماجی دوری یہ سب عمر کی زندگی کا حصہ بنتے گئے۔

اپنی سماعت بحال کرنے کی امید میں عمر نے مختلف ہسپتالوں کے چکر لگائے، پشین تک کا سفر کیا، مگر مہنگے علاج نے انہیں  مایوس کر دیا۔

انڈس ہسپتال پہنچنے کے بعد عمر کا مفت علاج شروع ہوا، جہاں ای این ٹی ویک کے دوران امریکہ سے آئے ماہر ڈاکٹرزنے اس کا معائنہ کیا اور جدید طریقہ علاج فراہم کیا۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عمر نےبتایا ’مجھے اکثر اپنی زندگی میں سماعت کی کمزوری کا سامنا رہا۔ میں پشین بھی علاج کے لیے گیا، لیکن مہنگےعلاج نے مجھے مایوس کر دیا۔ پھر مجھے انڈس ہسپتال کے ای این ٹی ویک کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں مجھےشامل کیا گیا۔ امریکہ سے آئے ڈاکٹر نے میرا علاج کیا، اب میری سماعت بہتر ہو گئی ہے اور میں خود کو بہت اچھامحسوس کر رہا ہوں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب انڈس ہسپتال کے ای این ٹی سرجن ڈاکٹر آصف علی آرائیں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’گزشتہ سال اس پروگرام کے دوران 22 سے 25 سرجریز کی گئی تھیں، تاہم اس سال صرف ایک ہفتے میں 60 کامیاب آپریشن مکمل کیے گئے، جو اس پروگرام کی وسعت اور بڑھتی ہوئی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔‘

نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر نادر ، جو ہیڈ اینڈ نیک سرجری میں مہارت رکھتے ہیں، نے  بتایا کہ ’انڈس ہسپتال میں کی جانے والی سرجریز انتہائی حساس نوعیت کی تھیں۔ ان کے مطابق سر اور گردن کے حصےمیں اہم اعصاب اور خون کی نالیاں موجود ہوتی ہیں اور ایسی سرجریز عموماً چھ سے آٹھ گھنٹے جبکہ بعض اوقات دس گھنٹے تک جاری رہتی ہیں۔ تاہم ان سرجریز میں ٹیومر کو نکالنے کے ساتھ ساتھ مریض کی بولنے، نگلنےاور سانس لینے کی صلاحیت کو محفوظ رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کان کی سرجریز کے ذریعےمتاثرہ مریضوں کی سماعت بحال کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔‘

ڈاکٹر نادر کے مطابق ’پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مریض اکثر بیماری کے ابتدائی مراحل میں ہسپتال نہیں پہنچتے۔ آگاہی کی کمی اور وسائل کی محدود دستیابی کے باعث مرض کافی بڑھ چکا ہوتا ہے، جس سے علاج پیچیدہ اور طویل ہو جاتا ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقو امی تعاون سے نہ صرف مریضوں کو جدید علاج کی سہولت میسر آتی ہے بلکہ پاکستانی ڈاکٹر کو بھی عالمی معیار کی مہارت سیکھنے کا موقع ملتا ہے، جو مستقبل میں مقامی سطح پر پیچیدہ سرجری کی صلاحیت کو مضبوط  بنائے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *