پاکستانی ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے بعض افغان شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان سے ’بلیک مارکیٹ‘ میں 1500 ڈالر تک وصول کیے جا رہے ہیں جس سے پاکستانی حکام نے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب افغانستان انٹرنیشنل سے جمعرات کو بات کرتے ہوئے بعض افغان شہریوں نے یہ دعویٰ کیا کہ کابل میں ’پاکستانی ویزہ بلیک مارکیٹ میں 1000 سے 1500 ڈالر تک فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ سرکاری فیس صرف 25 ڈالر ہے۔‘
متعدد درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے سفارت خانے اور قونصل خانوں سے منظور شدہ ٹریول ایجنسیوں کو رشوت دیے بغیر ویزہ حاصل کرنا یا تو ناممکن ہے یا پھر اس میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔‘
کچھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کابل، ننگرہار، قندھار اور بلخ میں پاکستان کے سفارت خانے اور قونصل خانوں سے جلد اور یقینی ویزہ پراسیسنگ کے بدلے ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے بھاری رقوم ادا کیں۔
تاہم اس کے جواب میں پاکستان کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے کوئی آفیشل ایجنٹس یا ٹریول کمپنی موجود نہیں ہے جو کسی سے پیسے وصول کرے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اعلیٰ سرکاری اہلکار کے مطابق ’ہم نے متعدد بار افغان طالبان سے یہ مسئلہ اٹھا چکے ہیں کہ ایجنٹس کے ہاتھوں درخواست گزاروں سے پیسے وصول کرنے کے معاملے کو کنڑول کیا جائے لیکن ابھی تک اس پر کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ شکایات ضرور موصول ہوتی ہیں کہ ہماری ویزہ فیس کریڈٹ کارڈ کے ذریعے جمع کرنا ضروری ہے اور یہاں لوگوں کے پاس کریڈٹ کارڈ موجود نہیں ہوتا تو اکثر ایجنٹس کے ہاتھوں یہ فیس جمع کی جاتی ہے اور درخواست گزاروں سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں لیکن اس کا سفارت خانے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
عہدیدار نے کہا کہ ’شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ابھی ہم باقاعدہ بائیومیٹرک اور ویزہ کے لیے انٹرویوں کا طریقہ کار شروع کیا ہے تاکہ ویزا پراسس آسان بنایا جا سکے۔‘
ویزہ میں تاخیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس بہت زیادہ درخواستیں آتی ہیں جس کے باعث ویزہ پراسیس کرنے میں وقت ضرور لگتا ہے۔‘
