پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل پر حالیہ پاکستانی حملے میں ہدف افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون کا ڈپو تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر سے بدھ کی رات گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے کابل شہر نے دیکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا پراپیگنڈہ جھوٹ ہے اور طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں سویلین لباس پہنتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو انڈیا فراہم کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں۔ ’انہیں تو خود دہشت گردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان نے تمام دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ کہنا غلط ہو گا کہ پاکستان افغانستان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ ’بلکہ ہمارے اوپر دہشت گردی کی جنگ مسلط کی گئی ہے اور ہم اپنا تحفظ کر رہے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی افغان قوم کے خلاف کوئی لڑائی نہیں ہے۔ ’افغان قوم مظلوم ہے اور وہ خود رجیم کے شکنجے میں ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آپریشن غزب للحق افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ہیں اور اس دوران پاکستان 81 حملے کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ پاکستانی حملے کے مقام پرمنشیات کے عادی افراد کا مرکز تھا۔ ان سے پوچھا جائے کہ عسکری کیمپ میں ایسا مرکز کیوں قائم کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغاستان پوری دنیا کی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور پاکستان اس دہشت گردی کو روک رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے رہنماؤں کو حکومتی عمارتوں میں رکھا گیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ انہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔
