افغان نیوز چینل ’طلوع‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں جب افغانستان کے عبوری وزیر دفاع ملا یعقوب سے پاکستان کے اس الزام کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، تو انہوں نے سوال کا سیدھا سادہ جواب دینے کے بجائے کہا:
’اصل درد ڈیورنڈ کا ہے۔‘
یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسی تاریخی کسک ہے جو ایک صدی سے زائد عرصے سے پاکستان افغان تعلقات کی رگوں میں زہر بن کر دوڑ رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ’درد‘ صرف نقشے پر کھنچی ایک لکیر ہے، یا یہ وہ قانونی و سیاسی گورکھ دھندا ہے جس کی تہیں کھولنے کے لیے جذبات سے زیادہ دستاویزی شواہد کی جراحت درکار ہے؟
خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے تعلق رکھنے والے محقق ڈاکٹر لطف الرحمٰن کی کتاب ’Revisiting the Durand Line‘ ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان افغان سرحد پر تناؤ کی برف پگھلنے کا نام نہیں لے رہی۔ کچھ دو برس قبل اسلام آباد میں جب میری ملاقات ان سے ہوئی، تو انہوں نے ان گرد آلود فائلوں کے وہ ورق الٹے جو اب تک تاریخ کے تہہ خانوں میں دبے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر لطف الرحمٰن کی اس علمی جستجو کا آغاز پشاور کے ٹرائبل آرکائیوز میں ایک سیل بند لفافے سے ہوا۔ وہ آرکائیو کسی اور موضوع پر تحقیق کے لیے گئے تھے مگر اس سیل بند لفافے نے ان کو ایک اور علمی سفر پر روانہ کیا۔ 1894 کی اس تحریر نے انہیں برٹش لائبریری لندن کی 60 ہزار فائلوں کی ورق گردانی اور پی ایچ ڈی کے کٹھن سفر پر مجبور کر دیا۔
افغان بیانیہ جو شاہی دور سے ہوتا ہوا آج کے طالبان تک ایک ہی ڈگر پر ہے، کچھ بنیادی ستونوں پر کھڑا ہے۔
پہلا یہ کہ امیر عبد الرحمٰن خان نے یہ معاہدہ برطانوی دباؤ میں کیا۔ دوسرا انہیں انگریزی زبان کی سمجھ نہیں تھی۔ اور یہ کہ یہ معاہدہ محض سو سال کے لیے تھا جو 1993 میں ختم ہو گیا۔ اور ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ برطانوی ہند کے خاتمے کے ساتھ ہی اس کی قانونی حیثیت دم توڑ گئی۔
مگر ڈاکٹر لطف الرحمٰن اپنی تحقیق سے ان ستونوں کو ایک ایک کر کے گراتے نظر آتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ امیر عبد الرحمٰن نہ صرف اس معاہدے کی فارسی زبان سے واقف تھے، بلکہ وہ اس حد بندی پر اتنے نہال تھے کہ انہوں نے برطانوی وفد کی ’خاطر تواضع‘ کے لیے 33 ہزار روپے دیے اور مسٹر ڈیورنڈ کو ’گولڈن سٹار‘ کے اعزاز سے نوازا۔ دستاویزی ثبوت بتاتے ہیں کہ امیر نے خود چار بار وائسرائے کو خط لکھ کر سرحد کے تعین کی درخواست کی تھی۔
رہی بات ’سو سالہ میعاد‘ کی، تو ڈاکٹر صاحب چیلنج کرتے ہیں کہ اصل دستاویز میں کہیں بھی کسی وقت یا مدت کا ذکر موجود نہیں۔ یہ ایک ابدی لکیر تھی، جسے تاریخ کے جبر نے کھینچا مگر قانون نے اسے تحفظ دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1893 کے معاہدے کے تحت طے کی گئی سرحدوں کی دوبارہ توثیق عبد الرحمان کے بیٹے اور جانشین امیر حبیب اللہ نے 1905 کے معاہدہ کابل میں بھی کی، جس میں ڈیورنڈ لائن کو ہندوستان کے ساتھ سرحد کے طور پر قبول کرنا شامل تھا۔ یہ حبیب اللہ کی کامیابی تھی کیوں کہ حکومت ہند نے عبد الرحمان کی وفات کے بعد حبیب اللہ سے مزید رعایتیں طلب کی تھیں اور کابل کو دی جانے والی مالی امداد بھی روک دی تھی۔
لوئس ڈین کے ساتھ تین ماہ کے مذاکراتی عمل کے بعد حبیب اللہ نے 1893 کے معاہدے کے تحت طے شدہ انتظامات کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ تاہم 1919 میں امان اللہ خان نے معاہدہ کابل کو مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں تیسری اینگلو افغان جنگ ہوئی۔
نتیجتاً، راولپنڈی میں دستخط ہونے والا معاہدہ مختصر اور دو ٹوک تھا۔ اس معاہدے نے نہ صرف امان اللہ کو سرحد قبول کرنے پر مجبور کیا بلکہ آرٹیکل پانچ کے تحت یہ بھی طے کیا گیا کہ:
’خیبر کے مغرب میں اس سرحد کے اس حصے کی، جو ابھی باقاعدہ حد بندی سے محروم ہے اور جہاں حالیہ افغان جارحیت ہوئی تھی، جلد از جلد ایک برطانوی کمیشن کے ذریعے حد بندی کی جائے گی، اور افغانستان اس سرحد کو قبول کرے گا جو برطانوی کمیشن مقرر کرے گا۔‘
معاہدے کے آرٹیکل دو اور تین کے تحت افغانستان کو حاصل بعض مراعات اور امیر کو دی جانے والی مالی امداد بھی واپس لے لی گئی۔
1919 کے معاہدے کے بعد 1921 میں کابل میں ایک اور معاہدہ ہوا جس میں سرحد سے متعلق سابقہ انتظامات کی دوبارہ توثیق کی گئی، اس کے علاوہ تجارت اور سفارتی مشن قائم کرنے جیسے دیگر معاملات بھی شامل تھے۔ تاہم اس معاہدے کے آرٹیکل 14 میں دستبرداری کی ایک شق موجود تھی۔ اس کے باوجود 1930 میں افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ محمد نادر شاہ نے بھی اس کی توثیق کی۔ صورت حال اسی طرح برقرار رہی یہاں تک کہ 1949 میں کابل نے دعویٰ کیا کہ وہ 1921 کے معاہدے سے دستبردار ہو چکا ہے، جو کہ ڈیورنڈ معاہدے کے تحت کیے جانے والے الحاقی دعووں سے بالکل مختلف قدم تھا۔
ڈاکٹر لطف الرحمان کے مطابق افغانستان کا آخری سرحدی معاہدہ 1932 میں ہوا تھا جو دو سال بعد 1934 میں لیگ آف نیشنز کے ساتھ رجسٹرڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق افغانستان نے برطانوی حکومت کے ساتھ ڈیورنڈ معاہدے کے بعد سرحد کے حوالے سے 10 معاہدات کیے جن سے ڈیورنڈ معاہدے کی بار بار توثیق ہوتی ہے۔
اور یوں 1947 آ پہنچا جس کے 14 اگست کی صبح نے برطانوی ہندوستان کے مغرب میں ایک نئی ریاست پاکستان کو بنتے دیکھا۔
ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی کابل کا بیانیہ اب بھی انکار ہے۔ افغان تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جس شخص کی خارجہ پالیسی یرغمال ہو، اسے جغرافیہ بدلنے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ وہ ان مسودوں کی صحت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
افغان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے تسلسل کے ساتھ دیے گئے بیانات واضح کرتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ پوری افغان قوم کا ہے اور کوئی بھی افغان حکمران اسے باقاعدہ سرحد تسلیم کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
کابل پر اقتدار قائم رکھنے کے خواہش مند کسی بھی افغان حکمران کے پاس ڈیورنڈ لائن کو پاکستان کے ساتھ متنازع سرحد قرار دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں رہا۔ یہی حال کابل پر حالیہ برسر اقتدار طالبان کا بھی ہے، جس میں پاکستان کے قریب سمجھے جانے والے امیر خان متقی سے لے کر پاکستان کے خلاف سخت موقف رکھنے والے رہنماؤں تک سب کا ڈیورنڈ لائن پر ایک ہی موقف ہے، اور یہی موقف طالبان کے بانی ملا عمر کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کے انکار سے حقائق بدل جائیں گے؟
ڈاکٹر لطف الرحمٰن اپنی کتاب میں قانونی پہلو چھیڑتے ہوئے ’ویانا کنونشن 1978‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان برطانوی ہند کا ’جانشین‘ (Successor State) ہے اور سرحدوں سے متعلق معاہدے ریاستوں کی تبدیلی سے ختم نہیں ہوتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاہدے سے افغانستان کو کنڑ کے جنوب میں 75 کلومیٹر چوڑا اور 120 کلومیٹر طویل علاقہ بشمول اسمار، لال پورہ اور برمل حاصل ہوا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا موقف ہے کہ فائدہ اٹھاتے وقت تو یہ معاہدہ درست تھا، تو اب سرحد ماننے میں تامل کیوں؟
ڈاکٹر لطف الرحمٰن کی کتاب بلاشبہ پاکستانی بیانیے کو ایک نئی علمی اور دستاویزی قوت فراہم کرتی ہے، مگر سوال وہی رہتا ہے کہ کیا تاریخ کے بند کمروں سے نکلنے والی یہ دستاویزات ان پہاڑی سلسلوں پر کھنچی خاردار تاروں کو افغان حکومت کے نزدیک ’فرضی لکیر‘ کی جگہ قابل قبول سرحد کی حیثیت دلا پائیں گی؟ یا پھر یہ ’ڈیورنڈ کا درد‘ اسی طرح پاک افغان تعلقات کی رگوں میں کسک بن کر موجود رہے گا؟
لیکن ان قانونی پہلوؤں سے اہم ایک سوال اور بھی ہے۔
وہ یہ کہ سرحد کے اس پار رہنے والے لوگ خود کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ علاقہ جسے آج خیبر پختونخوا کہا جاتا ہے، اس کے لوگ سرحد کو اٹک تک لانے کی صورت میں افغانستان کا حصہ بننا چاہیں گے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
افغان حکومت کو شاید قانونی دلائل قابل قبول نہ ہوں، مگر اسے اس حقیقت کا ادراک ضرور ہونا چاہیے کہ پاکستان کے پختونوں کا، جو ڈیورنڈ کے اِس پار کے مالک ہیں، انتخاب ہمیشہ پاکستان رہا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
