’وارث‘ جیسے کلاسک ڈراموں اور فلموں میں کرداروں کو امر کرنے والے شجاعت ہاشمی جمعے کو لاہور میں انتقال کر گئے۔
شجاعت ہاشمی کے بیٹے شاہکار ہاشمی نے بتایا کہ ’وہ کافی عرصہ سے علیل ہونے کے باعث بیڈ ریسٹ پر تھے۔ شوگر بلڈ پریشر کے مریض تھے اور گڑھی شاہو میں اپنی رہائش گاہ پر ہی موجود تھے کہ آج جمعے کی صبح ان کا انتقال ہو گیا۔‘
پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) کی دہائیوں پہلے نشر ہونے والی کلاسک ڈراما سیریل ’وارث‘ پاکستانی ڈراما تاریخ کے اہم ترین ڈراموں میں شمار ہوتی ہے۔
اس ڈرامے کو معروف شاعر اور ڈراما نگار امجد اسلام امجد مرحوم نے تحریر کیا تھا اور یہ 1979 سے 1980 کے دوران نشر ہوا۔
’وارث‘ میں متعدد یادگار کردار پیش کیے گئے، جن میں سے ایک نمایاں کردار ’مولاداد‘ کا تھا، جسے سینیئر اداکار شجاعت ہاشمی نے نہ صرف ادا کیا بلکہ امر کردیا۔
شجاعت ہاشمی کا کردار مولاداد کہانی کے اہم اور پیچیدہ کرداروں میں سے ایک تھا۔
بظاہر وہ ایک عام دیہاتی شخص دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت اس کی اصل شناخت فتح شیر ہوتی ہے، جو ایک نئی شناخت اختیار کر کے جاگیردارانہ معاشرے میں رہ رہا ہوتا ہے۔ یہ کردار بظاہر سادہ مگر اندر سے چالاک اور رازدار شخصیت کا حامل ہے۔
کہانی میں اس کی موجودگی کئی واقعات کو نئی سمت دیتی ہے۔
مولاداد کی زندگی میں ماضی کے تنازعات اور دشمنیاں چھپی ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ کہانی میں سامنے آتی ہیں۔
ڈرامے کی مرکزی کہانی جاگیردار چوہدری حشمت اور اس کے زیر اثر گاؤں سکندرپور کے گرد گھومتی ہے۔ اسی ماحول میں مولاداد کا کردار سامنے آتا ہے۔ اس کی شادی اور اس کے ماضی سے جڑے واقعات کئی تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔
ایک اور اہم کردار دلاور بھی مولاداد سے جڑا ہوا ہے۔ دلاور دراصل مولاداد سے بدلہ لینے کے ارادے سے جاگیردار کے گھر تک پہنچتا ہے۔ یوں مولاداد اور دلاور کے درمیان تعلق ڈرامے میں کشمکش اور سسپنس پیدا کرتا ہے۔
شجاعت ہاشمی نے مولاداد کے کردار کو انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا، جس میں چہرے کے تاثرات سے کردار کی پیچیدگی ظاہر کرنا، دیہی ماحول کے مطابق باڈی لینگویج، خاموشی کے مناظر میں بھی کردار کی شدت برقرار رکھنا شامل تھا۔
ان خصوصیات کی وجہ سے مولاداد کا کردار ناظرین کے ذہنوں میں نقش ہو گیا اور آج بھی اسے پاکستانی ڈراما تاریخ کے یادگار کرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
شجاعت ہاشمی کی اس اداکاری نے انہیں پاکستانی ٹیلی وژن کے نمایاں اداکاروں کی صف میں کھڑا کیا اور اسی لیےانہیں 1994 میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
ڈراما ’وارث‘ میں مولاداد کا کردار ایک ایسا کردار تھا جس میں اسرار، طاقت، انتقام اور انسانی کمزوریوں کے مختلف رنگ موجود تھے۔ شجاعت ہاشمی نے اس کردار کو جس مہارت سے ادا کیا وہ آج بھی پاکستانی ڈراما تاریخ کی یادگار پرفارمنسز میں شمار ہوتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سینیئر اداکار راشد محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’شجاعت ہاشمی ایک پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے انسان تھے، جن کے چہرے پر تاثرات کا اندازہ لگانا عام زندگی میں بھی مشکل تھا۔ انہوں نے صرف وارث نہیں بلکہ ریڈیو، ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔
’وہ جتنے بڑے اداکار تھے اس سے بھی زیادہ بہترین انسان تھے۔ ان کی وفات سے شوبز میں پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کئی ڈراموں میں ساتھ کام کیا۔ ان سے دل کا رشتہ رہا ہے۔ 75 سال کی عمر میں وہ وفات پاگئے لیکن ان کے ڈراموں اور فلموں کی صورت میں ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔‘
شجاعت ہاشمی نے وارث کے علاوہ بھی بہت سے ڈراموں اور فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، جن میں ڈراما ’زرد دوپہر‘، ’جھلہ‘، ’نقاب‘، ’رات کا پچھلا پہر‘، ’رانی اور رضیہ‘، ’کرچیاں‘ شامل ہیں۔
انہوں نے 20 سے زیادہ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان فلموں میں ’خاک اور خون‘، ’لاجواب‘، ’سوہرا تے جوائی‘، ’نوکر تے مالک‘، ’چاچا تے بھتیجا‘، ’دوستانہ‘، ’ووہٹی دا سوال اے‘ سمیت دیگر فلمیں شامل ہیں۔
