ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھتیجے کو امریکہ میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا

امریکہ کی ریاست ٹیکسس میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پاکستان بھر میں کئی لوگوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے جواں سال بھتیجے عماد صدیقی فائرنگ کے واقعے میں جان سے چلے گئے۔

ترجمان عافیہ موومنٹ پاکستان، ایوب خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’واقعہ ہفتے کی صبح ٹیکسس میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے عماد صدیقی کو ان کی رہائش گاہ کے قریب نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین افراد موٹر سائیکل پر آئے اور فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔ واقعے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں، جس کی وجہ سے اہل خانہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں۔،

ایوب خان نے مزید بتایا کہ ’عماد صدیقی کی عمر صرف 19 سال تھی اور وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے دو بھائی اور ایک بہن ہیں۔ عماد نے حال ہی میں سکول کی تعلیم مکمل کر کے کالج میں داخلہ لیا تھا۔ ساتھ ہی وہ امریکہ میں گاڑیوں کے کاروبار سے بھی منسلک تھے، جہاں وہ پرانی گاڑیوں کی مرمت کر کے فروخت کیا کرتے تھے۔،

عافیہ موومنٹ کے ترجمان ایوب خان کے مطابق: ‘ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور دیگر اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں اور غم سے نڈھال ہیں۔ وہاں امریکہ میں بھی ان کے بھائی کے گھر کہرام برپا ہے جس کی وجہ سے واقع کے حوالے سے مزید معلومات سامنے نہیں آسکیں کیوں کہ جوان بیٹے کی موت کا صدمہ بہت بڑا ہے۔‘

عافیہ صدیقی پر اس وقت دہشت گردی کا شبہ ظاہر کیا گیا جب وہ امریکہ چھوڑ کر خالد شیخ محمد، جو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے خود ساختہ ماسٹر مائنڈ ہیں، کے بھتیجے سے شادی کر کے افغانستان چلی گئیں۔

امریکہ نے 2008 میں افغان صوبے غزنی سے انہیں گرفتار کر کے ان کے قبضے سے کیمیائی اجزا کی تراکیب اور کچھ تحریریں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جن میں نیویارک حملے کا ذکر تھا۔

بعد ازاں 2010 میں انہیں امریکی فوجیوں پر حملہ کرنے کے الزامات کے تحت 86 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایوب خان نے بتایا کہ عماد صدیقی کے لیے دعائے مغفرت اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت کے لیے اتوار کی شام گلشن اقبال میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی رہائش گاہ پر تعزیتی اجتماع رکھا گیا۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی پاکستان کی ایک معروف نیورولوجسٹ (اعصابی امراض کی ماہر ڈاکٹر) اور سماجی کارکن ہیں، جنہوں نے گذشتہ کئی برسوں سے اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی  جو امریکی جیل میں قید ہیں ان کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔

وہ پاکستان میں جاری’عافیہ موومنٹ‘کی نمایاں رہنما سمجھی جاتی ہیں، جو ایک عوامی اور سماجی مہم ہے جس کا مقصد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنا ہے


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *