چمن تاحال پرامن، پاک افغان بارڈر پر سکیورٹی فورسز چوکس، لوگ پریشان

خیبر پختونخوا میں بارڈر کے مختلف علاقوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے باوجود بلوچستان کا سرحدی قصبے چمن تاحال پرامن ہے، تاہم بارڈر کے دونوں جانب سکیورٹی فورسز چوکس ہیں اور شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

سرحد سے صرف پناہ گزینوں کو جانے کی اجازت ہے جبکہ کاروبار اور دوسری ہر قسم کی سرگرمیاں معطل ہیں۔

قلعہ سیف اللہ میں کدنی کراسنگ اور ضلع چاغی بارڈر پر بھی کسی قسم کی اشتعال انگیزی کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

پاکستان کے شہر چمن اور افغان شہر سپین بولدک کے درمیان قائم کراس پوائنٹ پر تعینات سکیورٹی اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’فی الحال بارڈر پر دونوں جانب خاموشی ہے۔ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہماری فورسز مکمل طور پر چوکنا ہیں۔‘

چمن کی سرحد کئی ماہ قبل دونوں ممالک کے درمیان جھڑپ کے بعد بند کر دی گئی تھی جس کے بعد مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن دونوں جانب حکام کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

اہلکار نے بتایا کہ واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کے لیے بارڈر کھلا ہے جبکہ عام آمدورفت اور تجارت پر مکمل پابندی عائد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان ایسے اقدام سے گریزاں ہے جس سے ماحول خراب ہونے کا اندیشہ ہو، تاہم اگر مخالف سمت سے کوئی اشتعال انگیزی کی گئی تو سخت جواب دیا جائے گا۔

ماضی میں ہزاروں افراد کی آمدورفت کے باعث بارڈر پر خاصی گہماگہمی دیکھنے میں آتی تھی، لیکن آج کل بارڈر پر مکمل سناٹا ہے۔

چمن بارڈر پر خاموشی کے باوجود جنگ کے بادل منڈلاتے نظر آ رہے ہیں جہاں شہریوں میں خوف اور مایوسی کے اثرات واضح دکھائی دیتے ہیں۔

شہر کے معروف تاجر حاجی عثمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب سے بارڈر بند ہوا ہے ہمارا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’سرحد کی بندش سے بڑی تعداد میں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج ہو گئے ہیں اور بے روزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے جنگ کی باتیں شروع ہوئی ہیں، ہماری پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور اگر دوبارہ جنگ ہوئی تو مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔‘

بارڈر تجارت سے منسلک امان اللہ کاکڑ نے بتایا کہ بارڈر بند ہونے کے بعد ان کا پورا گھرانہ بے روزگار ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے تھوڑی بہت جائیداد بنائی تھی، جسے روزگار نہ ہونے کی وجہ سے فروخت کر کے زندگی گزار رہے ہیں۔‘

دوسری جانب بارڈر سے ملحقہ نوشکی، قلعہ سیف اللہ اور چمن شہر میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جہاں تمام ادارے الرٹ ہیں، جبکہ تمام ہسپتالوں میں پیرامیڈیکل سٹاف، ڈاکٹرز اور دیگر عملے کو طلب کر کے 24 گھنٹے حاضری لازمی قرار دے دی گئی ہے۔

گذشتہ ماہ قلعہ سیف اللہ کے بارڈر کدنی پر افغان اور پاکستان سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے بعد چمن اور خیبر پختونخوا کے دیگر بارڈر پوائنٹس تک کشیدگی پھیل گئی، جس کے بعد تمام کراسنگ پوائنٹس بند کر دیے گئے تھے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *