پی ٹی آئی نے عمران خان کی آنکھوں کا ’تفصیلی چیک اپ‘ مسترد کر دیا

راول پنڈی کی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈٹ نے اتوار کو بتایا کہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ شروع ہو گیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ مختلف ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ضروری طبی آلات اور ادویات کے ساتھ جیل میں موجود ہے، جہاں طبی بورڈ کی نگرانی میں عمران خان کی آنکھوں کا تفصیلی چیک اپ جاری ہے۔ 

سپرنٹنڈٹ کے مطابق معائنہ سخت حفاظتی انتظامات میں کیا جا رہا ہے اور توقع ہے ڈاکٹروں کی ٹیم کی رپورٹ جلد مرتب کر لی جائے گی۔

وفاقی حکومت نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور ان کی آنکھوں کے علاج کے لیے طبی بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے مطابق حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو ترجیح دیتی ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ’قانون کے مطابق ہر قیدی کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

تاہم عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی شعبہ تعلقات نے اتوار کو ایک بیان میں عمران خان کے طبی معائنے کے حوالے سے ’حکومت اور جیل انتظامیہ کے حالیہ طرز عمل‘ کو سختی سے مسترد کر دیا۔ 

بیان کے مطابق ’حکومت کا یہ کہنا کہ پارٹی قیادت کو پیغام دیا گیا تھا کہ وہ معائنے کے وقت جیل آ جائے، دراصل بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔

’یہ معاملہ کبھی بھی پارٹی قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی کا نہیں تھا۔ ایسے حساس اور نازک طبی معاملات میں فیصلہ کرنے کا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق عمران خان کے خاندان کا بنتا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’اور خاندان اس وقت تک کوئی باخبر فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک عمران خان کے ذاتی معالجین معائنے کے وقت موجود نہ ہوں۔ 

’اس لیے پارٹی قیادت کو علامتی طور پر مدعو کرنے کی نہ کوئی اخلاقی منطق ہے اور نہ قانونی جواز۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کی فیملی کا مطالبہ شروع دن سے بالکل واضح رہا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین تک رسائی دی جائے اور اہل خانہ سے بلاتاخیر ملاقات کرائی جائے اور یہی مطالبہ آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ برقرار ہے۔

’اس کے باوجود حکومت اور جیل حکام نے اہل خانہ اور ذاتی ڈاکٹروں کو اعتماد میں لیے بغیر ان کی غیر موجودگی میں طبی معائنہ شروع کر دیا جو نہ صرف غیر شفاف ہے بلکہ حکومت کی نیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ 

’ہم ایسے کسی بھی معائنے کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی بنیاد پر بننے والی رپورٹ کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔‘

اس سے قبل سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک وکیل نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ایک رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا کہ 73 سالہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی مرکزی رٹینا وین اوکلوژن کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے اور متاثرہ آنکھ میں صرف 15 فیصد بصارت باقی رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے بعد اپوزیشن اتحاد نے، جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے، اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا اور عمران خان کو فوری طور پر اسلام آباد کے الشِفا ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

سابق وزیر اعظم کو اس دوران اپنے بیٹوں سے تقریباً 20 منٹ بات کرنے کی اجازت دی گئی، حالانکہ گذشتہ چند مہینوں میں ان کے خاندان اور قانونی ٹیم سے محدود رابطے پر پابندیاں عائد تھیں، جنہیں پی ٹی آئی نے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

عمران خان، جو اپریل 2022 میں پارلیمانی ووٹ کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے گئے تھے، اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔

اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کیے جانے تک وہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا جاری رہے گا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *