پیٹ ہیگستھ کی ایران سے برسوں پرانی نفرت کی ویڈیوز سامنے آ گئیں

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ایران کے ساتھ امریکی۔اسرائیلی جنگ کے دوران عوامی چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں اور پینٹاگون کی بریفنگز میں جارحانہ انداز اختیار کیے ہوئے ہیں، جہاں وہ ’دشمن کو کچلنے‘ کی اپنی خواہش پر زور دے کر بات کرتے ہیں۔

انہوں نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ایران تنہا کھڑا ہے اور وہ بری طرح ہار رہا ہے۔‘ انہوں نے تہران کی مذہبی حکومت کو ’وحشی درندے‘ قرار دیا، جو ’بوکھلائے ہوئے اور ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔‘

قوم پرست پادریوں سے روابط رکھنے والے ایک مذہبی مسیحی وزیر اور ان کے بعض کمانڈروں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے بمباری کی مہم کو بائبل کی اصطلاحات میں بیان کیا ہے اور پیٹ ہیگستھ نے اپنی تازہ ترین بریفنگ کا اختتام زبور 144 کے حوالے سے کیا۔

انہوں نے کہا: ’مبارک ہو خداوند، میری چٹان، جو میرے ہاتھوں کو جنگ کے لیے اور میری انگلیوں کو لڑائی کے لیے تربیت دیتا ہے۔ وہ میرا محبت کرنے والا خدا ہے اور میرا قلعہ۔ میرا مضبوط گڑھ اور میرا نجات دہندہ، میری ڈھال جس میں، میں پناہ لیتا ہوں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسا کہ ’دی گارڈین‘ نے نشاندہی کی ہے، افغانستان اور عراق کی جنگوں میں لڑنے والے سابق فوجی اور فوکس نیوز کے سابق ویک اینڈ میزبان پیٹ ہیگستھ طویل عرصے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف سخت بیانات دیتے آئے ہیں اور اسے امریکہ اور مغرب کے لیے وجودی خطرہ سمجھتے ہیں۔

سنہ 2014 میں پیٹ ہیگستھ فوکس نیوز کے پروگرام ’دی کیلی فائل‘ میں نمودار ہوئے اور براک اوباما کو ان کی حکومت کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے بعد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ دستبردار ہوگئے تھے۔ انہوں نے یہ فرض کرنے پر کہ ’اب ہم کسی طرح ایران میں اعتدال پسندوں سے مذاکرات کر رہے ہیں،‘ اس وقت کی کابینہ پر ’جان بوجھ کر اندھے پن‘ کا الزام لگایا۔

2017 میں وہ دائیں بازو کے ادارے ’پریگر یو‘ کی ایک ویڈیو میں نظر آئے جس میں انہوں نے کہا: ’عراق کے مشرقی پڑوسی اور امریکہ کے ازلی

 دشمن ایران نے سیاسی خلا کو پُر کیا، جبکہ داعش نے سکیورٹی خلا سے بے رحمی سے فائدہ اٹھایا۔‘

ایک سال بعد پیٹ ہیگستھ نے یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں اروتز شیوا نیٹ ورک کے زیرِ اہتمام ایک میڈیا کانفرنس میں شرکت کی اور ایران کو ایک آکٹوپس سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا کہ ’ایرانی حکومت کے آج دنیا میں بہت سے بازو پھیلے ہوئے ہیں جو بدنیتی سے اسرائیل اور امریکہ دونوں کے خلاف کام کر رہے ہیں،‘ اور اس پر الزام لگایا کہ وہ ‘جوہری صلاحیت تعمیر کر رہی ہے جو امریکہ کے وجودی وجود کے لیے خطرہ ہے۔‘

انہوں نے دوبارہ اوباما کے ’ہولناک‘ جوہری معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سے صرف ’جوہری ہتھیاروں تک پہنچنے کا ناگزیر راستہ پیدا ہوا، اربوں ڈالر کی فنڈنگ فراہم ہوئی، اور وہ نفرت انگیز دہشت گرد ایرانی حکومت جو امریکہ کی موت اور اسرائیل کی موت چاہتی ہے، مضبوط ہوئی۔‘

اسی تقریب میں انہوں نے یورپ کو حقارت آمیز انداز میں ایک ’عجائب گھر‘ قرار دیا، جو ’جلد ہی شدت پسند اسلام میں ڈوب جائے گا،‘ اسرائیل کے لیے دو ریاستی حل کے خیال کو مسترد کیا اور ملک پر زور دیا کہ ’ٹکٹ خریدیں، اپنا اقدام کریں، جو یہاں اسرائیل میں کرنے کی ضرورت ہے وہ کریں، کیونکہ میں واقعی یقین رکھتا ہوں کہ یہ وہ لمحہ ہے جب امریکہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔‘

جب ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 جنوری 2020 کو قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کیا تو پیٹ ہیگستھ فوکس بزنس پر نمودار ہوئے اور کہا: ’ایران کو آج فکر مند ہونا چاہیے کہ شاید ہم دوبارہ کچھ کریں۔ اگر آپ امریکیوں کو مارنے کی کوشش جاری رکھتے ہیں تو شاید آپ کا دوسرا جنرل اگلا ہدف ہو۔۔۔ ہم سب سے طاقتور ہیں۔ آپ ہمیں جواب دیتے ہیں، ہم آپ کو جواب نہیں دیتے۔‘

پانچ دن بعد وہ ’فوکس اینڈ فرینڈز‘ پروگرام میں وہ مہمان بنے اور کہا: ’ہم عراق چھوڑتے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ ہماری شرائط پر ہونا چاہیے اور اس بات پر کہ ہم ایران کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں اور اس کی جوہری بم حاصل کرنے کی صلاحیت کو کیسے دیکھتے ہیں۔۔۔ابھی شاید وہ وقت ہو سکتا ہے جب اس صلاحیت کو مفلوج کر دیا جائے۔‘

اسی سال پیٹ ہیگستھ نے اپنی کتاب ’امریکن کروسیڈ: آور فائٹ ٹو سٹے فری‘ شائع کی، جس میں انہوں نے شدید غصے بھرے لہجے میں لکھا: ’امریکہ اسلام کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے، لیکن ہم ہمیشہ اسلام پسندوں کے ساتھ جنگ میں رہتے ہیں۔

’القاعدہ، اسلامی ریاست، طالبان، ایران اور ان جیسے دیگر گروہ ایک ایسی اسلام پسند تحریک کی تازہ شکلیں ہیں جس کا بقائے باہمی کا کوئی ارادہ نہیں۔‘

’وہ زمین چاہتے ہیں، وہ طاقت چاہتے ہیں، وہ آبادیاتی اور سیاسی برتری چاہتے ہیں، اور وہ مغرب کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے عسکری ذرائع، خصوصاً جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

اسی کتاب میں انہوں نے سعودی عرب، جو امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے اور موجودہ جھڑپوں کے دوران تہران کے جوابی حملوں کا نشانہ بھی بنا ہے، پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ’تیل کا پیسہ دنیا بھر میں شدت پسند، مغرب مخالف اسلامی سکولوں (مدارس) اور مساجد کو فنڈ فراہم کرتا ہے۔‘

اسی کتاب کے ایک اور حصے میں، جو ان کی موجودہ سوچ کی جھلک دکھاتا ہے، وہ لکھتے ہیں: ’اگر آپ امریکہ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کو اسرائیل سے بھی محبت کرنی چاہیے۔

’ہماری تاریخ مشترک ہے، ہمارا ایمان مشترک ہے اور ہماری آزادی مشترک ہے۔ اسرائیل اسلام پسندوں اور بین الاقوامی بائیں بازو دونوں کے لیے دشمن نمبر ایک ہے اور یہی اس سے محبت کرنے کی ایک کافی وجہ ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *