پیٹرول کی فراہمی سے انکار پر اسلام آباد میں 7 پیٹرول پمپ سیل

پاکستان کے صوبہ پنجاب نے ہفتے کو پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکام نے ایندھن فراہم کرنے سے انکار کرنے پر سات پیٹرول پمپ سیل کر دیے۔

عالمی تیل کی منڈیاں گذشتہ ہفتے اس وقت سے غیر یقینی کا شکار ہیں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے، جس کے بعد پورے خطے میں جوابی کارروائیاں ہوئیں۔

اس صورتحال نے اہم توانائی کی سمندری گزرگاہوں میں رکاوٹ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان نے جمعے کی رات پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھاا۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر حکام کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی توانائی منڈیوں اور ملکی سپلائی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ جیسے ہی تنازع ختم ہو قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔

اپنے دفتر سے جاری بیان میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ صوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کو خطے میں ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کر کے منافع خوری کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور جو پیٹرول پمپ مصنوعی قلت پیدا کرتے پائے گئے انہیں فوری طور پر سیل کر کے ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ کے مطابق جمعے کی رات بعض پیٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آنے کے بعد سات پیٹرول پمپ سیل کر دیے گئے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں اس وقت 25 لاکھ لیٹر سے زائد پیٹرول اور 15 لاکھ لیٹر سے زیادہ ڈیزل دستیاب ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ شہریوں کو پیٹرول فراہم کرنے سے انکار کے سات کیسز میں پیٹرول پمپ سیل کیے گئے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعے کی رات بتایا کہ پاکستان نے خام تیل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب اور یو اے ای کی بندرگاہوں کی جانب جہاز روانہ کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کی مدد سے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے دو جہاز اس وقت روانہ ہیں، جن میں سے ایک ینبو اور دوسرا فجیرہ پورٹ کی طرف جا رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے علاقے سے باہر سے خام تیل لا کر پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی کمپنی سعودی آرمکو نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر پاکستان انتظام کرے تو ویری لارج کروڈ کیریئر (وی ایل سی سی) کو ینبو بندرگاہ پر لوڈ کر کے پاکستانی سمندری حدود کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *