پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے دہشت گردی اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کے طور پر انسداد ڈرون یونٹس قائم کر دیے ہیں۔
یہ یونٹس پولیس کی نگرانی میں کام کریں گے جبکہ حکمت عملی میں تمام سکیورٹی اداروں کی مشاورت شامل ہو گی۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں انسداد ڈرون یونٹس قائم کیے جائیں گے، جن کی منظوری گذشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ صرف دہشت گردی کے واقعات کے بعد کارروائی کرنے کی بجائے، حکام کو پہلے سے حفاظتی اقدامات کرنے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔
پاکستانی حکام کے مطابق انڈیا اور افغانستان منظم دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس کے پیشِ نظر نہ صرف سرحدوں بلکہ شہری علاقوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو روکنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈائریکٹر تعلقات عامہ محکمہ داخلہ پنجاب توصیف صبیح گوندل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ’ملکی تاریخ میں پہلی بار پنجاب کے تمام اضلاع میں اینٹی ڈرون یونٹ قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ یونٹس سپیشل ڈرون فلیٹس کی مدد سے ضلع کی فضائی نگرانی کریں گے۔‘
ان کے بقول ’ہر ضلع کے ڈی پی او کی سربراہی میں اینٹی ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون سسٹم قائم کیے جائیں گے۔ اینٹی ڈرون سسٹم جیمرز کی مدد سے دشمن اور شرپسند عناصر کے ڈرونز کو ناکارہ بنائے گا۔‘
انہوں نے مزید بتایا ’فضائی نگرانی سے عوامی حفاظت اور امن و امان میں بہتری آئے گی۔ پنجاب میں ڈرون یا کواڈ کاپٹر اُڑانے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔‘
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے جاری اعلامیے کے مطابق صوبے بھر میں اینٹی ڈرون سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں۔
صوبے کے مختلف اضلاع، خاص طور پر پشاور، بنوں، لکی مروت، ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں اینٹی ڈرون گنز اور سسٹمز نصب کیے گئے ہیں۔
یہ سسٹمز غیر مجاز ڈرونز کو ڈیٹیکٹ، ٹریک اور نیوٹرلائز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس نے ملک میں پہلا مکمل ان مینڈ ایئرل وہیکل ڈویژن قائم کیا ہے جو ڈرون اور انسداد ڈرون ٹیکنالوجی دونوں کو کور کرتا ہے۔
اس میں سرویلنس ڈرونز، اینٹی ڈرون سسٹمز، جیمنگ ڈیوائسز اور گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشنز شامل ہیں۔ یہ سسٹم کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرے گا اور گرائے گئے ڈرونز کا فرانزک بھی کرے گا۔
یہ نظام کیسے کام کرے گا؟
توصیف صبیح کے مطابق ’تمام اضلاع کے اہلکار پر مشتمل اینٹی ڈرون یونٹس سپیشل ڈرون فلیٹس کی مدد سے ضلع کی فضائی نگرانی کریں گے۔
’ہر ضلعے میں انسداد ڈرون سسٹم بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ فوری کارروائی ممکن ہو۔‘
ان کے بقول یہ سسٹمز جیمرز کی مدد سے دشمن اور شرپسند عناصر کے ڈرونز کو ناکارہ بنائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہر ضلعے کی ضرورت کے مطابق سرویلنس ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹم فراہم کیے جائیں گے جس سے فضائی نگرانی سے عوامی حفاظت اور قیام امن و امان میں اضافہ ہوگا۔
پنجاب بھر میں آؤٹ ڈور ڈرون اُڑانے پر دفعہ 144 نافذ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلیجنس ادارے اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سابق آئی جی پنجاب چوہدری محمد یعقوب نے کہا موجودہ حالات میں جدید ٹیکنالوجی وقت کا تقاضا ہے۔
’پہلے سیف سٹی اتھارٹی نے جرائم پر قابو پانے میں مدد دی لیکن اب جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔
’شہری علاقوں میں مجرموں اور انتہا پسندی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی ضروری ہے۔‘
اینٹی ڈرون یونٹس کتنے موثر ہوں گے؟
چوہدری یعقوب کے مطابق پاکستان بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سکیورٹی تھریٹ میں اضافہ ہوا ہے، جس کی نگرانی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور جدید ٹیکنالوجی کے بغیر سکیورٹی ادارے موثر نہیں رہ سکتے۔ دشمن جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اینٹی ڈرون یونٹس شہری علاقوں میں بھی موثر سرویلنس یقینی بنائیں گے۔
ترجمان محکمہ داخلہ کے بقول ’پنجاب اور سندھ پولیس نے کچے علاقوں میں بھی کواڈ کاپٹرز کے ذریعے کارروائی کی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ نئے یونٹس کسی بھی ڈرون کو مار گرنے یا جیمرز کے ذریعے ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
’منشیات کی سمگلنگ یا معلومات جمع کرنے کے لیے اڑنے والے ڈرون بھی اب محفوظ نہیں رہیں گے۔‘
