پشاور میں ’پاک افغان امن جرگہ‘ آج، پائیدار امن کے لیے مشاورت ہوگی: منتظمین

قومی اصلاحی تحریک اور ایسپائر کے پی نامی تنظیم کے زیر اہتمام پاکستان افغان امن جرگہ کے نام سے نشست منگل یعنی آج پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر میں منعقد ہوگی جس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے۔

اس امن جرگے کی میزبانی خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکرٹری شہزاد ارباب کریں گے جبکہ جرگے میں شرکت کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلا اور دیگر مکاتب فکر کے نمائندگان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

اس جرگے کا اعلان 29 مارچ کو سابق چیف سیکرٹری شہزاد ارباب نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔

شہزاد ارباب نے جرگے کے مقصد کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اس جرگے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے کیونکہ دونوں جانب مسلمان اور ایک دوسرے کے بھائی رہتے ہیں۔

شہزاد ارباب کے مطابق ’ہمارے (تعلقات) کی ایک تاریخ ہے اور جو جنگ جاری ہے، یہ ہمارے شایان شان نہیں ہے۔ دونوں طرف کے لیے جنگ میں کوئی بہتری نہیں ہے اور اسی سلسلے میں ہم بیٹھیں گے اور مشاورت کریں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے جرگے کے شرکا کے حوالے سے بتایا کہ جرگے میں 60 کے قریب مشران کو مدعو کیا گیا ہے اور مشاورت کے بعد ایک اعلامیہ جاری ہوگا جبکہ اس کے بعد بلوچستان کے مشران کے ساتھ جرگہ اور اس کے بعد افغانستان کے مشران کے ساتھ بھی جرگہ کریں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ کشیدگی گذشتہ چند ماہ سے جاری ہے اور پاکستان کی جانب سے بارہا افغانستان کو بتایا گیا ہے کہ افغانستان کی زمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

افغان طالبان اس بات کی تردید کرتے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف رپورٹس میں یہ بتایا گیا ہے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں۔

گذشتہ کچھ ہفتوں میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مختلف صوبوں میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر فضائی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔

کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے مابین تمام تجارتی گزرگاہیں بھی گذشتہ تقریباً پانچ مہینوں سے بند ہیں۔

اس سے پہلے صوبائی حکومت نے بھی صوبائی اسمبلی میں ایک جرگہ بلایا تھا جس میں خیبر پختونخوا میں پائیداد امن کے حوالے سے بات کی گئی تھی اور صوبائی حکومت کے مطابق اس جرگے کا اعلامیہ وفاقی حکومت کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *