پشاور کو محفوظ، ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور تمام ریسکیو اداروں کو ایک ہی نظام کے تحت مربوط کرنے کی غرض سے پشاور سیف سٹی منصوبہ 18 سال کے طویل انتظار کے بعد مکمل ہو گیا ہے۔
اس منصوبے کی منظوری 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں دی گئی تھی، جس کے تحت پشاور اور اسلام آباد میں کیمرے نصب کرنے اور نگرانی کا نظام قائم کرنے کا منصوبہ شامل تھا۔
اسلام آباد اور لاہور میں سیف سٹی منصوبے پہلے ہی کام کر رہے ہیں جب کہ پشاور میں یہ منصوبہ طویل عرصے تک تاخیر کا شکار رہا تاہم اب اسے فعال کر دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق سیف سٹی منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں پشاور شہر کے 133 مقامات پر 711 مختلف کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جو مختلف علاقوں کی نگرانی کریں گے۔
فرحان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس نظام سے پولیس کو جرائم میں کمی لانے میں مدد ملے گی، کیوں کہ جدید دور میں جرائم کی تفتیش کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ ضروری ہے۔‘
سیف سٹی منصوبے کا مرکزی کنٹرول روم پشاور پولیس لائنز میں قائم کیا گیا ہے، جہاں کیمروں سے 24 گھنٹے نگرانی کی جائے گی۔ کنٹرول روم میں مختلف محکموں، جیسے ریسکیو، پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکار بھی موجود ہوں گے۔
ریسکیو میں مدد
فرحان خان کے مطابق کنٹرول روم میں ریسکیو اہلکار بھی تعینات ہوں گے اور کیمروں کے ذریعے کسی بھی مقام پر حادثے کی نشاندہی ہونے پر ریسکیو ادارے فوری طور پر ریئل ٹائم میں کارروائی کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور سیف سٹی منصوبے میں ایک خودکار نظام بھی شامل ہے، جو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں قریبی موبائل پولیس وین یا متعلقہ یونٹ کو خودکار طور پر اطلاع دے گا۔
فرحان خان نے کہا: ’اس نظام میں انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہو گی، کیوں کہ مختلف نوعیت کے کیمرے خودکار طریقے سے متعلقہ محکمے کو اطلاع دیں گے، جس کے بعد ادارہ فوری ردِعمل دے گا۔‘
ای چالان کا نظام
پشاور میں بے ہنگم ٹریفک شہریوں کے مطابق ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیف سٹی منصوبے کو ٹریفک نظام سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ فرحان خان کے مطابق کیمروں میں گاڑی کا رجسٹریشن نمبر پڑھنے کی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس نظام کے تحت ای چالان کا نظام بھی فعال ہو جائے گا، یعنی ٹریفک خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی کے مالک کے نام پر خودکار طور پر چالان جاری کیا جائے گا۔‘
فرحان خان نے مزید بتایا کہ اس نظام میں شہریوں کی پرائیویسی کا خصوصی خیال رکھا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی کی ذاتی تصاویر یا ڈیٹا لیک نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نظام پولیس کو جرائم کی تفتیش، ٹریسنگ اور ملزموں تک پہنچنے میں بھی مؤثر مدد فراہم کرے گا۔
