پروفیسر برج نارائن: قائد اعظم کا وہ ہندو حامی جسے لاہور میں بیدردی سے قتل کر دیا گیا

پروفیسر برج نارائن تقسیم پاکستان کا ایسا کردار ہیں جو ہماری تاریخ کے تضاد آمیز دوراہے پر کھڑا ہے۔ ہندوستان میں انہیں ایک پڑھے لکھے ’مورکھ‘ (احمق) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جنہیں قائد اعظم کا ساتھ دینے اور پاکستان کا حامی ہونے کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ دوسری جانب پاکستان میں ان کے نام سے شناسائی رکھنے والوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے صفر کے برابر ہو چلی ہے۔

برسبیل تذکرہ، انہیں یاد بھی کیا جائے تو قتل کے لرزہ خیز واقعے کے سوا دوسرے کوئی معلومات بہم نہیں پہنچائے جاتے۔ حالانکہ جب یہ اندوہ ناک واقعہ پیش آیا (14 اگست 1947 کی سہ پہر) ان کا نام لاہور کی علمی تاریخ میں محاورہ تھا۔ وہ کئی معروف تعلیمی اداروں (سناتن دھرم کالج، پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج لاہور، دی اے وی کالج) سے مستقل یا جزوی طور پر وابستہ تھے۔ ان کے معاشی خطبات اور تصورات کو ہمہ گیر شہرت حاصل تھی۔

کیسے تعجب کی بات ہے، ایسے معروف شخص کے حالات زندگی کی بابت ہماری گرہ میں کوئی مال نہیں۔ حتیٰ کہ نکلسن روڈ، لاہور کے جس گھر میں ان کے قتل کا واقعہ پیش آیا، کبھی اس کا سراغ لگانے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی۔ اردو میں لکھنے والوں نے برج نارائن کے قتل کے سلسلے میں دو تین کتابوں پر تکیہ کیا ہے، جن میں گوپال متل کی آپ بیتی، ’لاہور کا جو ذکر کیا‘ ، سوم آنند کے انٹرویوز/کتاب اور ایک آدھ انگریزی کتاب شامل ہے۔

تعجب ہے کہ پروفیسر موصوف کی اپنی کتابوں کو کبھی مآخذ کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا حالانکہ برج نارائن درجنوں کتابوں اور تحقیقی مقالات کے مصنف تھے۔

برطانیہ کے معاشی اداروں میں جہاں جہاں ہندوستانی معیشت کا ذکر ہوا، انہیں ضرور یاد کیا گیا ہے۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد، لاہور میں موجود پڑھا لکھا طبقہ ان کے حالات و واقعات نیز شخصیت کو محفوظ کر سکتا تھا۔ ہندی اخبارات کو مآخذ بنا کر سوانحی حالات معلوم کیے جا سکتے تھے۔ اور کچھ نہیں تو برطانوی اخبارات میں وفیات کے لازمی حصے، Obituaries ہی کو ترجمہ کیا جا سکتا تھا۔ حیرت کی بات ہے، ان تینوں باتوں میں سے کوئی ایک بھی ممکن نہیں ہو سکی۔

اب عالم یہ ہے، کہ عہد کے تفاوت، لوگوں کی عدم دل چسپی اور معاصرین کے گزر جانے نے ان کے سوانحی آثار کی کھوج کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔ البتہ حکومتی سطح کی سرپرستی گمشدہ حقائق کھودنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ 

پروفیسر برج نارائن ہندوستان بھر کی نہایت اہم اور قابلِ قدر شخصیت تھے۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ قائد اعظم نے پروفیسر موصوف کو پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ظاہر ہے مقصود یہ تھا کہ پروفیسر موصوف سے پاکستان کی معاشی اُٹھان اور اس کی مشکلات حل کرنے میں مدد لی جا سکے۔

ہندی اخبارات سے معلوم ہوتا ہے، ان کی شہرت میں قابل قدر اضافی قرار داد پاکستان (1940) کے بعد ہوا۔ بطور استاد اور عالم وہ پہلے ہی جانے پہچانے تھے، لیکن ملکی و عملی سیاست سے وابستگی قرار داد لاہور کے بعد کا قصہ ہے۔

ہندی اخبار ان کی لیاقت کے قائل تھے لیکن جناح کا ساتھ دینے کی بنا پر انہیں معاف کرنے کو راضی نہیں ہوئے۔ برج نارائن کے گاندھی مخالف خیالات کی خوب بھد اڑائی جاتی۔ انہیں دیش دروہی اور سناتن دروہی کہا جاتا۔ ہندوں اور سکھوں کی غالب اکثریت ان کے خلاف ہو گئی تھی۔ روچی رام ساہنی نے اپنی یادوں میں ان کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

برج نارائن، سناتن دھرم کالج، لاہور (موجودہ ایم اے او کالج لاہور) میں اکنامکس کے پروفیسر تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ اقتصادیات میں ان کا اعزازی تقرر کیا گیا تھا۔ لطف کی بات ہے ، تقسیم سے قبل لاہور میں، اقتصادیات کے ماہرین کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ ان میں ڈاکٹر کے ملہوترا، ڈاکٹر ڈی این بھلّا، ایس ایم اختر ، ڈاکٹر ترلوچن سنگھ ، بی ایم بھاٹیا اور پی سی ملہوترا ، ڈاکٹر کے کے دیوت اور  ڈاکٹر درگا پرشاد کے نام شامل ہیں۔ ڈاکٹر کے کے دیوت اور ڈاکٹر ترلوچن سنگھ کا تعلق گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبۂ اقتصادیات سے تھا۔

ڈاکٹر ترلوچن نے، پروفیسر برج نارائن کے بر خلاف، ہندی بھاشا میں اقتصادیات (ارتھ شاستر) کے موضوع پر یادگار تحریریں چھوڑیں ہیں۔ تاسف کی بات ہے، ڈاکٹر ترلوچن سنگھ اور ان کے ہم کار، کے کے دیوت کی سوانحی معلومات بھی پردۂ عدم میں مخفی ہیں۔

 پروفیسر برج نارائن نے عالمی شہرت یافتہ انگریزی کتابوں (مثلاً  A Population of India : A comparative study اور Essays on Indian Economic Problems) کے علاوہ اردو زبان میں بھی قابلِ ذکر کتابیں لکھیں۔

ان میں اقتصادی ہند، سرد بازاری اور علمِ دولت وغیرہ شامل ہیں (اقتصادیات کے لیے علمِ دولت جیسی سادہ اور عام فہم اصطلاح کا استعمال کیسا خوش گوار ہے!)۔

اس کے علاوہ انہوں نے کئی چھوٹے بڑے رسائل بھی لکھے۔ اردو کتب اور رسائل میں سائنسی و اقتصادی مسائل کو عوام کی زبان میں سمجھایا گیا ہے۔ مذکورہ کتابوں کے اردو دیباچے بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دیباچے پروفیسر موصوف کی اردو زبان سے محبت اور کسی قدر ذہنی احوال کے عکاس ہیں۔ ایک دیباچے کا اقتباس دیکھیے:

’قصور یونیورسٹی (پنجاب یونیورسٹی) کا ہے۔ تعلیم انگریزی زبان میں دی جاتی ہے، حالانکہ اس علم کو اردو میں پڑھانا زیادہ آسان ہے۔۔۔۔ایک دن ہمارے کالجوں بلکہ سکولوں میں بھی علمِ دولت اردو میں پڑھایا جائے گا۔ موجودہ طریقۂ تعلیم (انگریزی میں تدریس) عقل سے خالی ہے۔‘

ظاہر ہے، برج نارائن کا اپنا ہاتھ انگریزی میں تنگ نہ تھا۔ ان کے بیشتر  مقالات معیاری انگریزی میں لکھے گئے ہیں۔ ایک عالم اور استاد کے طور پر ان کے پیش نظر، برصغیر کی حقیقی و عملی ترقی تھی۔

جہاں تک اردو تحریر کا تعلق ہے، برج نارائن کی زبان ایسی شستہ و رواں ہے کہ ’بوئے کچوری میں آید‘ ( تمہاری زبان سے کچوری کی بو آتی ہے) کا محاورہ یکسر بے معنی معلوم ہوتا ہے۔

یہ طنز ہندو ادبا کو اکثر سہنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کئی سلسلہ وار کتابیں بھی لکھیں۔ علم و ادب نامی سلسلے کی پہلی جلد ’آسمان‘ کے دیباچے میں علامہ اقبال کے شعر پر معنی خیز بحث دیکھیے:

تجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سلسلۂ روز و شب صیرفی کائنات

تو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات موت ہے میری برات

ان دو سیدھے سادے مگر پُر از معنی اشعار میں علامہ اقبال نے نہایت خوبی و اختصار کے ساتھ ارتقا کے صحیح معنی بتا دیے ہیں۔ گویا دریا کو کوزے میں بند کیا ہے۔ صیرفی کے معنی صرّاف کے ہیں جو سونے کو کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ سلسلۂ روز و شب سے مراد ہے زمانہ۔ جی چاہے تو خدا کہہ دو۔ قدرت کا صرّاف مجھے اور تمہیں پرکھتا ہے۔

اگر تم اور میں کم عیار ہیں، یعنی تم میں اور مجھ میں کھوٹ ملا ہوا ہے۔ یا تول میں پورے نہیں اترتے تو میری اور تمہاری دونوں کی موت ہے۔ یا دونوں کو موت کا پروانہ ملے گا۔ مطلب یہ ہے دونوں مارے جائیں گے یا دونوں کو ارتقا نصیب نہیں ہو گا۔ سلسلہ روز و شب کسی کو نہیں بخشتا۔ ربوبیت یا رحم و کرم سے خالی ہے۔ جو قوم بقا کی لائق نہیں ہے فنا ہو جائے گی۔ جانداروں کو خواہ انسان ہوں یا حیوان، جن کو بقا نہیں ہے ، موت کا پروانہ ضرور مل کر رہتا ہے۔

(ایسے خوب صورت ، واضح اور انسان دوست خیالات کے حامل انسان کا درد انجام  کیسا افسوس ناک معلوم ہوتا  ہے۔)

برج نارائن کو ان کے نکلسن روڈ والے گھر میں قتل کیا گیا۔ آج تک اس گھر کی نشان دہی نہیں ہو سکی (یا شاید کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی)۔ ان کے قتل کی تاریخ کے بارے بھی میں دو روایات ملتی ہیں۔ کچھ اخباروں اور مصاحبوں میں یہ واقعہ 14 اگست 1947 کا ہے، جبکہ دیگر اسے 11 اگست 1947 کی روداد قرار دیتے ہیں۔ 

نکلسن روڈ والے گھر سے پہلے وہ میگلیگن روڈ پر قیام پذیر تھے۔ ان کی اکثر کتابوں کے دیباچے میں یہی پتہ ملتا ہے۔ اردو اور انگریزی کتابوں کے دیباچوں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، پروفیسر صاحب 1938 یا 1939 کے لگ بھگ نکلسن روڈ والی رہائش میں منتقل ہوئے۔ اسی گھر میں ان کا قیمتی کتاب خانہ بھی موجود تھا۔ یہ کتاب خانہ ان کی پوری زندگی کی محنت و ریاضت اور جستجو و تلاش کا حاصل تھا۔ اس کتاب خانے میں معاشیات کے علاوہ علم و ادب اور تاریخ و فلسفہ کی بے حد نادر کتب موجود تھیں۔

 ان کی کتابوں کے دیباچوں سے درج ذیل نتائج تک پہنچا جا سکتا ہے :

1۔ وہ 1888ء میں پیدا ہوئے (افسوس، جائے پیدائش کا تا حال علم نہیں ہو سکا۔ قیاس ہے، مزبوم لاہور کو ہو گا۔)

2. انہوں نے معاشیات میں ایم اے کر رکھا تھا۔

3. 1939ء میں انہیں اقتصادیات پڑھاتے ہوئے پچیس سال ہو گئے تھے۔ یعنی انہوں نے تدریس کا آغاز 1914ء کے لگ بھگ کیا ہو گا۔

4. تدریس کے آغاز کے وقت ان کی عمر چھبیس برس رہی ہوگی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

5. وہ معاشیات کی تعلیم کے لیے انگریزی سے زیادہ اردو کو موزوں جانتے تھے۔

6۔ ان کی انگریزی کتابیں راما کرشنا اینڈ سنز بک سیلرز ، انارکلی اور دی پنجاب پرنٹنگ ورکس، کچہری روڈ ، لاہور سے چھپیں۔

7. اردو کتب لاجپت رائے اینڈ سنز پبلشرز ، تاجران کتب لاہور اور مرکنٹایل پریس لاہور وغیرہ سے طبع ہوئیں۔ ( اس دور میں پریس کا اکثر کام ہندؤں کے ہاتھ میں تھا۔)

8۔ پروفیسر برج نارائن نے ٹھیٹھ معاشی کتابوں کے علاوہ سائنسی اور ہندوستانی عقائد پر بے شمار رسالے لکھیں۔ ان رسالوں کی اردو ، ایسی رواں اور شستہ ہے کہ اردو کے ادیب کا گماں گزرتا ہے۔

9۔ پروفیسر روچی رام سنہی نے اپنی یاداشتوں میں پروفیسر برج نارائن کے والد سورج نارائن کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے، وہ دہلی سے آئے تھے۔ چوں کہ روچی رام، انیسویں صدی کی نویں دہائی (1886ء) میں گورنمنٹ کالج لاہور سے منسلک ہوئے، لہذا گمان غالب ہے، سورج نارائن کے دہلی سے لاہور آنے کا واقعہ، روچی رام کی جی سی آمد سے قدرے پہلے کا ہو گا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خود برج نارائن کی پیدائش (1888ء) لاہور میں ہوئی ہو گی۔

ان سادہ لیکن ضروری سوانحی حقائق تک پہنچنے کے لیے مجھے ان کے مقدور بھر دیباچوں اور مضامین کی چھان پھٹک کرنا پڑی ہے۔ ان کی کتابوں سے کاملاً بہرہ مند ہونے کے لیے اقتصادیات سے واقفیت لازمی ہے۔ ان نتائج سے کئی ذیلی سوالات پیدا ہوتے ہیں ، جن کا جواب مزید تحقیق و تفحص کی بدولت ممکن ہے :

1۔ پروفیسر برج نارائن کا بچپن کہاں گزرا؟ (لاہور میں؟ اور لاہور کے کون سے علاقے میں؟)

2۔ تعلیم (ابتدائی و اعلیٰ) کہاں سے حاصل کی۔

3. درس و تدریس کا آغاز کہاں سے کیا؟

4. وہ کون کون سے اردو اخباروں میں لکھا کرتے تھے؟

5۔ بیسویں صدی کے وسط تک لاہور کے ذاتی کتب خانے زیادہ نہیں تھے، کیا تاریخ میں برج نارائن کے کتب خانے کی کھوج لگائی جا سکتی ہے؟

(ملحوظ رہے ، پروفیسر برج نارائن کے دور میں لاہور کا سب سے بڑا ذاتی سائنسی کتب خانہ ، پروفیسر روچی رام سنہی کا تھا۔ پروفیسر روچی جی سی لاہور سے 1918ء میں سبک دوش ہوئے تھے۔ وہ جی سی کی  مغربی سمت واقع اپنی بڑی حویلی میں مقیم تھے۔ ان کا قیمتی کتاب خانہ بھی فسادات کی نذر ہو گیا۔)

6۔ برج نارائن کی اندوہ ناک ہلاکت کے بعد ان کا انتم سنسکار کہاں ہوا؟

7۔ کیا برج نارائن کی اولاد اور خانوادہ ہندوستان چلے گئے۔ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے ، تو اس کی کھوج لگانا کیوں کر ممکن ہے۔

تقسیم کے حوالے سے اکثر لوگوں (مثلاً گوپال متل اور کے کے عزیز) نے ان کے نکلسن روڈ والے گھر کا بہت ذکر کیا ہے۔ کے کے عزیز لکھتے ہیں:

”جب ایک مجمع ان کے گھر کو نذر آتش کرنے کے مذموم ارادے سے وہاں پہنچا تو برج نرائن نے گلی میں دروازے پر ان کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا، چند روز میں یہ تمام مکان پاکستان کی مِلک ہوں گے۔ انہیں نقصان پہنچانا پاکستان کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پہلے مجمعے کو قائل کر لیا اور بلوائی تتر بتر ہوگئے۔ کچھ دیر بعد ایک اور ہجوم جمع ہو گیا۔ شومیٔ قسمت پروفیسر موصوف اسے قائل نہ کر سکے۔ وہ قتل کر دیے گئے اور ان کا کتاب خانہ راکھ میں بدل گیا۔“

اردو کتابوں میں قتل کی اسی قدر تفصیلات ملتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے، جس روز یہ واقعہ پیش آیا ، پروفیسر موصوف کے گھر میں پروفیسر (پرنسپل) بھوپال سنگھ بھی موجود تھے۔ پروفیسر بھوپال سنگھ نے برج نارائن کو تنبیہ کی، کہ گھر سے نہ نکلیں۔ برج نارائن کو یقین تھا کہ ان جیسے مسلم دوست آدمی کی تذلیل نہیں کی جا سکتی۔

مجمع نے جب انہیں قتل کیا اور چھریاں، چاقو، تلواریں اور نوکیلے پتھر پروفیسر صاحب کے جسمِ نحیف میں اتار دیے، پورے شہر پر سکتہ طاری ہو گیا۔ گھر کا ایک دروازہ عقبی جانب بھی تھا۔ پرنسپل بھوپال سنگھ نے وہیں سے راہ فرار اختیار کی۔ اس واقعے نے لاہور کے پڑھے لکھے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ 

یاد رہے یہ انجام ان پروفیسر موصوف کا ہوا ، جو جولائی 1947ء تک ، پنجاب اور ہندوستان بھر کے مذہبی فسادات کو ایک بڑی تبدیلی کا آغاز سمجھتے تھے۔ سماچار اور اتہاس پنچ میں مرقوم ہے : پروفیسر صاحب کو یقین تھا، جلد ہندو مسلم فسادات ختم ہو جائیں گے اور دلت اور مسلمان عدل و انصاف پر مبنی زندگی گزاریں گے۔ پروفیسر برج نارائن قرارداد لاہور کے نکات کو صائب جانتے تھے۔

قائد اعظم اور ان کے نظریات سے بے حد متاثر تھے۔ ہندی اخباروں میں یہ بھی لکھا ہے ، اس سب کے پیچھے پروفیسر برج نارائن کی لاہور سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ لاہور چھوڑنے پر کسی صورت تیار نہ تھے لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔

سوچنے کی بات ہے، آج جب کہ حالات بدل چکے ہیں، کیا ہم ان کے علمی ورثے کی کھوج لگا سکتے ہیں؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *