پاکستان کی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس اس وقت پیٹرول اور ڈیزل کا 28 روز کا ذخیرہ موجود ہے۔ دوسری جانب پاکستانی وزارت پیٹرولیم کو سعودی عرب نے ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
سعودی عرب نے پاکستان کو آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی ترسیل بحیرۂ احمر کی ینبع بندرگاہ سے جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اس ضمن میں اسلام آباد نے ایک جہاز بھی بھیج دیا ہے۔
وزارت پیٹرولیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ انتظام اسلام آباد کی جانب سے سعودی عرب کے حکام کو لکھے گئے ایک خط کے نتیجے میں کیا گیا۔ ’ریاض نے پاکستان کی توانائی کی ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کا وعدہ کیا ہے۔‘
بدھ کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ ملک میں اس وقت 28 روز کا ڈیزل اور پیٹرول دستیاب ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی کسی قسم کی قلت نہیں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر پاکستان میں تیل کی قلت سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے جا رہے تھے، جس کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ تاہم علاقائی کشیدگی کے تناظر میں حکومت صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے مزید تفصیلات جاننے کے لیے وزارت خزانہ اور وزارت پیٹرولیم سے رابطہ کیا۔
وزارت پیٹرولیم و خزانہ کے حکام نے بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر مارچ کے آخر تک موجود ہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی ہے۔
اس خصوصی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، یکم مارچ کو جاری کیا گیا۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی مانیٹرنگ کے لیے یہ خصوصی کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے اور اس ضمن میں اہم فیصلے فوری طور پر کیے جائیں گے۔
وزارت پیٹرولیم کے حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کو مدِنظر رکھا جائے گا اور ریگولیٹ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کورونا دور کی طرح پیٹرولیم کی بچت سے متعلق فیصلوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تیل و گیس کے مقامی ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔
محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ ملک میں تیل و گیس کی کوئی قلت نہیں، تاہم عوام سے بھی اپیل ہے کہ توانائی کی بچت کو اپنی عادت بنائیں۔ ’اگر علاقائی کشیدگی جاری رہی تو اس کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں گے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب کابینہ کمیٹی کا توانائی کی سپلائی اور ذخائر سے متعلق وزیر خزانہ کے زیرِ صدارت آج ایک اجلاس ہوا ہے۔
اجلاس میں عالمی آئل مارکیٹ میں پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا گیا، جس میں بین الاقوامی بینچ مارک قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، شپنگ روٹس کی صورتِ حال اور اہم سمندری گزرگاہوں میں بدلتے حالات سمیت دیگر معاملات شامل تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے بیان کے مطابق اس کمیٹی نے یہ نوٹ کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال اور اس کے عالمی توانائی تجارت پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر عالمی توانائی کا ماحول بدستور غیر یقینی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگرچہ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی درآمدات پاکستان کے توانائی مکس کا اہم حصہ ہیں، تاہم علاقائی شپنگ روٹس میں تعطل عالمی ایل این جی لاجسٹکس کو متاثر کر سکتا ہے۔
کمیٹی نے سپلائی سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے مختلف ہنگامی اقدامات پر بھی غور کیا، جن میں بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطہ اور متبادل سپلائی ذرائع کی تلاش شامل ہے۔ اس ضمن میں اراکین کو دوست ممالک اور علاقائی سپلائرز کے ساتھ جاری سفارتی اور تجارتی روابط سے آگاہ کیا گیا تاکہ ضرورت پڑنے پر اضافی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی اتار چڑھاؤ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی، رخ موڑنے یا سمگلنگ کی روک تھام نہایت اہم ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ مزید مضبوط بنائیں تاکہ مقامی سپلائی محفوظ رہے۔
