افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے جمعے کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے فضائی کارروائی میں قندھار ایئرپورٹ کے قریب کام ایئر کے فیول ڈیپو کو نشانہ بنایا ہے۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعہ کی صبح ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ کام ایئر کے جس نجی فیول ڈیپو کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے وہاں سے افغانستان میں نجی ائیر لائنز اور اقوام متحدہ کے طیاروں کو ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے پہلے بھی حاجی خانزادہ کے نام سے ایک تاجر کی نجی تیل کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔‘
تاہم تاحال پاکستان کی جانب سے اس افغان دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں گذشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔
جواب میں افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شدت پسندی کا مسئلہ سابق اتحادیوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بڑا تنازع رہا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل ایسے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شدت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان چین کی ثالثی کی کوششوں نے حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان لڑائی کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد اور بیجنگ افغانستان کے معاملے پر ’مکالمے کے عمل‘ میں مصروف ہیں۔
طالبان کی حکومت نے جمعرات کو بھی کہا تھا کہ مشرقی افغانستان میں مبینہ طور پر پاکستانی توپ خانے اور مارٹر فائر سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد جان سے گئے ہیں۔
تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا اور دونوں طرف سے اموات کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بدھ کو ایکس پر پوسٹ میں بتایا تھا کہ ’پاکستانی حملوں سے اب تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے مجموعی طور پر 641 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔‘
اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پاکستان نے ’مضبوطی کے ساتھ ٹارگٹڈ آپریشنز کیے ہیں، اس اصول کے ساتھ کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔‘
