پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے جس طرح شکستوں کے انبار لگا دیے ہیں اور کمزور ترین ٹیموں سے باآسانی شکستیں قبول کر رہی ہے ایسے حالات میں لگتا ہے اب آسٹریلیا اور انڈیا جیسی ٹیموں کو مٹی چٹانا قصہ پارینہ بن گیا ہے۔ اب تو پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش جیسی ٹیم کے سامنے بھی بھیگی بلی بن جاتی ہے۔
ٹیم نے گذشتہ دو سال میں جتنی بری کارکردگی دکھائی ہے اس پر جتنا استفسار کیا جائے کم ہے۔ اربوں کے خرچے، بہترین سہولیات، بہترین تنخواہیں، بونس اور ڈیلی الاؤنس کے باوجود ٹیم کی کارکردگی اب سٹیل مل اور پی آئی اے سے بھی بدتر دکھائی دیتی ہے۔
ٹیم میں کوئی مستقل مزاجی ہے اور نہ کارکردگی بہتر کرنے کا عزم نظر آتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ جواب طلبی وہی کرسکتا ہے جو خود کامل ہو۔ ٹیم مینجمنٹ کی کمزوریوں نے نااہل کھلاڑیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ پچاس لاکھ روپے کی خطیر رقم ماہانہ چند سابق کھلاڑیوں کو مینٹور کے نام پر دی گئی اس کا حساب لیا جانا چاہیے۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک لیگ سپنر اور مڈل آرڈر بلے باز نے کوچ اور چیف سیلیکٹر کو جواب دے دیا تھا کہ پہلے اپنی اوقات دیکھو پھر ہم سے بات کرنا کیونکہ سیلیکشن کمیٹی میں بھی وہ لوگ شامل ہیں جو مبینہ طور پر خود سفارشی رہے اور کسی کے زیر سایہ کھیلتے رہے۔ ایسا نہیں کہ وہ ٹیلنٹڈ نہیں تھے لیکن ان سے کہیں اچھے کھلاڑی باہر بیٹھے ہاتھ مسلتے رہے اور وہ ہیرو بنتے رہے۔ پھر جب ان جیسے سیلیکٹر ہوں گے تو کیا ہوگا۔
اقرباپروری کے نتائج
اگر پاکستان ٹیم کی سیلیکشن پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ اقربا پروری اور حسد نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ چیف سیلیکٹر خود اپنے کہے الفاظ بھول جاتے ہیں۔ موجودہ چیف سیلیکٹر نے پہلے دن ہی شفاف سیلیکشن کو اپنا عزم قرار دیا تھا لیکن جس طرح انھوں نے چند کھلاڑیوں کے کیریر سے کھیلا اور سٹرائیک ریٹ کی بنیاد پر باہر کر دیا وہ قوم کے سامنے ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ’من پسند یا سفارشی‘ کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔
پھر بنگلہ دیش جانے والی ٹیم میں کم سے کم بلے باز رکھے تاکہ انہیں خراب کارکردگی کے باوجود ڈراپ نہ کیا جاسکے۔ ایک اور کھلاڑی جس نے ابھی کوئی فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیلا اسے براہ راست قومی ٹیم میں شامل کر کے ثابت کر دیا کہ ملکی ڈومیسٹک کرکٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پہلے ہی میچ میں غیر معیاری بولنگ نے ان کی پول کھول دی۔ بیٹنگ میں اگرچہ کچھ رنز کیے لیکن سارے شاٹ بلائنڈ شاٹ تھے۔ حارث رؤف جن سے چار اوورز بھی پورے نہیں ہو پاتے انہیں بے مقصد ٹیم میں شامل کیا گیا حالانکہ علی رضا، حنین شاہ اور عاکف جاوید بہت بہتر بولنگ کر رہے ہیں اور شمولیت کے مستحق تھے۔
بابر اعظم اور فخر زمان جیسے کھلاڑیوں کی نام نہاد انجری کا بہانہ بنایا گیا حالانکہ دونوں کھلاڑی نجی حلقوں میں اس کی تردید کررہے ہیں۔ ان کی اپنی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگے ہیں۔
دسویں نمبر ٹیم سے شکست
بنگلہ دیش سے شکست نے ٹیم مینیجمٹ کے بلند و بانگ دعووں کی تردید کر دی ہے۔ آئی سی سی رینکنگ میں بنگلہ دیش کی پوزیشن دسویں ہے۔ اس نے جس طرح چوتھے نمبر پر موجود پاکستان کو سیریز میں شکست دی اس سے عاقب جاوید اینڈ کمپنی کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔ اب شکست کاسارا بوجھ کوچ مائیک پر ڈالا جارہا ہے حالانکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ بورڈ مینجمٹ کی ہدایات کے مطابق کوچنگ کر رہے ہیں۔
ایک ایسی ٹیم جس کے آدھے سے زیادہ کھلاڑیوں کو گیم ایورنیس ہے اور نہ ہی گیم کیلکولیشن۔ اس کو کوچ تو کجا بریڈ مین بھی درست نہیں کرسکتے۔ اوپنرز ناکام، مڈل آرڈر ناکام، بولنگ ناکام ۔۔ مگر ضد یہ ہے کہ ہم سب سے بہتر ہیں۔
حالیہ سیریز میں سلمان علی آغا نے ایک سنچری بنائی لیکن یہ کام نہیں آئی۔ باقی بلے بازوں میں معاذ صداقت نے ہی ایک میچ میں بہتر کارکردگی دکھائی باقی سب نے بس بنگال کے ٹائیگرز دیکھے۔
شاہین شاہ آفریدی نے ثابت کیا کہ وہ کپتانی کے قابل نہیں۔ غلط فیلڈ سیٹنگ اور پچ کو نہ سمجھنا ان کی صلاحیتوں کو بے نقاب کر رہی ہے۔ بولنگ میں کوئی بھی ایسی کارکردگی نہیں ہوئی جس کا ذکر کیا جا سکے۔
کیا علاج ممکن ہے؟
کرکٹ کے مداح اس صورت حال پر بہت برہم ہیں۔ انڈیا کی مسلسل فتوحات نے مزید سخ پا کردیا ہے۔ لوگوں کا ایک ہی سوال ہے کہ آخر اس کا کوئی حل ہے؟
اس کا علاج ممکن ہے کہ جب چیئرمین پی سی بی اپنے وعدے کے مطابق سرجری کریں اور سب سے پہلے سے مافیاز سے نجات حاصل کی جائے جن کے نزدیک پنکھا پچ جیت کا فارمولا اور باقی تمام شکستوں پر بھول جانا ہی علاج ہے۔ ان کی نااہلیت کا عالم یہ ہے کہ بابر اعظم کی انجری پر عاقب جاوید کہہ رہے ہیں کہ اس کی تحقیقات ہوں گی حالانکہ انھوں نے خود سیلیکٹ کیا تھا اور ہر سیلکشن سے قبل فٹنس ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ تو اس وقت کیا کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا؟
عاقب جاوید آپ قوم کو کب تک بیوقوف بنائیں گے؟
سیلیکشن کمیٹی میں یونس خان، راشد لطیف اور شعیب اختر جیسے نڈر سابق کرکٹرز ہوں جو صرف اہلیت پر یقین رکھتے ہوں۔ پچاس کھلاڑیوں کا ایک پول بنا کر ان کی بیٹنگ اور بولنگ کو بہت قریب سے دیکھا جائے۔ جب تک ان نوجوان باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے نہیں لایا جائے گا پاکستان کرکٹ مضبوط نہیں ہوسکے گی۔
اس کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ میں معیاری سپورٹنگ پچز بنائی جائیں اور کھلاڑیوں کے اعدادوشمار کے بجائے ان کی تیکنیک اور نیچرل ٹیلنٹ کو پیمانہ بنایا جائے۔
