پاکستان نے جمعرات کو کامیابی کے ساتھ اپنا دوسرا مقامی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ (EO-2) چین کے یانگجیانگ سی شور لانچ سینٹر سے لانچ کر دیا ہے۔
پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو کے مطابق یہ لانچ پاکستان کی داخلی خلائی اور ریموٹ سینسنگ صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ سیٹلائٹ تصویری تسلسل، آفات کی نگرانی، زرعی منصوبہ بندی اور سٹریٹجک وسائل کے انتظام میں بہتری لائے گا۔
سپارکو کے مطابق EO-2 سیٹلائٹ زمین کی بہتر اور واضح تصاویر حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ اس سے حکومت کو مختلف شعبوں میں فیصلے کرنے، منصوبہ بندی کرنے اور معاملات چلانے میں زیادہ درست معلومات ملیں گی، جس سے کام بہتر انداز میں ہو سکے گا۔
سپارکو نے کہا: ’پاکستان کا دوسرا مقامی EO-2 سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا گیا ہے اور مزید کہا کہ یہ مشن ملک کے سیٹلائٹ بیڑے کے توسیع میں ایک سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔
ایجنسی کے مطابق EO-2 منصوبہ بندی اور وسائل کے انتظام کے لیے اہم ڈیٹا فراہم کرے گا اور قومی ارتھ آبزرویشن سسٹمز کے تسلسل اور درستگی کو بہتر بنائے گا۔
پاکستان فوج نے بھی اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے ملک کی خلائی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’یہ سیٹلائٹ پاکستان میں ہی سپارکو کے ماہرین نے خود تیار کیا۔ اس کی منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، تیاری اور جانچ کا کام زیادہ تر ملک کے اندر کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اب سیٹلائٹ بنانے میں پہلے سے زیادہ مہارت حاصل کر چکا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا: ’ EO-2 پہلے سیٹلائٹ EO-1 کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یہ مختلف روشنی میں زمین کی تصاویر لے سکے گا، جس سے زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں دیکھا اور سمجھا جا سکے گا۔ اس سے حکومت کو منصوبہ بندی، وسائل کے بہتر استعمال اور دیگر قومی معاملات میں درست اور بروقت معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
توقع ہے کہ یہ سیٹلائٹ آفات کے انتظام، شہری منصوبہ بندی، ماحولیاتی نگرانی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد دے گا اور تازہ جیو اسپیشل امیجری اور ڈیٹا فراہم کرے گا۔
سپارکو نے کہا کہ یہ لانچ سیٹلائٹ ڈویلپمنٹ میں بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور پاکستان کے قومی خلائی پروگرام کو مقامی طور پر تیار شدہ پلیٹ فارمز کے ذریعے مضبوط بنانے کے وسیع مقصد کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں چین کے ساتھ اپنے خلائی تعاون کو بتدریج بڑھایا ہے، جس میں سیٹلائٹ لانچ اور مشترکہ مشنز شامل ہیں، کیونکہ اسلام آباد تکنیکی صلاحیت بڑھانے اور بیرونی ڈیٹا ذرائع پر انحصار کم کرنے کا خواہاں ہے۔
توقع ہے کہ EO-2 سیٹلائٹ وفاقی اور صوبائی حکام کے لیے ڈیٹا کی دستیابی میں اہم کردار ادا کرے گا، خاص طور پر ان علاقوں میں جو سیلاب، ماحولیاتی دباؤ اور تیز شہری کاری کے خطرات سے دوچار ہیں۔
