پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے ہزاروں افغان پناہ گزین خاندان سرحدوں کی بندش کی وجہ سے جمعے کو عید الفطر پاکستان میں سڑکوں پر منانے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں سرکاری طور پر ہفتے کو عید منائی جائے گی لیکن افغانستان میں آج یہ تہوار منایا جا رہا ہے۔
دونوں ملکوں کے مابین حالیہ کشیدگی کے باعث سرحد بند ہے جس کی وجہ سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل معطل ہے۔
خیبر پختونخوا سے طورخم سرحد کی طرف جانے والی شاہراہ پر چھوٹے بڑے ٹرک اور دوسری گاڑیاں گذشتہ 25 دنوں سے کھڑی ہیں، جن میں واپس جانے والے افغان پناہ گزین خاندان اپنے سامان سمیت سوار ہیں۔
ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں ایک ہزار کے قریب افغان پناہ گزین 25 دنوں سے اس انتظار میں ہیں کہ انہیں وطن واپسی کی اجازت مل سکے۔
ان پھنسے ہوئے پناہ گزین خاندانوں کا رمضان اور اب عید بھی پاکستان میں آئی ہے۔
40 سال سے پاکستان میں مقیم افغان باشندہ ولی اللہ کہتے ہیں ’عید یہاں آئی ہے لیکن ہمارے پاس کپڑے ہیں نہ سکون، اسی لیے اس بار عید کا مزہ نہیں آ رہا۔‘
ولی اللہ نے پاکستان اور افغانستان سے جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک بات چیت کا راستہ اختیار کریں کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
فضل حق نامی افغان نے اپنی زندگی کی تمام عیدیں پاکستان میں گزاری ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا ’امید تھی کہ یہ عید اپنے آبائی ملک افغانستان میں گزاریں گے لیکن سرحدوں کی بندش کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔ اب یہ آخری عید ہو گی ہماری پاکستان میں۔‘
انہوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے ان کی خوراک رہائش اور صحت کا بہت خیال رکھا اور ان کی مکمل دیکھ بھال اور مہمان نوازی کی جس کے وہ بہت مشکور ہیں۔
ضلع خیبر کے مقامی سماجی کارکن اسلام بادشاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ جب سے پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل شروع ہوا وہ اپنی ٹیم اور مخیر حضرات کے تعاون سے ان افغان خاندانوں کی خدمت میں کر رہے ہیں۔
انہوں نے رمضان کے دوران ڈیڑھ ہزار افغان خاندانوں کی سحری اور افطار کا انتظام کیا جبکہ طبی کیمپ بھی لگایا۔
اسلام بادشاہ آفریدی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے رضا کاروں نے عید کے دن پناہ گزین بچوں کے لیے کپڑوں اور دوسرے تحائف کا بھی بندوبست کیا۔
انہوں نے افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی لاپرواہی اور ناقص انتظامات پر بھی تنقید کی۔
