پاکستان کی حکومت اور عالمی ادارہ صحت نے منگل کو ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تپِ دق (ٹی بی) سے ملک میں روزانہ 140 اموات ہوتی ہیں جبکہ ملک میں سالانہ لگ بھگ 6 لاکھ 70 ہزار افراد متاثر ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں 24 مارچ کو ٹی بی سے متعلق آگاہی کا دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس بیماری کے اثرات سے متعلقہ عوامی آگاہی اور اس وبائی مرض کے خاتمے کی کوششوں کو مزید تیز کرنے کی کوشش ہوتا ہے۔
اس دن کی مناسبت سے پاکستان کی وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں ہر سال ٹی بی سے 51 ہراز اموات ہوتی ہیں اور دنیا میں پاکستان ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔‘
بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر روز اس مرض میں 1,800 سے زائد نئے کیسز سامنے آتے ہیں اور ٹی بی سے ہر زور 140 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق ٹی بی ایک قابلِ علاج بیماری ہے اور اس کی بروقت تشخیص اور علاج جانیں بچانے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’عوام کو ملک بھر میں موجود 2,000 سے زائد سرکاری و نجی مراکز سے رجوع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جہاں مفت تشخیص اور علاج دستیاب ہے۔‘
اس دن کی مناسبت سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ دور حاضر میں بھی ٹی بی متعدی امراض میں سر فہرست ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک سنگین صحت، سماجی اور معاشی چیلنج بنا ہوا ہے۔
یہ مرض خاص طور پر کمزور طبقات کو متاثر کرتا ہے اور غربت، غذائی قلت اور عدم مساوات کی صورت میں صحت، سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس مرض سے متعلق ’معاشرتی سٹیگما کو ختم کیا جائے، بروقت تشخیص کی ترغیب دی جائے اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی تنظیمیں، محققین، نجی شعبے کے طبی ادارے کو شامل کیا جائے۔‘
عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے بیان میں کہا کہ تپ دق سے ہونے والی والی اموات روکی جا سکتی ہیں ’کیونکہ ٹی بی قابلِ علاج ہے۔ اس کا خاتمہ ممکن ہے اور ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام جاری رکھے گا۔‘
