پاکستان میں عید کی علاقائی مٹھاس

رمضان مکمل ہوتے ہوتے عید الفطر کی تیاریاں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔ رمضان کی اپنی رونق کے ساتھ ساتھ عید کی تیاری بھی چل رہی ہوتی ہے لیکن عید کی اصل تیاری اور اس سے جڑے لوازمات کیسے پاکستان بھر میں ایک میلہ سا سجا لیتے ہیں، اس کو میں نے اس بلاگ میں سمونے کی کوشش کی ہے۔

کراچی میرا شہر بھی ہے اور اس سے جڑے دوستوں میں ایک گھرانہ مشہور شاعر رئیس امروہوی صاحب کا بھی ہے۔ ان کی صاحبزادی شاہانہ امروہوی نے اپنی یادیں انڈپینڈنٹ اردو سے بانٹیں۔ ’آخری روزے پہ جیسے ہی عید کا اعلان ہوتا چاند رات کا سماں بندھ جاتا۔ بڑے گھر کو سنوارنے اور ہم بچے اپنی تیاریوں میں لگ جاتے، لڑکیاں بازار کا رخ کرتیں چوڑیاں پہننے جاتیں، صبح کے لیے نئے کپڑے جوتے نکالے جاتے، ہماری والدائیں چولہے پہ شیر خورمہ چڑھاتیں اور سب عید کی تیاری میں مشغول ہو جاتے۔ رات کو سب بچیوں کے مہندی لگائی جاتی، پھر ہم مٹھی بند کر کے اس پہ کپڑا باندھ کے سو جاتے کہ مہندی خراب نہ ہو اور چوڑیاں تو سرہانے رکھ لیا کرتے پر عید کی خوشی میں نیند کس کو آتی۔‘

اسلام آباد کی رہائشی اور ریسرچر فرزانہ رشید کے بقول، ’عید کی رونق اب بدل سی گئی ہے اب ہم سب بس نئے کپڑوں اور مہمانوں کے ساتھ سیلفی بنانے کی حد تک عید مناتے رہ گئے ہیں۔‘

ہاں بچوں میں عیدی کی لگن اور خوشی آج بھی ہے، صحافی لبنیٰ نقوی اپنی عیدی کی یادوں کا مزہ لیتے ہوئے کہتی ہیں ’کراچی میں عید کے دن جلدی اٹھتے، دادی کے گھر جمع ہوتے، کھانے کھائے جاتے، عیدی ملتی، ہم بہن بھائیوں میں عیدی کا مقابلہ ہوتا کس کو کتنی ملی، ننھیال میں ماموں عیدی دینے کے لیے لائن بنواتے جو اکثر دھکم پیل کی نذر ہو جاتی اور لڑکیوں کو عیدی بھی نہیں مل پاتی، لیکن جتنی بھی ملتی اسے خرچ کر کے ہی دم لیتے اور جو بچتی اسے اپنی سمجھ کے مطابق خفیہ جگہ میں چھپا کے سو جاتے۔‘

علاقائی عید کی رونق کی بات ہے تو گلگت کی عید کی یادیں براڈ کاسٹر زاہدہ خان سے بھی جاننے کا موقع ملا۔ زاہدہ خان کا تعلق اپر ہنزہ سے ہے، جہاں عید کے دن صبح سویرے اٹھ کر سب نہا دھو کر نئے کپڑے پہنتے، مرد عبادت گاہ میں نماز پڑھنے چلے جاتے اور خواتین گھر میں کام کاج میں لگ جاتیں، اپنی بساط کے مطابق دسترخوان سجتے اور سب دعا پڑھ کے کھانا کھاتے۔ مرد پھر پولو کھیلنے جاتے ہیں اور لڑکیاں علاقائی کھیل ’پوت‘ کھیلتی ہیں، جس میں ہارنے والی ٹیم جیتنے والوں کو کھانا کھلاتی ہے۔

رہی بات پکوانوں کی تو اس میں مقامی کھانے ہی زیادہ ہوتے ہیں، جیسے شلبوت، بت، مولیدہ، گرال، غلمندی اور میٹھے میں سویاں یا حلوہ۔ مہندی چوڑیوں کا وہاں اتنا رواج نہیں جو شوقین ہیں وہ پہن لیتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رونق میلوں اور تہواروں کی بات ہو تو صوبہ پنجاب بھی بھرپور انداز میں سبھی مناتا ہے۔ جگنو طاہر ایک کہنہ مشق استاد ہیں، میکہ جلال پور جٹاں اور سسرال سیالکوٹ، سبھی جگہوں کا رنگ ان کی عید میں نمایاں رہتا ہے، اپنے گاؤں میں عید کے حوالے سے انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا، ’نئے کپڑوں کی ایک خوشی ہوتی ہے اور لڑکیاں چوڑیوں اور مہندی کی خریداری کے لیے چاند رات کو بازار جاتی ہیں۔ ایک خاص رواج یہ ہے کہ گھروں میں موٹی والی سویاں عید کی صبح کو ابالی جاتی ہیں اس کے اوپر پھر چینی، دودھ اور بادام پستے ڈال کر بھائیوں کے گھر سے بہنوں کو بھیجی جاتی ہیں ساتھ ہی بچوں کے لیے عیدی کے لفافے بھی روانہ کیے جاتے ہیں۔

’سویوں کی یہ روایت پنجاب بھر میں رائج ہے اور لباس بھی ان سبھی علاقوں میں زرق برق پہنے جاتے ہیں جبکہ شہروں میں تو لان، کاٹن یا سلک کے لباس پہننے کا ٹرینڈ ہے۔ رہی بات سیالکوٹ کی تو وہاں چاول کے پکوان زیادہ پسند کیے جاتے ہیں جیسے زردہ پلاؤ وغیرہ، جو صبح ہی سے تیار کر لیے جاتے ہیں۔‘

جن کے گھر والے دوسرے شہروں میں بس گئے ہیں وہ عید کے دنوں میں سیر و تفریح کے لیے نکل جاتے ہیں، قریب ہی کلر کہار کی مشہور جھیل پہ لوگوں کا رش دیکھا جا سکتا ہے، یوں عید کے تین دن رشتہ داروں کے ساتھ وقت گزارنے اور سیر میں بیت جاتے ہیں۔

عید کا ذکر ہو اور سندھ کی بات نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ گھوٹکی میں، سندھ رورل سپورٹ پروگرام کی ایک رکن پروین مہر نے مجھے بتایا کہ ’سندھ بھر میں عید کی صبح سفید سویاں ابال کر گڑ، گھی اور مکھن کے ساتھ کھانے کا قدیم طریقہ آج بھی رائج ہے۔ چاہے امیر ہوں یا غریب ہر گھر میں یہ میٹھا ضرور بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک ہی ویڑھے یا کمپاؤنڈ میں بسے کئی گھرانے حسب توفیق سبھی بچوں کو عیدی بھی دیتے ہیں، چوڑیاں پہننا بھی سندھی خواتین کی ایک اہم رسم ہے۔‘ پروین مہر کے بقول ہمارے علاقے گھوٹکی میں خواتین کا ایک رواج انہیں دیگر علاقوں سے جدا کرتا ہے وہ ہے، عید کی صبح جب مرد نماز کو چلے جاتے ہیں تو تمام خواتین مل کر گھومنے نکلتی ہیں ایک مخصوص مقام چن لیتی ہیں جہاں مل کر کچہری لگاتی ہیں اور مردوں کی عید گاہ سے واپسی سے پہلے گھروں کو لوٹ جاتی ہیں۔

اب بلاگ کو مکمل کرتی ہوں پشاور اور کوئٹہ کی عید روایتوں کے ساتھ، پشاور میں مقیم پبی نوشہرہ کی ہاؤس وائف روبینہ افتخار بچپن کی عید کو گاؤں کی نظر سے دیکھتے ہوئے کہتی ہیں ’عید کے دن گھر کی گندم کو چھان کر میدہ نکالا جاتا اور اسی کے پراٹھے بنا کرتے جبکہ گندم سے گھر ہی پہ موٹی سویاں مشین پہ نکالی جاتیں اور انہیں ابال کر دیسی گھی اور گڑ کی شکر کے ساتھ کھایا جاتا۔ پھر ملنے ملانے کا سلسلہ چل نکلتا، مرد ہی زیادہ اس میں شامل رہتے، خواتین مہمان داری اور دوپہر کے کھانے کا انتظام دیکھتیں۔ دوپہر میں خیبر پختونخوا کے خاص موٹے چاول کڑھی کے ساتھ بنتے تو رات کو پلاؤ اور سالن روٹی کی تیاری رہتی۔ مہندی کے لیے اس کزن کے گھر کا رخ کیا جاتا جو اس کام میں ماہر ہوتی اور یہ سبھی سلسلے آج بھی جاری ہیں۔‘

آخر میں عید کی مٹھاس کو تکمیل تک پہنچایا، کوئٹہ شہر کی ایک زندہ دل خاتون، محمودہ درانی نے، ’بلوچی گھرانوں میں اپنے روایتی لباس پہننے کا ٹرینڈ ہے، اور پشتون گھروں میں ان کے اپنے علاقائی پوشاک پہنے جاتے ہیں۔ مرد و خواتین اپنے مخصوص لباس پہنتے ہیں، مرد اور بچے نماز کے بعد رشتہ داروں سے عید ملنے نکل جاتے ہیں، جبکہ خواتین کھانے کا اہتمام کرتی ہیں، جن میں، روش، لاندی، پلاؤ، خشک میوے اور پھل دسترخوان پہ سجائے جاتے ہیں۔ جب عید کے تین دن خواتین گھروں میں عید کے اہتمام سے فارغ ہوتی ہیں تو پھر ان کی عید شروع ہوتی ہے اور وہ میکے سسرال میں ملنے نکلتی ہیں۔‘ بقول محمودہ درانی یہاں عید ہفتہ بھر منائی جاتی ہے۔

عید ہو یا بقر عید، کرسمس ہو یا ہولی سبھی ساتھ بیٹھ کر خوشیاں بانٹنے کے بہانے ہیں جس میں ہر علاقے کا رنگ چار چاند لگا دیتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *