حکومتِ پاکستان اور عالمی ادارہ صحت کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تپِ دق (ٹی بی) سے پاکستان میں روزانہ 140 اموات ہوتی ہیں جبکہ سالانہ لگ بھگ چھ لاکھ 70 ہزار افراد متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا میں پاکستان ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے۔
دنیا بھر میں 24 مارچ کو ٹی بی سے متعلق آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔
اس دن کی مناسبت سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ دور حاضر میں بھی ٹی بی متعدی امراض میں سر فہرست ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک کے لیے ایک سنگین صحت، سماجی اور معاشی چیلنج بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس مرض سے متعلق ’معاشرتی سٹیگما کو ختم کیا جائے، بروقت تشخیص کی ترغیب دی جائے اور علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز، سول سوسائٹی تنظیمیں، محققین، نجی شعبے کے طبی ادارے کو شامل کیا جائے۔‘
ٹی بی ہے کیا اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟
تپِ دق، جسے ٹی بی بھی کہا جاتا ہے، ایک متعدی بیماری ہے جو بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے اور عموماً پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق یہ بیماری سنگین ہو سکتی ہے، لیکن اینٹی بایوٹکس کے ذریعے اس کا علاج ممکن ہے۔ ٹی بی اس وقت پھیلتی ہے جب متاثرہ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے اور جراثیم والے ننھے ذرات ہوا میں خارج ہوتے ہیں۔
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروسز کے مطابق ٹی بی کی دو بنیادی اقسام ہیں۔
فعال ٹی بی
اس میں بیکٹیریا جسم میں سرگرم ہوتے ہیں، مریض کو علامات ہوتی ہیں، اور وہ دوسروں کو انفیکشن منتقل کر سکتا ہے۔
غیر فعال یا لیٹنٹ ٹی بی
اس میں بیکٹیریا جسم میں موجود ہوتے ہیں، لیکن سرگرم نہیں ہوتے۔ ایسے شخص میں علامات نہیں ہوتیں اور وہ بیماری دوسروں کو منتقل نہیں کرتا۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ٹی بی عموماً پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن یہ گردوں، دماغ، ریڑھ کی ہڈی اور جسم کے دوسرے حصوں میں بھی ہو سکتی ہے۔
کن علامات پر فوراً توجہ دینی چاہیے؟
فعال ٹی بی کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔
ایسی کھانسی جو ٹھیک نہ ہو رہی ہو
بلغم یا کھانسی میں خون آنا
بخار یا رات کو پسینہ آنا
بھوک کم ہونا یا وزن میں کمی
بہت زیادہ تھکن
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی ادارہ سی ڈی سی پی کے مطابق فعال ٹی بی میں سینے میں درد، کمزوری، کپکپی، بخار، بھوک میں کمی اور رات کو پسینہ آنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
اگر بیماری پھیپھڑوں کے علاوہ کسی اور حصے میں ہو تو علامات مختلف ہو سکتی ہیں، مثلاً گردوں میں خون آنا، دماغی جھلیوں کے متاثر ہونے پر سر درد یا الجھن، اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے پر کمر درد۔
کن لوگوں میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟
اگر کوئی شخص:
کسی فعال ٹی بی مریض کے ساتھ طویل اور قریبی رابطے میں رہا ہو
ایسے ملک میں رہا ہو جہاں ٹی بی عام ہو
کمزور مدافعتی نظام رکھتا ہو
بھیڑ یا غیر صحت مند ماحول میں رہتا ہو
تمباکو، شراب یا منشیات کا استعمال کرتا ہو
پہلے ٹی بی کا شکار رہا ہو اور مکمل علاج نہ کرایا ہو تو ٹی بی لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ٹی بی کا علاج
وزارت صحت کے مطابق ٹی بی ایک قابلِ علاج بیماری ہے اور اس کی بروقت تشخیص اور علاج جانیں بچانے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ کے مطابق تپ دق سے ہونے والی اموات روکی جا سکتی ہیں ’کیونکہ ٹی بی قابلِ علاج ہے۔ اس کا خاتمہ ممکن ہے اور ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لیے کام جاری رکھے گا۔‘
