وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست بات چیت کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے اور پاکستان مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے لیے اب بھی پرامید ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے خطے میں کشیدہ صورتحال کے دوران کئی مواقع پر تناؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
’پاکستان نے اس وقت امریکہ اور ایران میں ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی کی جب دنیا کی معیشت ہجکولے لے رہی تھی، اور یہ پاکستان کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ دونوں فریقین میں جنگ بندی اس وقت بھی جاری ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 47 سالوں بعد اعلیٰ ترین سطح پر آمنے سامنے بات کرائی جو اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بصیرت اور دور اندیشی نے کشیدہ صورتحال کو سنبھالنے اور جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم کے مطابق فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم مسلسل راتوں کو جاگ کر صورتحال پر نظر رکھتی رہی اور کئی مواقع پر بروقت اقدامات کے ذریعے معاملات کو قابو میں رکھا گیا۔
اجلاس میں وفاقی کابینہ نے بھی ایران-امریکہ مذاکرات کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا، جبکہ نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں کی بھی تعریف کی گئی۔
