پاکستان بحریہ نے جمعے کو شمالی بحیرہ عرب میں انسانی ہمدردی پر مبنی ایک بڑا ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ایک تجارتی جہاز کے 18 عملے کے ارکان کو محفوظ طریقے سے نکال لیا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی 10 اپریل 2026 کو اس وقت کی گئی جب تجارتی جہاز ایم وی گولڈ آٹم کی جانب سے ہنگامی مدد کی درخواست موصول ہوئی۔
یہ جہاز پاکستان کے ساحل سے تقریباً 200 ناٹیکل میل (تقریباً 370 کلومیٹر) دور شمالی بحیرہ عرب میں موجود تھا۔
بیان کے مطابق ریسکیو آپریشن پاکستان بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے انجام دیا، جس میں اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا گیا۔
آپریشن کے دوران عملے کو طبی امداد فراہم کی گئی، آگ بجھانے میں مدد کی گئی اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ بھی لیا گیا۔
بحریہ کے مطابق ریسکیو کیے گئے افراد میں چین، بنگلہ دیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا کے شہری شامل ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تمام 18 افراد کو بحفاظت کراچی منتقل کیا گیا جہاں انہیں مزید طبی امداد اور بعد ازاں اپنے اپنے ممالک واپس بھیجا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان بحریہ کی اس مستقل وابستگی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنے ذمہ داری کے علاقے میں سمندری بحران کی صورت میں فوری ردعمل دینے والی پہلی قوت ہے۔
بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے ہنگامی انسانی امدادی کارروائی کے دوران مختلف ممالک کے 18 افراد پر مشتمل عملے کو بحفاظت ریسکیو کرنے پر پاک بحریہ کو خراج تحسین کرتے ہوئے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فوری ردعمل اور انسان دوستی کے جذبے کو سراہا۔
