پاکستان اپنی سفارتی اہمیت دوبارہ منوا رہا ہے

ماضی قریب میں پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے خطے کے حوالے سے ایک محتاط رویہ اختیار کیے رکھا، جس کی وجہ اس کی اندرونی سیاسی ہلچل اور معاشی بحران تھے۔

تاہم غیر فعال سفارت کاری کا یہ دور اب ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کا مشرق وسطیٰ کے ساتھ دوبارہ جڑنا ایک زیادہ پراعتماد اور بامقصد خارجہ پالیسی کا ظہور ہے کیونکہ اسلام آباد اب اس بات کو تسلیم کرنے لگا ہے کہ خلیج کا استحکام خود اس کے اپنے گھر کے استحکام سے لازم و ملزوم ہے۔

اسلام آباد نے واضح طور پر ایک زیادہ جرات مندانہ علاقائی کردار کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا ہے جو بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں اور وسیع تر خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے عین مطابق ہے۔ ریاض کے ساتھ اپنی سکیورٹی شراکت داری کو مضبوط بنا کر، عالمی سفارتی پلیٹ فارمز پر تعمیری انداز میں شامل ہو کر اور ایک تباہ کن علاقائی جنگ کی فعال مخالفت کر کے پاکستان ایک ایسے کردار میں قدم رکھ رہا ہے جو اس کی ذمہ داریوں اور مفادات دونوں کا عکاس ہے۔

اس نئی صف بندی کے مرکز میں پاکستان کا یہ ادراک شامل ہے کہ خطہ شاید ایک بار پھر ایک بڑی بےچینی اور عدم استحکام کے دہانے پر کھڑا ہے جس کے سب کے لیے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے بےچینی اپنے عروج پر ہے اور پاکستان بظاہر اس کے کنارے پر دکھائی دیتا ہے، لیکن اسلام آباد اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ ایک بار چھڑ جانے والی جنگ سرحدوں کا لحاظ نہیں رکھتی۔ اس وقت تین بڑے عوامل خطے میں پاکستان کے بہتر سفارتی اور سکیورٹی پروفائل کو متحرک کر رہے ہیں۔

ان میں سب سے سنجیدہ عنصر پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ حال ہی میں قائم ہونے والی سٹریٹجک سکیورٹی پارٹنرشپ ہے جس کے تحت اسلام آباد اب خطے میں ریاض کو لاحق خطرات اور اس کے سکیورٹی مفادات کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہو گیا ہے۔ اس کا مظاہرہ حال ہی میں اس وقت ہوا جب سعودی عرب اور پاکستان نے ترکیہ کے ساتھ مل کر بصورت دیگر ہچکچاہٹ کا شکار امریکہ اور ایران کو دو طرفہ مذاکرات پر راضی کیا۔

ریاض اسلام آباد سکیورٹی معاہدہ غیر یقینی حالات اور خطے کی معاندانہ سکیورٹی صورت حال کے پس منظر میں دونوں ممالک کے لیے ایک سٹریٹیجک محور کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کی خصوصیت تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا ہے، جیسے کہ انٹیلی جنس شیئرنگ، انسداد دہشت گردی، بحرانی ردعمل اور دفاعی منصوبہ بندی میں باہمی تعاون کو ضابطہ کار میں لانا۔

اس کا وقت محض اتفاق نہیں ہے۔ پاکستان، جس نے حال ہی میں انڈیا پر اپنی تکنیکی اور سٹریٹجک فوجی برتری کا کامیاب اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ مظاہرہ کیا ہے، ریاض کے ساتھ اس نئی صف بندی میں ایک قدرتی شراکت دار ہے۔

اسلام آباد کے لیے یہ معاہدہ خلیجی سکیورٹی کے مکالموں کو تشکیل دینے میں ایک مرکزی کردار فراہم کرتا ہے اور ایک مستحکم کثیرالجہتی فریم ورک کے اندر اپنے معاشی اور سکیورٹی مفادات کو جوڑنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ایک علاقائی کردار کے طور پر پاکستان کی ساکھ کو حقیقی سفارتی وزن کے ساتھ بلند کرتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے لیے دوسرا عنصر ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے جو تہران کے خلاف کسی بھی جنگ کو سیدھا پاکستان کی دہلیز تک لے آئے گی اور اسے جوابی حملوں، عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت اور مہاجرین کے بہاؤ جیسے خطرات سے دوچار کرے گی۔ یہ ایسے مہنگے خطرات ہیں جن کا سامنا کسی اور علاقائی ملک کو اس درجے میں نہیں کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی بڑے پیمانے کا تنازع پاکستان کو ان تکلیف دہ سٹریٹجک انتخاب کرنے پر مجبور کرے گا جن سے وہ طویل عرصے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لہذا جنگوں سے نمٹنے کے بجائے انہیں روکنا کوئی آپشن نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔

تیسرا عنصر زیادہ بنیادی اور عملی ہے۔ پاکستان توانائی کی فراہمی، تجارتی رسائی، سرمایہ کاری اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود لاکھوں پاکستانی کارکنوں کی جانب سے 30 ارب ڈالر کی سالانہ ترسیلات زر کے لیے خلیج پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کوئی بھی بڑا خلل پاکستان کے معاشی استحکام کی بنیادوں پر وار کرے گا۔

خطے کی سفارتی میز پر پاکستان کی آمد کو اس کے امریکہ کی قیادت میں بننے والے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کے فیصلے سے بھی مدد ملی ہے جو خطے اور اس سے باہر امن و ترقی کی کوششوں کی قیادت کرنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ بھی اب اس کے رکن ہیں۔ اگرچہ بورڈ نے ابھی تک کوئی ٹھوس نتائج نہیں دیے ہیں، لیکن یہ علاقائی اور عالمی سطح کی اعلیٰ سفارت کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے اور اسلام آباد اس سے ملنے والے عالمی طاقت کے وزن کو سمجھتا ہے۔ پاکستان کی رکنیت اس کے خلیجی شراکت داروں کے لیے ایک اشارہ ہے کہ اسلام آباد علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار ہے۔

مجموعی طور پر، مشرق وسطیٰ پر اس کی سٹریٹیجک توجہ دہائیوں کی سفارتی تنہائی کے بعد پاکستان کی عالمی اہمیت کی واپسی ہے۔ لیکن اسلام آباد کی یہ نئی خود اعتمادی اور خطے کی بدلتی ہوئی تقدیر میں اس کا کلیدی کردار کتنا پائیدار ہے؟

اس کا انحصار اس کے سٹریٹیجک انتخاب پر قائم رہنے میں ہے یعنی سعودی عرب کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی شراکت داری میں مزید گہرائی لانا۔

یہ انحصار کا معاملہ نہیں ہے بلکہ طویل مدتی مفادات کو ہم آہنگ کرنے کی بات ہے۔ ایک مضبوط پاکستان سعودی معاہدہ کوئی عیاشی نہیں بلکہ اگلی دہائی کے لیے پاکستان کی علاقائی حکمت عملی کا بنیادی جزو ہے۔ تاریخ میں پہلی بار، پاکستان مشرق وسطیٰ کے واقعات کو تشکیل دے رہا ہے، نہ کہ ان سے صرف متاثر ہو رہا ہے۔

(بشکریہ عرب نیوز)

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

عدنان رحمت پاکستان میں مقیم صحافی، محقق اور تجزیہ نگار ہیں جن کی دلچسپی سیاست، میڈیا، ترقی اور سائنس میں ہے۔

ایکس: adnanrehmat1@


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *