ایسوسی ایٹڈ پریس نے بدھ کو حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان چین میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا ہے، جہاں چین دونوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار جنگ بندی کے لیے ’ثالثی‘ کر رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق یہ اطلاعات بدھ کو دو پاکستانی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیں۔
تیسرے شخص نے، جو چین کی ثالثی کی کوششوں سے باخبر ہے، بتایا کہ مذاکرات کا مقصد موجودہ لڑائی کو ختم کرنا ہے۔
ان عہدیداروں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے نمائندے شمالی چین میں اُرومچی کے مقام پر ملاقات کر رہے ہیں۔
چین نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی تاحال اس تازہ پیش رفت کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے پر افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی صادق خان سے رابطہ تاہم فی الحال کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ان دنوں چین کے سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے ایران کی حالیہ صورتحال پر اپنے چینی ہم منصب سے گفتگو کی۔
اسحاق ڈار نے گذشتہ روز چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بیجنگ میں ملاقات کی تھی، جس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ میں فوری سیز فائر کیا جائے جبکہ آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے کھولا اور محفوظ بنایا جائے۔
