وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اتوار کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کارروائیوں میں 583 افغان طالبان کو مار دیا جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان لڑائی دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں 26 فروری کو اس وقت شروع ہوئیں جب افغان فورسز نے سرحد کے قریب پاکستانی فوجی تنصیبات پر اچانک حملہ کیا۔
افغانستان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے فروری میں افغانستان کے اندر مبینہ عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
عطا اللہ تارڑ نے آج ایکس پر بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت شام چار بجے تک پاکستان کے حملوں میں 583 افغان طالبان مارے گئے جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 242 چیک پوسٹیں تباہ کی گئی جبکہ 38 کو قبضے میں لے کر مسمار کیا گیا۔
اسی طرح 213 ٹینک و بکتر بند گاڑیاں تباہ اور افغانستان میں 64 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
✅Operation Ghazb lil Haq
✅Update 1600 hours 8 March
✅Summary of Afghan Taliban losses
▪️583 Killed,
▪️795+ Injured
▪️242 Check posts destroyed
▪️38 Posts captured & destroyed
▪️213 tanks, armoured vehicles, artillery guns destroyed
▪️64 locations across Afghanistan…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 8, 2026
اس بیان سے چند گھنٹے قبل پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے چمن سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی تھی۔
سکیورٹی حکام کے مطابق تین سے چار گروہوں پر مشتمل عسکریت پسندوں نے رات کی تاریکی میں سرحدی باڑ کاٹ کر داخل ہونے کی کوشش کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’فوجیوں نے بروقت نقل و حرکت کا پتہ لگایا اور جب عسکریت پسند باڑ کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے تو ان سے جھڑپ ہوئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک غیر ملکی دہشت گرد مارا گیا جبکہ باقی فرار ہو گئے۔‘
پاکستان کابل پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی جیسے عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دیتا ہے اور پاکستان کے خلاف حملوں میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اسلام آباد پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی مشکلات کا حل کابل کو مورد الزام ٹھہرائے بغیر تلاش کرے۔
افغانستان نے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ تاہم پاکستان نے کابل کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا آپریشن ’غضب للحق‘ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔
کئی ممالک و بین الاقوامی اداروں نے، جن میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین شامل ہیں، دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
