پاکستان اب تک آسکرز کے لیے کتنی فلمیں بھیج چکا؟

پاکستان نے آسکرز کی ’بہترین عالمی فیچر فلم‘ کی کیٹیگری میں اب تک 13 فلمیں بھیجی ہیں۔ ان فلموں میں 1959 سے لے کر 2024 تک بنائی گئی پاکستانی فلمیں شامل ہیں۔

جاگو ہوا سویرا (1959)
یہ پاکستان کی پہلی آسکر انٹری تھی۔ فیض احمد فیض کی لکھی یہ فلم مشرقی پاکستان کے بنگالی ماہی گیروں کی زندگی اور ان کے مسائل پر بنی تھی۔

گھونگھٹ (1963)
اس فلم میں سنتوش کمار اور نیلو کو مرکزی کردار دیے گئے۔ فلم کو چار نگار ایوارڈ بھی ملے۔

1963 کے بعد پورے 50 سال تک پاکستان آسکرز میں کوئی فلم نہیں بھیج سکا۔ پھر 2013 میں ’زندہ بھاگ‘ پاکستان کی آفیشل انٹری بنی۔

پنجابی زبان میں بنی یہ فلم ان نوجوانوں کی کہانی تھی جو غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر بہتر زندگی کے لیے غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑ کر یورپ جانا چاہتے تھے۔

دختر (2014)
عافیہ نتھینیل کی یہ  فلم ایک ماں کی کہانی تھی جو اپنی چھوٹی بچی کو زبردستی شادی سے بچانے کے لیے پہاڑوں میں بھاگتی ہے۔

مور (2015)
جامی کی اس فلم کی کہانی ایک ریٹائرڈ ریلوے سٹیشن ماسٹر کی مشکلات کے گرد گھومتی ہے جس کا سٹیشن بند ہونے والا ہے۔

ماہ میر (2016)
یہ فلم اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر کی زندگی سے متاثر تھی اور فہد مصطفیٰ اور ایمان علی مرکزی اداکار تھے۔

ساون (2017)
فرحان عالم کی یہ فلم بلوچستان کے ایک دور دراز گاؤں میں رہنے والے معذور بچے کی جدو جہد کی سچی اور دل چھو لینے والی کہانی تھی۔

کیک (2018)
عاصم عباسی کی یہ فلم کراچی کے ایک خاندان کی کہانی ہے جس میں ایک مشہور سین مسلسل 10 منٹ ایک ہی بار میں فلمایا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لال کبوتر (2019)
منشا پاشا اور احمد علی اکبر کی یہ فلم ایک صحافی کی بیوی کی کہانی تھی جو اپنے شوہر کے قتل کے بعد انصاف کی تلاش میں نکلتی ہے۔

زندگی تماشا (2020)
سرمد کھوسٹ کی یہ فلم ریلیز سے پہلے ہی تنازعات کا شکار ہو گئی اور اسے ریلیز کرنے میں کافی مشکلات پیش آئیں۔

جوائے لینڈ (2022)
صائم صادق کی یہ فلم واحد پاکستانی فلم ہے جو آسکر کی شارٹ لسٹنگ کی سٹیج تک پہنچی۔ فلم لاہور کے ایک نچلے متوسط گھرانے کی کہانی تھی جس میں ایک شادی شدہ مرد کو ایک ٹرانس ڈانسر سے محبت ہو جاتی ہے۔

ان فلیمز (2023)
فلم کراچی میں رہنے والی ایک ماں اور بیٹی کی کہانی تھی جو اپنے گھر میں ایک سپر نیچرل خطرے کا سامنا کرتی ہیں۔

گلاس ورکر (2024)
عثمان ریاض کی یہ فلم پاکستان کی پہلی ہینڈ میڈ اینی میٹڈ فلم تھی جو جاپانی اینیمے سے انسپائرڈ ایک جنگ مخالف رومینٹک سٹوری تھی جسے بنانے میں سات سال لگے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *