پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو اپنی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کیے بغیر وافر مقدار میں موجود اشیا خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کے لیے تیزی سے کام کیا جائے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جہاں ایران میں حملے کر رہے ہیں، وہیں ایران خلیجی ممالک کو یہ کہہ کر نشانہ بنا رہا ہے کہ یہ ملک اس کے خلاف حملوں میں معاون ہیں۔
تقریباً پچھلے ایک ماہ کے دوران علاقائی سمندری اور فضائی راستے شدید تعطل کا شکار ہیں اور ایسے میں خلیجی ممالک میں خوراک کی کمی کا خدشہ ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں شہباز شریف کی صدارت میں موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پاکستان کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے اجلاس سے گفتگو میں خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے حوالےسے بنائی گئی حکمت عملی اور اب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس حوالےسے کام کرنے والے متعلقہ محکموں اور افسران کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کے حوالےسے تمام متعلقہ محکمے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں جبکہ عالمی سپلائی لائین متاثر ہے، خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کے لیے اشیا خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے، حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر کا قابل قبول نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم نے کراچی، گوادر اور دیگر اہم ملکی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس کو دی گئی خلیجی ممالک کو اشیائے ضروریہ کی برآمدات کے حوالےسے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے برآمدات کے حوالےسے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دی ہے۔
ان فوڈ آئٹمز میں چاول، خورنی تیل ، چینی، گوشت، پولٹری ، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات پھل، سبزیاں وغیرہ شامل ہیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
