امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ کی جانب سے جاری کردہ ’سالانہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026‘ میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
بدھ کو جاری کردہ اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں امریکی سرزمین کو درپیش براہِ راست خطرات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو امریکہ کے کٹر حریفوں یعنی روس، چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایک ہی صف میں شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں، خودکش ڈرونز اور پراکسی جنگ کے ذریعے امریکہ کو ممکنہ خطرہ ہے۔
تاہم اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کا ردعمل جاننے کے لیے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق: ’پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بنیں گے۔‘
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات غیر معمولی گرم جوشی کے دور سے گزر رہے ہیں اور امریکی صدر متعدد بار پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شہباز اور آرمی چیف آصف منیر کی تعریفیں کر چکے ہیں اور انہیں اپنا دوست قرار دیتے ہیں۔
34 صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ’چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں خودکش ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں خودکش ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکہ کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی کے تنازعات کے پیشِ نظر پاکستان انڈیا تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
علاوہ ازیں، عسکری اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں بھی پاکستان پر تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان مصر، اسرائیل، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت ان ممالک میں شامل ہے جو ’اپنے حریفوں کو اکسانے یا کمزور کرنے، یا قریبی تنازعات کا رخ اپنے حق میں موڑنے کے لیے مہلک امداد، پراکسی فورسز، یا اپنے فوجی اثاثوں کا ملا جلا استعمال کر رہے ہیں۔‘
ماضی میں پاکستانی میزائل پروگرام پر پابندیاں
ماضی میں بھی امریکہ پاکستان کی میزائل پروگرام پر اعتراض اٹھاتا رہا ہے۔ 2024 میں امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی (بی آئی ایس) نے مبینہ طور پر پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کرنے والی 16 کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا تھا۔ بی آئی ایس کی ویب سائٹ پر جاری ایک رپورٹ کے مطابق یہ اقدام چین، مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی 26 کمپنیوں پر پابندیاں لگانے والی ایک وسیع کارروائی کا حصہ ہے۔
ان کمپنیوں پر برآمدی قوانین کی خلاف ورزیوں، ہتھیاروں کے پروگراموں میں ملوث ہونے، اور ان پابندیوں سے بچنے کی کوشش کا الزام تھا، جو روس اور ایران پر امریکہ کی جانب سے عائد ہیں۔
اس کے جواب میں پاکستان نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل کے حوالے سے امریکی پابندیوں کو ’جانبدارانہ اور سیاسی مقاصد پر مبنی‘ سمجھتا ہے۔
