پاکستانی میزائلوں کو امریکہ کے لیے ’خاطر خواہ خطرہ‘ قرار دینے والی تلسی گیبرڈ آج خبروں پر چھائی ہوئی ہیں۔ تاہم ان کا پس منظر ہندو مذہب اور فوجی سروس کی وجہ سے کافی دلچسپ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
تلسی نسلی طور پر انڈین نژاد نہیں لیکن مذہبی اور ثقافتی طور پر ہندو روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی خاندانی جڑیں دراصل مختلف پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں۔
ان کے والد مائیک گیبرڈ ساموآ اور یورپی نسل کے پس منظر رکھتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کیرول پورٹر بنیادی طور پر یورپی نژاد امریکی ہیں۔ اس لحاظ سے ان کا نسلی تعلق انڈیا سے نہیں بنتا۔ لیکن انہیں ہندو مذہب کی جانب راغب ان کے والدین نے ہی کیا۔
البتہ ایک وجہ جس سے اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہوتی ہے وہ ان کا مذہبی اور ثقافتی رجحان ہے۔ تلسی گیبرڈ ہندو مت اور ہندو روایات سے خاص قربت رکھتی ہیں۔
ان کا نام بھی مقدس پودے تلسی سے لیا گیا ہے، جو ہندو روایت میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ وہ کئی بار انڈیا کا دورہ بھی کر چکی ہیں اور بھارتی ثقافت کے بارے میں مثبت خیالات ظاہر کرتی رہی ہیں۔
اس سے قبل وہ 2013 سے 2021 تک ہوائی کے دوسرے کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندہ رہ چکی ہیں۔
وہ امریکی ساموا سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون کانگریس رکن اور کانگریس کی پہلی ’باعمل‘ ہندو رکن بھی ہیں۔
فروری 2019 میں انہوں نے امریکہ کے صدر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی مہم کا اعلان بھی کیا تھا۔
وہ امریکہ کی صدارت کے لیے انتخاب لڑنے والی پہلی خاتون امیدوار تھیں جو جنگی تجربہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے 19 مارچ 2020 کو اپنی صدارتی مہم معطل کر دی تھی۔
گیبرڈ 12 اپریل 1981 کو لیلوالوآ، امریکن ساموا میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 2009 میں ہوائی پیسیفک یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد، مائیک گیبرڈ، 2006 سے ہوائی سٹیٹ سینیٹ کے رکن ہیں۔
نوعمری میں گیبرڈ نے ’ہیلتھی ہوائی کولیشن‘ کے نام سے ایک غیر منافع بخش تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد ماحول کا تحفظ اور انفرادی و اجتماعی صحت کو بہتر بنانا ہے۔
2002 میں گیبرڈ ہوائی سٹیٹ اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والی اب تک کی کم عمر ترین شخصیت بنیں، جہاں انہوں نے 2004 تک ویسٹ اوآہو کے ڈسٹرکٹ 42 کی نمائندگی کی۔
2003 میں انہوں نے ہوائی آرمی نیشنل گارڈ میں شمولیت اختیار کی اور قانون ساز اجلاسوں کے درمیان بنیادی فوجی تربیت مکمل کی۔
جولائی 2004 میں انہیں عراق میں 12 ماہ کے لیے تعینات کیا گیا۔ عراق میں تعیناتی کے دوران انہوں نے ایک طبی یونٹ میں خدمات انجام دیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2007 میں انہوں نے الاباما کے فورٹ میکلیلن میں ایکسیلیریٹڈ آفیسر کینڈیڈیٹ سکول سے گریجویشن کی، جہاں وہ اکیڈمی کی 50 سالہ تاریخ میں امتیازی اعزاز کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
اسی سال سے 2009 تک انہوں نے امریکی سینیٹر ڈینیئل کے. آکاکا کے قانون ساز معاون کے طور پر خدمات انجام دیں۔
2009 میں انہیں کویت میں تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے انسداد دہشت گردی یونٹس کو تربیت دی۔ وہ پہلی خاتون تھیں جنہیں کویتی فوج کی جانب سے تعریفی اعزاز بھی ملا۔
2010 میں وہ ہونولولو سٹی کونسل کے لیے منتخب ہوئیں، اور 2012 میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن بنیں۔
وہ 2013 سے 2016 تک ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی نائب چیئر بھی رہیں۔
وہ کی حیثیت سے ڈیموکریٹک پارٹی کی ابھرتی ہوئی شخصیت سمجھی جاتی تھیں۔ مگر بڑھتی ہوئی ’ووکنس‘ کی فضا، نسل پرستی کو ہوا دینے کا رجحان اور عدم برداشت ایسی باتیں تھیں جن کی وجہ سے وہ کہتی ہیں وہ جماعت چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔
تلسی نے اکتوبر 2022 میں ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑ کر ایک آزاد رکن بن گئیں۔
لیکن بعد ازاں انہوں نے ریپبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈیموکریٹک پارٹی چھوڑنے سے متعلق تلسی نے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔
امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ویب سائٹ کے مطابق تلسی گیبرڈ کی زندگی خدمت کے غیر متزلزل عزم اور اپنے وطن سے محبت سے عبارت ہے۔
’عوامی عہدے پر اپنے ابتدائی دنوں سے لے کر اپنے وسیع فوجی کیریئر تک، انہوں نے اپنی پوری زندگی امریکی عوام اور اپنے ملک کی حفاظت، سلامتی اور آزادی کے لیے وقف کر رکھی ہے۔‘
ہوائی کے عوام نے تُلسی گیبرڈ کو 21 سال کی عمر میں ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب کیا، آٹھ سال بعد ہونولولو سٹی کونسل کے لیے، اور 31 سال کی عمر میں انہیں امریکی کانگریس کے لیے منتخب کیا گیا جہاں انہوں نے چار مرتبہ اس حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
ویب سائٹ کے مطابق ڈائریکٹر تُلسی گیبرڈ اندرونِ ملک اور بین الاقوامی ہر معاملے کو امریکی عوام کی حفاظت، سلامتی اور آزادی کو یقینی بنانے کے نقطۂ نظر سے دیکھتی ہیں۔
انہیں صدر ٹرمپ نے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کیا تھا۔

