پاکستانی فلم ’لالی‘ نے برلن فلم فیسٹیول میں تاریخ رقم کر دی

برلن فلم فیسٹیول میں اس ہفتے کے شروع میں اس وقت فلمی دنیا کی تاریخ رقم ہوئی جب دنیا کے تین بڑے فیسٹیولز میں سے ایک میں پہلی مرتبہ پاکستان میں بننے والی فیچر فلم کی نمائش کی گئی۔

ہدایت کار سرمد سلطان کھوسٹ کی ’لالی‘ کا جمعرات کو بھرے ہوئے ہال میں ورلڈ پریمیئر ہوا۔

فلم کی سکریننگ میں برلن کی پاکستانی کمیونٹی کے اراکین نے ’لالی‘ کا پرتپاک استقبال کیا۔ 

جرمنی میں پاکستان کے سفیر بھی فلم دیکھنے والوں میں شامل تھے۔ 

پنجابی زبان کی بلیک کامیڈی سجاول (چنن حنیف) اور اس کی نئی نویلی دلہن زیبا (مامیا شجفر) کی کہانی بیان کرتی ہے۔

ساہیوال شہر کے محنت کش طبقے میں افواہ ہے کہ اس کے سابقہ منگیتر کی پراسرار حالات میں موت کے بعد زیبا ایک سائے تلے میں زندگی گزار رہی ہے۔

سرمد سلطان کھوسٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ فیسٹیول میں پاکستان کا ڈیبیو کرنا ’کامیابی کے ایک اچھے احساس کے ساتھ ہوا، اور ساتھ ہی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ بھی۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اپنی ہی ثقافت میں گہری جڑوں ے ساتھ کسی فلم کی کامیابی ایک  ’توثیق کی علامت‘ ہے۔ 

فلم کا ایک حصہ وہ مزاح ہے جس کے لیے پنجاب کا خطہ جانا جاتا ہے، جسے سجاول کی والدہ اور خاندان کی سربراہ سوہنی امی کے ذریعے دکھایا گیا۔

فلم کا آغاز اس کے محلے کے مردوں کو سجاول کی شادی کی خوشی میں بندوق چلانے کی ترغیب دینے کے ساتھ ہوتا ہے، جس سے ایک گولی لڑکی کی ٹانگ میں لگ جاتی ہے۔

فلم سازوں کی ’نئی نسل‘

شدید قسم کے مزاح کا متبادل زیادہ سنجیدہ موضوعات جیسے خواہش، جنسیت اور ناقابل علاج صدمے اور کبھی کبھار جادو اور مافوق الفطرت جیسے موضوعات ہوا کرتے ہیں۔

اگرچہ سرمد سلطان کھوسٹ نے نشاندہی کی کہ سکرین پر رونما ہونے والی کوئی بھی چیز جسمانی طور پر ناممکن نہیں ہے۔

برلن میں ’لالی‘ کے پریمیئر میں صائم صادق کی ’جوائے لینڈ‘ کی بازگشت سنائی دی۔ جوائے لینڈ 2022 میں کانز فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی پہلی پاکستانی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ فلم ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کرتی ہے جو ڈانس گروپ کے ٹرانسجینڈر ڈائریکٹر کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اسے تنقیدی پذیرائی کے علاوہ کینز میں جیوری پرائز اور ’کوئیر پام‘ (ٹرانسجینڈرز سے متعلا ایوارڈ) بھی ملا۔

سرمد سلطان کھوسٹ اس فلم کے پروڈیوسر تھے اور صادق نے بدلے میں ’لالی‘ کے ایڈیٹر کے طور کام کیا۔

کیا سرمد سلطان کھوسٹ پرامید ہیں کہ اس طرح کی فلمیں پاکستانی سینیما کا پروفائل بلند کر سکتی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انڈسٹری پچھلے 20 سال سے جدوجہد کر رہی ہے، اور ’سست روی سے آنے والی موت‘ جیسی صورت حال کا شکار ہے۔ 

’اس سے پہلے ہمارے پاس سینیما کا ایک بڑی صورت حال تھی اور ایک سال میں 100 سے زیادہ فلمیں بنتی تھیں۔‘

لیکن سرمد سلطان کھوسٹ نے کہا کہ پاکستانی سینیما نے دوسرے میڈیا کے عروج کے خلاف جدوجہد کی لیکن ’نئے ناظرین ی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔‘

کیا ’لالی‘ جیسی فلمیں پاکستانی سینیما کو نئی پہچان دے سکتی ہیں؟

سرمد سلطان کھوسٹ نے کہا، ’اس طرح کے پلیٹ فارمز پر فلم کی سکریننگ کا یہ موقع، میری خواہش ہے کہ، یہ ملکی فلمی صنعت کو مزید فروغ دے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یقینی طور پر فلم سازوں کی ایک پوری نئی نسل ہے اور انہیں مزید کام کرنے کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *