پالتو بلیاں یہ سمجھنے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں کہ انسانوں میں چھاتی کا سرطان کیسے پیدا ہوتا ہے؟
یہ بات بلیوں میں سرطان کی متعدد اقسام پر کی جانے والی پہلی تحقیق میں بتائی گئی ہے جس میں ایسی جینیاتی تبدیلیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسانوں اور جانوروں میں اس بیماری کے علاج میں مدد دے سکتی ہیں۔
برطانیہ کے تقریباً ایک چوتھائی گھرانوں میں کم از کم ایک بلی موجود ہے۔ سرطان کا مرض بلیوں میں بیماری اور موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، تاہم اس کے پیدا ہونے کے حوالے سے بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔
ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ، کینیڈا کے اونٹاریو ویٹنری کالج اور یونیورسٹی آف برن کے سائنس دانوں نے پانچ ممالک سے تعلق رکھنے والی تقریباً 500 پالتو بلیوں کی رسولیوں کا تجزیہ کیا۔
انہوں نے دریافت کیا کہ بلیوں میں سرطان کا باعث بننے والی جینیاتی تبدیلیاں انسانوں میں دیکھی جانے والی تبدیلیوں سے ملتی جلتی ہیں۔
ویلکم سینگر انسٹی ٹیوٹ میں اس تحقیق کے شریک پہلے مصنف بیلی فرانسس نے کہا: ‘مختلف اقسام کے جانداروں میں کینسر کی جینیات کا موازنہ کر کے ہم سرطان کی وجوہات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری ایک اہم دریافت یہ تھی کہ بلیوں کے سرطان میں ہونے والی جینیاتی تبدیلیاں انسانوں اور کتوں میں دیکھی جانے والی کچھ تبدیلیوں سے ملتی جلتی ہیں۔’
‘یہ ویٹنری کے شعبے کے ماہرین کے ساتھ ساتھ انسانوں میں سرطان کا مطالعہ کرنے والوں کی بھی مدد کر سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب مختلف شعبوں کے درمیان علم اور ڈیٹا کا تبادلہ ہوتا ہے تو ہم سب اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔’
بلیوں کو بھی سرطان کے کچھ ایسے ہی ماحولیاتی خطرات کا سامنا ہوتا ہے جن کا سامنا ان کے مالکان کو ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ سرطان کی کچھ وجوہات، کم از کم جزوی طور پر، مشترکہ ہو سکتی ہیں۔
جانوروں کے ڈاکٹر کی جانب سے تشخیصی مقاصد کے لیے پہلے ہی جمع کی گئی بافتوں کے نمونوں سے ڈی این اے کی ترتیب کا مطالعہ کرتے ہوئے، جریدے سائنس میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ بلیوں کے کینسر میں عام طور پر پائی جانے والی کچھ جینیاتی تبدیلیاں انسانی کینسر میں دیکھی جانے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، انہوں نے بلیوں میں چھاتی کے کینسر اور انسانی چھاتی کے سرطان کے درمیان مماثلت پائی۔
محققین نے رسولیوں اور صحت مند ٹشوز کے نمونوں دونوں میں انسانوں میں سرطان سے جڑے تقریباً ایک ہزار جینز کا جائزہ لیا۔ اس میں بلیوں کے سرطان کی 13 مختلف اقسام شامل تھیں جس سے انہیں جینیاتی تبدیلیوں کا انسانوں اور کتوں کے کینسر میں دیکھی جانے والی تبدیلیوں سے موازنہ کرنے کا موقع ملا۔
مطالعے میں آنے والا ایک کینسر میمری کارسنوماس تھا، جو بلیوں میں سرطان کی ایک عام اور خطرناک قسم ہے۔ محققین نے سات ایسے ڈرائیور جینز کی نشاندہی کی جو تبدیل (میوٹیٹ) ہونے پر کینسر پیدا ہونے کا باعث بنتے ہیں۔
اس قسم کے کینسر کا سب سے عام ڈرائیور جین ایف بی ایکس ڈبلیو سیون تھا، جو بلیوں کے 50 فیصد ٹیومرز میں بھی پایا جاتا ہے۔ انسانوں میں، چھاتی کے کینسر کے ٹیومرز میں ایف بی ایکس ڈبلیو سیون جین میں تبدیلیاں بیماری کے مایوس کن نتائج سے وابستہ ہیں، جو بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ بلیوں میں دیکھا جاتا ہے۔
کچھ کیموتھراپی ادویات کو بلیوں کی چھاتی کے ان ٹیومرز میں زیادہ موثر پایا گیا جن کے ایف بی ایکس ڈبلیو سیون جین میں تبدیلیاں تھیں۔ اگرچہ اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم ان نتائج کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ممری کارسنوما والی بلیوں اور چھاتی کے سرطان کے انسانی مریضوں دونوں کے لیے علاج تیار کرنا ممکن ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسرا سب سے عام ڈرائیور جین پی آئی کے تھری سی اے تھا، جو بلیوں کے میمری کارسنوما کی 47 فیصد رسولیوں میں دیکھا گیا۔ یہ بھی ایک جینیاتی تبدیلی ہے جو انسانی چھاتی کے سرطان میں پائی جاتی ہے۔ لیکن ان ڈرائیور جینز میں مماثلت خون، ہڈیوں، پھیپھڑوں، جلد، معدے اور مرکزی اعصابی نظام کے ٹیومرز میں بھی دیکھی گئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ان دونوں جانداروں میں سرطان کے نئے علاج کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
کینیڈا کے اونٹاریو ویٹنری کالج میں اس تحقیق کے شریک سینیئر مصنف، پروفیسر جیفری ووڈ نے کہا: ‘گھریلو بلیوں کے عام پالتو جانور ہونے کے باوجود، اب تک ان جانوروں میں کینسر کی جینیات کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں۔’
‘ہمارے پالتو جانور ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں بھی انہی ماحولیاتی عوامل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا ہم کرتے ہیں۔ یہ ہمیں اس بارے میں مزید سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بلیوں اور انسانوں میں کینسر کیوں پیدا ہوتا ہے، ہمارے ارد گرد کی دنیا کینسر کے خطرے کو کیسے متاثر کرتی ہے، اور ممکنہ طور پر اس سے بچنے اور علاج کے نئے طریقے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔’
