ٹرمپ کی گھبراہٹ بجا ہے

امریکی صدر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ ایران میں جیت رہے ہیں، لیکن وہ اس جنگ کو اس وقت تک ختم نہیں کر سکتے جب تک آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز محفوظ طریقے سے گزر نہ سکیں۔

فی الحال اس کے ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ صدر واضح طور پر ایران میں اپنی جنگ کی میڈیا کوریج پر شدید برہم ہیں۔

معذرت۔ ’جنگ‘ نہیں بلکہ ’مہم‘، ایک ایسا لفظ جو وہ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ گویا یہ کوئی مہذب سیر و تفریح ہو، جیسے کسی بس میں بیٹھ کر سمندر کنارے ایک دن گزارنے جانا۔

گذشتہ ہفتے صدر نے بی بی سی کی کوریج پر بھی تنقید کی (حالانکہ یہ ماننا مشکل ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر اسے زیادہ دیکھتے ہوں) اور شکایت کی کہ اس کی رپورٹنگ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران نے امریکہ کو روک دیا ہے۔

آخر بی بی سی اور دیگر میڈیا یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی مسلح افواج کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، سیاسی قیادت کو ختم کر دیا اور ان کی جنگ کرنے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے؟

اس بات میں کچھ حد تک سچائی ہے، لیکن یہ ایک محدود سچ ہے۔ دراصل، جیسا کہ ٹرمپ جنگ کی تعریف کرتے ہیں، وہ بڑی حد تک درست ہیں۔

ایران کے پاس اب فضائی دفاع نہیں رہا، بحریہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے، رہبر اعلیٰ کو پہلے ہی دن مار دیا گیا اور ان کے جانشین، ان کے بیٹے، اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے۔

لیکن میں اسے محدود بات کیوں کہتا ہوں؟ کیونکہ یہاں ایک نہیں بلکہ دو جنگیں جاری ہیں۔

آخری بار جب میں نے دیکھا، ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر مضبوط گرفت رکھتا ہے، جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے اور امریکہ نے اب تک کوئی جنگی جہاز اس کے قریب لے جانے کی ہمت نہیں کی۔

حکومت گری نہیں، اس کے قریب بھی نہیں اور جو لوگ تہران کی سخت گیر مذہبی حکومت کے خاتمے کے خواہاں تھے، وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری نے شاید ان کے مقصد کو مزید پیچھے دھکیل دیا ہے۔

ایرانی فوج اب بھی خلیجی ممالک اور اسرائیل کی جانب میزائل داغ رہی ہے جبکہ اندرون ملک جبر مزید سخت ہو گیا ہے۔

ایرانی حکمران جانتے ہیں کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن وہ یہی کرنے کی کوشش بھی نہیں کر رہے۔

وہ صرف زندہ رہنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امریکہ اس جنگ کی بھاری معاشی قیمت ادا کرے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ایران کے حکمران خاصی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں۔

اسی لیے محسوس ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں ایک طرح کی گھبراہٹ جھلک رہی ہے۔ ایک دن وہ کہتے ہیں کہ امریکہ ایران کے تمام بجلی گھروں کو تباہ کر دے گا اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی اور آسمان سے تباہی برسائے گا۔

ایران جواب دیتا ہے ’آؤ کر کے دکھاؤ‘ اور 48 گھنٹوں بعد صدر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ایران امن معاہدے کے لیے بے تاب ہے۔

واقعی؟ کون بے تاب ہے؟ اس کا ثبوت کیا ہے؟ اور یہ خیال کہ ایران امریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کا مشترکہ کنٹرول مان لے گا، جیسا کہ ٹرمپ نے کہا، آخر کیوں؟

یہاں ٹرمپ کے انداز بیان کے بارے میں ایک اہم بات ہے۔ اگر ہم کہیں کہ ہم آج رات سنییما جا رہے ہیں تو غالباً ہم واقعی جائیں گے۔

لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ کوئی بات کہتے ہیں تو وہ اکثر اس چیز کی عکاسی ہوتی ہے جو وہ چاہتے ہیں کہ ہو، یا سمجھتے ہیں کہ ہونی چاہیے، نہ کہ جو حقیقت میں ہو رہی ہو۔

وائٹ ہاؤس میں اصل پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ کسانوں کے لیے کھاد کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہو گئی ہیں کیونکہ وہ خلیجی ممالک سے آتی ہیں۔

یعنی ایک ایسی جنگ، جس کے لیے امریکی عوام نے ووٹ نہیں دیا تھا، اب انہیں معاشی طور پر متاثر کر رہی ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ صدر کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔

ایرانی بجلی گھروں پر حملے مؤخر کرنے کے اعلانات بظاہر مارکیٹ کو سنبھالنے کی کوشش لگتے ہیں تاکہ تیل کی قیمتیں کم کی جا سکیں۔

کیا واقعی کسی کو یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہو رہی ہے؟ اس معاشی نکتے پر ایران بخوبی جانتا ہے کہ اس نے ٹرمپ کو دباؤ میں لے رکھا ہے۔

لہٰذا ٹرمپ جتنا چاہیں دعویٰ کریں کہ وہ جیت رہے ہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ حقیقی فتح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تیل بردار جہاز محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزر نہ سکیں۔

یہی وہ دوسرا عنصر ہے جو وائٹ ہاؤس میں تشویش پیدا کر رہا ہے۔ اگر ایران کے لیے آبنائے بند رکھنا اتنا آسان ہے تو امریکہ اسے کیسے کھولے گا؟

صدر ایک ایسی فوجی مہم میں پھنس سکتے ہیں جس سے بچنے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔

82ویں ایئربورن ڈویژن کو تیار رکھا گیا ہے، ممکنہ طور پر خارگ جزیرہ پر قبضے کے لیے، جہاں سے ایران اپنی تیل برآمدات کرتا ہے۔

اس سے امریکہ کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ انتہائی خطرناک ہو گا۔

یا پھر کسی بحری حملے کا منصوبہ، جس کے لیے بڑی تعداد میں امریکی فوج درکار ہوگی۔ اطلاعات ہیں کہ ہزاروں امریکی فوجیوں کو خطے میں تعینات کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ممکن ہے کہ ٹرمپ کی خواہشات حقیقت بن جائیں، شاید۔ لیکن اگر وہ ایران کے ساتھ جلد کوئی اچھا امن معاہدہ نہ کر سکے تو یہ جنگ طویل ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات ہوں گے۔

میں واقعی امید کرتا ہوں کہ صدر درست ہوں جب وہ کہتے ہیں کہ ایران معاہدے کے لیے بے تاب ہے، شکست تسلیم کر چکا ہے، ہتھیار ڈال دے گا اور اپنے جوہری پروگرام سے دست بردار ہو جائے گا۔ لیکن اگر میں اس پر شک کروں تو مجھے معاف کیا جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *