دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد کے سکیورٹی زون پر جمی ہیں، جہاں بند کمروں کے پیچھے ہونے والے ہائی پاور، ہائی سٹیک فیصلے عالمی معیشت کا مستقبل طے کریں گے۔
یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے لیے بلکہ پاکستان کے عالمی سفارتی قد کاٹھ کے لیے بھی تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان ایک غیر جانب دار ریفری کا کردار تو ادا کر رہا ہے، اس سفارتی میچ کے اہم کھلاڑی کون کون ہیں؟
ان مذاکرات میں ایک جانب ہے ٹیم امریکہ، جس میں صدر ٹرمپ کے قریبی ترین حلقے کے تین اہم افراد شامل ہیں۔
جے ڈی وینس (امریکی نائب صدر):
وفد کی قیادت 50 سالہ جیمز ڈیوڈ وینس کر رہے ہیں۔ وینس سابق ملٹری جرنلسٹ ہیں اور انہوں نے سیاست کا آغاز امریکی کی دوسرے ملکوں میں فوجی مداخلت کے سخت نقاد کے طور پر کیا تھا۔ وہ ’ماگا‘ (MAGA) تحریک کے سب سے بڑے علمبرداروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔
وہ ایران پر امریکی حملے کے دوران زیادہ تر پس منظر میں رہے ہیں۔ البتہ اخباری اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ان سے رابطہ رہا ہے جس سے ان مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
سٹیو وٹکوف (خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ):
ریئل سٹیٹ سے وابستہ ارب پتی وٹکوف فروری 2026 میں ہونے والے ان مذاکرات کا حصہ تھے جن کی ناکامی کے بعد جنگ شروع ہوئی تھی۔ ایران ان پر ’غیر روایتی‘ سفارت کاری اور وعدہ خلافی کا الزام لگاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ تہران میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔ تاہم، وہ واشنگٹن کے 15 نکاتی پلان کے اہم خالق ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دنوں میں ان سے بھی رابطے رہے ہیں۔
جیرڈ کشنر
ٹرمپ کے داماد اور افینیٹی پارٹنرز کے بانی جیرڈ کشنر کا عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور قطر کے ساتھ گہرا کاروباری اور سیاسی تعلق ہے۔ وہ ماضی میں ’ابراہیمی معاہدات‘ کے معمار رہے ہیں۔ وہ جنگ سے قبل عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں شامل تھے، اس لیے انہیں بھی ایران میں زیادہ پسند نہیں کیا جاتا، لیکن ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں سفارتی ڈھانچے میں ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔
ٹیم ایران
اور اب ذکر ٹیم ایران کا جس میں جہاں تجربہ کار سفارت کار شامل ہیں، وہی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور مہرے بھی میز پر موجود ہوں گے۔
عباس عراقچی (ایرانی وزیرِ خارجہ)
برطانیہ سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والے عراقچی 2015 کے جوہری معاہدے کے اہم مذاکرات کار رہے ہیں۔ وہ ایران کی خارجہ وزارت میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور انہیں ’سخت مذاکرات کا ماہر‘ مانا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کے سخت گیر طبقوں اور مغرب کے درمیان پل کا کردار سرانجام دے سکتے ہیں۔
عراقچی فروری کے شروع میں عمان میں ہونے والے امریکی ایرانی مذاکرات میں بھی شریک تھے۔
محمد باقر قالیباف (سپیکر پارلیمنٹ)
پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اور رہبرِ اعلیٰ کے معتمدِ خاص، قالیباف کا کردار محض سیاسی نہیں بلکہ عسکری بھی ہے۔ وہ امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونے والے جنرل قاسم سلیمانی کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور حالیہ حملوں میں علی لاریجانی کے قتل کے بعد ان کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ واشنگٹن انہیں ایک ’ہاٹ آپشن‘ کے طور پر دیکھ رہا ہے کیونکہ وہ ایران کے عسکری اور معاشی مفادات کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بات یقینی ہے کہ مذاکرات انتہائی کڑے ہوں گے۔ اطراف اپنے اپنے مطالبوں پر زور دیں گے۔ یہ پاکستان کی سفارت کاری کا بھی امتحان ہے وہ دونوں فریقوں کو کسی درمیانی راہ میں لانے میں کامیاب ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو عالمی سٹیج پر پاکستان کا قد کہیں زیادہ اونچا ہو جائے گا۔
