|
جوں جوں ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے، ایران میں جنگ بندی کے لیے آخری کوششیں جاری ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کی مہلت ختم ہونے میں دو گھنٹے باقی (صبح 5 بجے پاکستان وقت) پاکستان کی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز زیر غور عالمی رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ کی دھمکی کی مذمت، اقوام متحدہ اور پوپ نے اسے ناقابل قبول قرار دیا لائیب اپ ڈیٹس |
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ایران کو خبردار کیا کہ اگر تہران نے ان کی جانب سے رات 3 بجے (پاکستان کا معیاری وقت) تک ان کی ڈیڈلائن تک آبنائے ہرمز کو کھولنے سے انکار کیا تو ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی‘ ختم ہوچکی ہے لیکن پاکستان کی ثالثی میں آخری کوششیں جاری ہیں۔
امریکی صدر کی مقررہ ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل، ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران سفارتی عمل کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان کی درخواست کا مثبت جائزہ لے رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ اس تجویز سے آگاہ ہیں اور اس پر ردعمل دیں گے۔
ٹرمپ کی جانب سے یہ غیر معمولی دھمکی کہ اگر ایران خلیجی تیل کی ناکہ بندی ختم نہیں کی تو اس کے تمام پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا، عالمی رہنماؤں کے لیے تشویش کا باعث بنی، مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی اور اقوام متحدہ کے سربراہ اور پوپ لیو سمیت وسیع پیمانے پر مذمت سامنے آئی۔ کچھ بین الاقوامی قانونی ماہرین کے مطابق شہری بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے تیز ہو گئے، جن میں ریلوے اور پل، ایک ہوائی اڈہ اور ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ نشانہ بنے۔ امریکی افواج نے خارگ جزیرے پر بھی حملے کیے، جہاں ایران کا اہم تیل برآمدی ٹرمینل واقع ہے۔
ایران نے جواباً اعلان کیا کہ وہ خلیجی پڑوسی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے اب مزید گریز نہیں کرے گا اور اس نے خلیج میں ایک جہاز اور سعودی عرب کے ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا۔ روئٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ منگل کی رات دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
چھٹے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں تقریباً ایک درجن ممالک میں 5,000 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں ایران کے 1,600 سے زیادہ شہری شامل ہیں، یہ اعداد و شمار سرکاری ذرائع اور انسانی حقوق کے گروہوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے، جس سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عالمی معاشی سست روی یا حتیٰ کہ کساد بازاری کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے ان کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکیوں کی بڑی اکثریت اس جنگ کی مخالفت کرتی ہے اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے نالاں ہے۔
مذاکرات کی صورت حال غیر واضح
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے، جو ثالثی کر رہے ہیں، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ ٹرمپ کو اپنی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کرنی چاہیے اور ایران کو خیر سگالی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دینی چاہیے۔
مذاکرات کی صورت حال غیر واضح ہے، جبکہ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے ڈیڈ لائن سے تقریباً پانچ گھنٹے قبل بتایا کہ امریکہ اور ایران ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جو دوبارہ کبھی بحال نہیں ہو سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن شاید ایسا ہو جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’تاہم، اب جبکہ مکمل اور جامع نظام کی تبدیلی ہو چکی ہے، جہاں زیادہ سمجھ دار اور کم شدت پسند ذہن غالب ہوں گے، شاید کوئی غیر معمولی مثبت تبدیلی ممکن ہو — کون جانتا ہے؟‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس بیان پر ’شدید تشویش‘ میں مبتلا ہیں۔ پوپ لیو نے ایران کی آبادی کے خلاف دھمکیوں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے ٹرمپ کی دھمکی کو ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ اور ’شدید تشویشناک‘ قرار دیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں، جہاں چین اور روس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر دیا، ایروانی نے کہا کہ ٹرمپ کی زبان کسی بھی سیاسی رہنما کے شایان شان نہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ اسرائیل پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وہ دفاعی و جارحانہ دونوں کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔
ایرانی عوام بھی کسی ممکنہ ریلیف کی امید میں وقت دیکھ رہے تھے۔ اصفہان سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ شیما نے روئٹرز کو فون پر بتایا: ’مجھے امید ہے کہ یہ بھی ٹرمپ کی ایک اور دھمکی ہی ثابت ہوگی۔‘
گذشتہ ہفتوں کے دوران ٹرمپ اس طرح کی دھمکیوں سے اچانک پیچھے ہٹتے رہے ہیں، جن کی وجہ انہوں نے ایران کے بعض نامعلوم افراد کے ساتھ ’تعمیری مذاکرات‘ کو قرار دیا، تاہم تہران نے ایسے کسی بھی سنجیدہ مذاکرات کی تردید کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق قانونی مشیر برائن فینوکیَن کے، جو اب انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ ہیں، مطابق ٹرمپ کے بیانات کو امریکی اور بین الاقوامی قانون کے تحت ’نسل کشی کی دھمکی‘ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
منڈیاں مفلوج
عالمی منڈیاں بڑی حد تک غیر یقینی کا شکار رہیں اور اس بات پر فیصلہ کرنے سے گریزاں دکھائی دیں کہ آیا ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کریں گے یا نہیں۔ ڈیڈ لائن سے قبل کویت کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر آدھی رات سے صبح 6 بجے تک گھروں میں رہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین میں امریکی شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے، مصر میں احتیاط برتنے اور سعودی عرب کا سفر مؤخر کرنے کی ہدایت کی۔
ایران کی برنا نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے اوپر فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے اور لڑاکا طیارے شہر کے اوپر نچلی پروازیں کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے منگل کو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملے کیے اور فارسی زبان میں جاری ایک سوشل میڈیا پیغام میں خبردار کیا کہ ریلوے کے قریب موجود افراد خطرے میں ہوں گے۔
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل نے ان ریلوے لائنوں اور پلوں کو نشانہ بنایا جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں، اسلحہ اور خام مال کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے تھے، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ایران کے امیرکبیر پیٹروکیمیکل پلانٹ پر منگل کی شام امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا، نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب کے صنعتی شہر جبیل میں ایک بڑے پیٹروکیمیکل مرکز کو نشانہ بنایا، جہاں مغربی تیل کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیو میں دھواں اور شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔
