وائرل 7-6 ڈیٹنگ ٹرینڈ کیا ہے؟

یہاں ایک نئے اندازِ تعلق کی بات ہو رہی ہے جو آن لائن کافی مقبول ہو رہا ہے: ’7-6 ڈیٹنگ ٹرینڈ‘۔

اگرچہ اس کا نام اس ’7-6‘ اس الگ ٹرینڈ کی یاد دلاتا ہے جو حالیہ برسوں میں وائرل ہو کر جنریشن ایلفا کی زبان کا حصہ بن چکا ہے، مگر دونوں چیزیں بالکل مختلف ہیں۔

یہ ٹرینڈ لوگوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ ایسے شریکِ حیات یا ساتھی پر غور کریں جو ظاہری کشش کے خودساختہ پیمانے پر درمیانی درجے میں آتا ہو — یعنی 10 میں سے 6 یا 7۔ خیال یہ ہے کہ ایسے ’درمیانی درجے‘ کے افراد زیادہ قابلِ اعتماد، خیال رکھنے والے اور جذباتی طور پر دستیاب ہوتے ہیں، بنسبت ان لوگوں کے جو اس پیمانے پر زیادہ اوپر شمار کیے جاتے ہیں۔

اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ روایتی طور پر بہت زیادہ پرکشش سمجھے جاتے ہیں — یعنی 10 میں سے 10 — وہ اکثر رشتوں میں کم سنجیدہ یا کم توجہ دینے والے ہوتے ہیں، کیونکہ زیادہ پسندیدگی انسان کو خودپسندی کی طرف لے جا سکتی ہے اور جذباتی توجہ دینے کی ضرورت کم کر دیتی ہے۔ اس طرح، بظاہر 6 یا 7 کا انتخاب طویل مدتی مطابقت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔

پیشہ ور میچ میکر اور کمپنی ایکسکلوسو میچ میکنگ کی سی ای او سوزن ٹرومبیٹی کے مطابق اس رجحان کا بنیادی خیال یہ ہے کہ ’اگر آپ نسبتاً کم پرکشش شخص کو منتخب کریں گے تو وہ رشتے میں زیادہ سنجیدہ اور شکر گزار ہوگا، جبکہ ایک ’10‘ کے پاس زیادہ انتخاب ہوتے ہیں۔‘

اس ڈیٹنگ کے کچھ فائدے بھی ہیں، خاص طور پر یہ کہ یہ ظاہری چیزوں — جیسے کسی کی شکل و صورت — کو کم اہمیت دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ ماہرِ تعلقات اور لوما لگزری میچ میکنگ کے بانی اپریل ڈیوس کے مطابق، ’یہ لوگوں کو فوری کشش اور ’پہلی نظر کی محبت‘ کے پیچھے بھاگنے سے روکتا ہے، جو ایک مثبت بات ہے۔ بہت سے لوگ فوری کیمسٹری کو بڑھا چڑھا کر دیکھتے ہیں اور طویل مدتی مطابقت کی حقیقی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔‘

حال ہی میں اس موضوع پر ایک ٹی وی پروگرام فاکس اینڈ فرینڈز میں گفتگو ہوئی، جہاں ایک مبصر نے اسے لوگوں کی طرف سے ’اپنے معیار کم کرنے‘ اور خوابوں کے ساتھی کا انتظار چھوڑ دینے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’میرا خیال ہے کہ ہر شخص کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اس کا ساتھی 10 ہے۔ اگر میرا کوئی ساتھی ہو اور وہ کہے کہ ’تم 10 نہیں ہو‘ تو پھر وہ میرا ساتھی نہیں رہے گا۔ اگر لوگ کسی رشتے میں ہیں یا تلاش کر رہے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ تین یا چار اہم چیزیں منتخب کریں جو ان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوں، اور انہی پہلوؤں میں ایک ’10‘ تلاش کریں۔‘

اس رجحان پر دیگر تنقیدیں اس سے بھی زیادہ گہری ہیں۔ اس کی سب سے بڑی خامیوں میں سے ایک یہ مفروضہ ہے کہ صرف اس لیے کہ کوئی شخص روایتی طور پر ’خوبصورت‘ ہے، وہ لازماً پختگی یا وہ جذباتی خصوصیات نہیں رکھتا جو اسے ایک اچھا ساتھی بناتی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرومبیٹی کے مطابق یہ ایک دقیانوسی سوچ ہے، اور ’10‘ بھی بہترین ساتھی ہو سکتا ہے، جبکہ آپ 6 یا 7 میں موجود خطرے کی علامتوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔ یہ ایک اچھا تصور ہے، لیکن حقیقت میں مضبوط نہیں ہے۔‘

ٹرومبیٹی اس خیال کو بھی رد کرتی ہیں کہ ظاہری خوبصورتی اور جذباتی پختگی کے درمیان کوئی تعلق ہے، جیسا کہ 6-7 ٹرینڈ ظاہر کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’ایک خوبصورت شخص بھی جذباتی طور پر دستیاب، بالغ اور جذباتی طور پر جڑنے کے قابل ہو سکتا ہے، جبکہ کم خوبصورت شخص ایسا نہ بھی ہو۔ یہ محض ایک عمومی بات ہے۔‘

تو پھر آخر ہم اس طرح کے ڈیٹنگ رجحان کی طرف کیوں متوجہ ہو رہے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ ان سنگلز کی ایک بے بسی کی کیفیت ہے جو ڈیٹنگ کا ایک واضح اور سیدھا طریقہ چاہتے ہیں جو انہیں جذباتی طور پر تھکا نہ دے۔

ڈیوس کہتی ہیں کہ ’6-7 ٹرینڈ دراصل ڈیٹنگ ایپس اور ڈیجیٹل ڈیٹنگ کے خلاف ایک ردِعمل ہے۔ سنگلز کوئی ایسا طریقہ چاہتے ہیں جو ان کے ذہن میں کارآمد لگے۔ اگرچہ مجھے لگتا ہے کہ یہ سننے میں اچھا لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ صرف نظریاتی حد تک درست ہے۔ البتہ، اس کے مثبت پہلوؤں کو آپ اپنی تلاش میں شامل کر سکتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں، ’جب آپ اس طرح کا مفروضہ قائم کرتے ہیں تو آپ اُن لوگوں کو فلٹر کر دیتے ہیں جو حقیقت میں ایک بہترین جوڑی بن سکتے ہیں۔ آپ فیصلے تعصب کی بنیاد پر کر رہے ہوتے ہیں، حقیقت کی بنیاد پر نہیں۔‘

واقعی، تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان افراد محبت تلاش کرنے کے معاملے میں نہ تو پُراعتماد ہیں اور نہ ہی زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انسٹیٹوٹ آف فیملی سٹڈیز  کے 2025 کے نیشنل ڈیٹنگ لینڈ سکیپ سروے میں، جس میں 22 سے 35 سال کی عمر کے 5,275 غیر شادی شدہ نوجوانوں سے سوالات کیے گئے، 74 فیصد خواتین اور 64 فیصد مردوں نے کہا کہ انہوں نے پچھلے سال میں یا تو ڈیٹ نہیں کیا یا بہت کم کیا۔ صرف ہر تین میں سے ایک فرد نے کہا کہ اسے اپنی ڈیٹنگ صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔

لوگ اس اندازِ ڈیٹنگ کی طرف اس لیے بھی مائل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پچھلے تعلقات کا جذباتی بوجھ ہوتا ہے، جیسے حل نہ ہونے والے صدمات یا اپنی ظاہری شکل کے بارے میں عدم تحفظ۔

ڈیوس کہتی ہیں کہ اس نظریے کو دل ٹوٹنے کے بعد ایک دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’یہ لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’میں اب کمرے میں موجود سب سے زیادہ پرکشش اور پرجوش شخص کے پیچھے نہیں بھاگوں گا اگر اس کا نتیجہ صرف دل ٹوٹنا ہو۔‘ لوگ اپنے سکون کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کو ایک عدد تک محدود کرنا ڈیٹنگ کو اب بھی سطحی ہی رکھتا ہے۔‘

6-7 ڈیٹنگ ٹرینڈ دراصل ناکام تعلقات کے بعد آگے بڑھنے اور وقت ضائع نہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اور جب سنگلز زیادہ سنجیدگی کے ساتھ حقیقی تعلق تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو ڈیوس انہیں مشورہ دیتی ہیں کہ وہ اس رجحان کے پیچھے موجود خیالات کو نئے انداز میں سمجھیں، بجائے اس کے کہ اسے جوں کا توں اختیار کریں۔

ڈیوس کہتی ہیں، ’استحکام کو اہمیت دینا درست ہے، لیکن جس طرح لوگ اس کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور اسے پرکھ رہے ہیں وہ غلط ہے۔ ایک صحت مند تعلق کے لیے آپ کو ’کم تر‘ انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کو بہتر انتخاب کرنا ہے — رویّے کی بنیاد پر، نہ کہ اس مفروضے پر کہ کسی کی شخصیت اور اقدار اس کی ظاہری شکل سے طے ہوتی ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *